بھارت: سو سے زائد خواتین کا ریپ کرنے والے جعلی عامل کو 14 سال قید

0 9

بھارتی ریاست ہریانہ کی مقامی عدالت نے سو سے زائد خواتین کو ریپ کا نشانہ بناکر ان کی وڈیوز بنانے والے خود ساختہ جعلی عامل کو 14 برس قید کی سزا سنادی۔

بھارتی نشریاتی ادارے ’انڈیا ٹو ڈے‘ کی رپورٹ کے مطابق ہریانہ کے علاقے فتح آباد کی مقامی عدالت نے سو سے زائد خواتین کو ریپ کا نشانہ بنا کر اس عمل کی وڈیوز بنانے والے خود ساختہ جعلی عامل امر پوری المعروف ’جلیبی بابا‘ کو 14 برس قید کی سزا سنادی۔

فتح آباد کے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ جج بلونت سنگھ نے 63 سالہ امر پوری کو بچوں سے جنسی جرائم سے تحفظ دینے کے قانون کے تحت 14 سال، ضابطہ فوجداری کے تحت دو ریپ کیسز میں بالترتیب 7 سال اور آئی ٹی ایکٹ کے تحت 5 سال قید کی سزا سنائی، تاہم جعلی عامل کو اسلحہ کیس سے بری کردیا گیا۔

رپورٹ کے مطابق ’جلیبی بابا‘ کسی پریشانی کی صورت میں مدد کے لیے رجوع کرنے والی خواتین کو نشہ دے کر ان کا ریپ کرکے برہنہ وڈیوز بناتا تھا اور پھر متاثرہ خواتین کو بلیک میل کرتا تھا کہ اگر پیسے نہ دیے گئے تو وہ وڈیوز جاری کردے گا۔

متاثرین کے وکیل سنجے ورما نے کہا کہ ملزم کو تمام سزائیں ایک ساتھ ہوں گی اور جعلی عامل 14 سال جیل میں گزارے گا۔

فتح آباد کی عدالت نے 5 جنوری کو خود ساختہ عامل امرپوری کو ریپ کیسز کے الزامات میں مجرم قرار دے دیا تھا۔

رپورٹ کے مطابق متعدد خواتین میں سے 6 متاثرہ خواتین بطور متاثرہ عدالت میں پیش ہوئیں اور عدالت نے ان کے بیانات کی بنیاد پر فیصلہ سنایا۔

معاملہ کیا ہے؟

رپورٹ کے مطابق ہریانہ پولیس نے 2018 میں ملزم امرپوری کو فتح آباد کے ٹوہانہ قصبے سے گرفتار کیا تھا اور اس کے موبائل فون سے 120 مبینہ جنسی وڈیو کلپس برآمد ہوئی تھیں۔

فتح آباد پولیس کے خواتین سیل کی انچارج بملا دیوی نے تصدیق کی تھی کہ ملزم امرپوری کے موبائل فون سے 120 برہنہ وڈیو کلپس برآمد ہوئی تھیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ تحقیقات کے دوران یہ بات سامنے آئی کہ خواتین اپنے مسائل کے حل کے لیے امرپوری سے رجوع کرتی تھیں کیونکہ ملزم نے تانترک کے طور پر شہرت حاصل کی تھی۔

رپورٹ کے مطابق ملزم مبینہ طور پر خواتین کو نشہ دے کر ریپ کا نشانہ بناتا تھا جس کے بعد ان کی برہنہ وڈیوز بناتا تھا اور ان وڈیوز کی بنیاد پر متاثرہ خواتین کو پیسے نہ دینے کی صورت میں وڈیوز ریلیز کرنے کی دھمکی دے کر بلیک میل کرتا تھا۔

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.