برطانیہ: ہیتھرو ہوائی اڈے سے یورینیم برآمد ہونے کے بعد ایک شخص گرفتار

0 19

لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر کارگو پیکج میں یورینیم برآمدگی سے متعلق جاری تحقیقات میں 60 سالہ شخص کو گرفتار کرلیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق برطانیہ کی میٹروپولیٹن پولیس نے بتایا اس شخص کو ہفتے کے روز دہشت گردی کے جرم کے شبہے میں تفتیش کے لیے گرفتار کیا گیا تھا جسے ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

لندن پولیس کے انسداد دہشت گردی کمانڈ کے سربراہ رچرڈ اسمتھ نے کہا کہ گرفتاری کے باوجود یہ واقعہ عوام کے لیے براہ راست کسی خطرے کے باعث نہیں ہے۔

افسران نے چیشائر سے ایک شخص کو حراست میں لیا اور اسے شمال مغربی انگلینڈ کے پولیس اسٹیشن لے گئے جہاں بعد ازاں اسے اپریل تک ضمانت پر رہا کر دیا گیا۔

واضح رہے کہ گزشتہ ہفتے سامنے آنے والی رپورٹ کے مطابق پولیس نے کہا تھا 29 دسمبر کو معمول کی تلاشی کے دوران سرحدی ایجنٹوں کو یہ پیکج ملا تھا جس میں معمولی مقدار میں یورینئم بر آمد ہوئی تھی۔

خبرایجنسی کی رپورٹ میں بتایا گیا تھا کہ برطانوی پولیس نے کہا ہے کہ لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ سے قبضے میں لیے گئے یورینیم پیکج سے متعلق تحقیقات کا آغاز کردیا گیا۔

یہ خبر سب سے پہلے رپورٹ کرنے والے برطانوی اخبار ’دی سن‘ کی رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ یہ پیکج پاکستان سے روانہ ہوا تھا اور عمان سے آنے والی پرواز کے ذریعے برطانیہ پہنچا، تاہم ترجمان دفتر خارجہ نے اس معاملے پر رد عمل دیتے ہوئے کہا تھا کہ برطانوی ایئرپورٹ پر ضبط کیے گئے مبینہ ’یورینیم پیکج‘ کے حوالے سے رپورٹس حقائق پرمبنی نہیں ہیں۔

لندن کے ہیتھرو ایئرپورٹ پر پکڑے گئے مبینہ یورینیم پیکج کے حوالے سے ترجمان دفتر خارجہ ممتاز زہرہ بلوچ نے غیر ملکی خبر ایجنسی ’رائٹرز‘ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا تھا کہ ہم نے میڈیا رپورٹس دیکھی ہیں اس سلسلے میں کوئی بھی معلومات ہمارے ساتھ باضابطہ طور پر شیئر نہیں کی گئیں، ہمیں یقین ہے کہ رپورٹس حقائق پر مبنی نہیں ہیں۔

خیال رہے کہ عالمی سطح پر یورینیم سمیت خطرناک مادوں کی ایک جگہ سے دوسری جگہ منتقلی سخت پروٹوکول اور شرائط کے تحت کی جاتی ہے۔

یورینیم تابکار مادہ ہے جو قدرتی طور پر پایا جاتا ہے۔ اسے جب افزودہ کرلیا جائے تو یہ جوہری ہتھیاروں میں استعمال کیا جاسکتا ہے۔

یورینیم کی افزودگی کا عمل سینٹری فیوجز کے ذریعے ہوتا ہے۔ یہ ایسی مشینیں ہیں جو سپرسانک رفتار سے گھومتی ہیں۔

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.