امریکا کی ترجیح افغانستان کو پاکستان پر حملوں کا ’لانچ پیڈ‘ نہ بننے دینا ہے، نیڈ پرائس

0 16

ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نیڈ پرائس نے کہا ہے کہ امریکا کی ترجیح اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ دہشت گرد اور دیگر قوتیں افغانستان کو پاکستان پر حملوں کے لیے لانچ پیڈ کے طور پر استعمال نہ کر سکیں۔

نیڈ پرائس کی جانب سے یہ بیان پریس بریفنگ کے دوران سوال کے جواب میں سامنے آیا جس میں ان سے افغانستان میں پُرتشدد واقعات میں اضافے اور تحریک طالبان پاکستان، القاعدہ، داعش و دیگر دہشت گرد گروہوں کو محفوظ پناہ گاہیں نہ فراہم کرنے میں طالبان کی ناکامی کے بارے میں پوچھا گیا۔

نیڈ پرائس نے صدر جو بائیڈن کے اس عزم کو دہرایا کہ اگر افغانستان میں عالمی دہشت گردوں کو دوبارہ منظم ہوتے دیکھا تو امریکا کارروائی کرے گا۔

انہوں نے کہا کہ اگست میں ڈرون حملے میں القاعدہ رہنما ایمن الظواہری کی ہلاکت کی صورت میں امریکا نے دہشت گردوں کے خلاف کارروائی کے لیے اپنی صلاحیتوں کا مظاہرہ کیا۔

نیڈ پرائس نے کہا کہ افغان طالبان ان وعدوں کو پورا کرنے میں ناکام رہے یا وہ انہیں پورا کرنے کے اہل نہیں جو کہ انہوں نے متعدد شعبوں کے حوالے سے کیے تھے۔

انہوں نے مزید کہا کہ امریکا کا وسیع تر مقصد اس بات کو یقینی بنانا ہے کہ دہشت گرد اور دیگر قوتیں افغانستان کو پاکستان پر حملوں کے لیے لانچ پیڈ کے طور پر استعمال نہ کر سکیں۔

ان کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی اور اس جیسے دیگر دہشت گرد گروہ بھی دوبارہ متحرک ہوگئے ہیں، ہم خطے میں دہشت گردی کے خلاف پاکستان سمیت اپنے دیگر شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔

ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے کہا کہ خطے میں اس دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے جو کچھ ہم کر سکتے ہیں کریں گے جس کے اثرات خطے سے باہر تک پھیلے ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ امریکا، پاکستان کے ساتھ اپنے دوطرفہ تعلقات کو اہمیت دیتا ہے، خطے میں پاکستان سمیت اپنے دیگر شراکت داروں کے ساتھ کام کرنے کے لیے امریکا پُرعزم ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ ہم ان شعبوں میں تعاون کے مواقع بڑھانے کا خیر مقدم کرتے ہیں جو ہمارے اور پاکستان کے لیے باہمی مفاد کے لیے اہم ہیں، اس میں دہشت گردی کے خلاف تعاون بھی شامل ہے۔

نیڈ پرائس نے کہا کہ ’پاکستان کو انٹرنیشنل ملٹری ایجوکیشن اینڈ ٹریننگ پروگرام کے تحت امداد فراہم کی جاتی ہے، یہ پروگرام پیشہ ورانہ عسکری تعلیم، آپریشنل اور تکنیکی کورسز فراہم کرتا ہے جو خطرات سے نمٹنے کے لیے پاکستان کی صلاحیتوں کو مضبوط بناتا ہے‘۔

انہوں نے کہا کہ یہ پروگرام دوطرفہ تعلقات کو بڑھانے کے لیے جاری ہے جو کہ دونوں ممالک کے درمیان عسکری تعاون کو مستحکم کرتا ہے۔

سابق سفیر ڈاکٹر اسد مجید خان کو پاکستان کا سیکریٹری خارجہ تعینات کیے جانے کے حوالے سے عمران خان کے الزامات کے تناظر میں سوال کے جواب میں نیڈ پرائس نے کہا کہ ’ہم نے ان جھوٹی اور من گھڑت افواہوں کی مسلسل تردید کی ہے، ہمارا مفاد صرف پاکستانی عوام اور پاکستان کے آئینی نظام کا مفاد ہے۔

انہوں نے وضاحت کی کہ ’ہم کسی ایک امیدوار یا کسی ایک شخصیت کو دوسرے پر ترجیح نہیں دیتے، ہم جس چیز کے حق میں ہیں وہ پاکستان کا آئینی نظام ہے‘۔

ترجمان امریکی محکمہ خارجہ نے افغانستان میں طالبان کی جانب سے ایک ملزم کو سرعام سزائے موت دیے جانے کے واقعے کی مذمت کرتے ہوئے اسے ’مایوس کن‘ قرار دیا۔

انہوں نے کہا کہ ’ہم نے یہ تشویش ناک ویڈیوز دیکھی ہیں جو حالیہ روز میں آن لائن گردش کر رہی ہیں، یہ واقعہ ظاہر کرتا ہے کہ طالبان 1990 کی دہائی کے دوران اپنے جابرانہ اور قدامت پسندانہ رویے کی سمت واپس جانا چاہتے ہیں‘۔

ان کا کہنا تھا کہ ’یہ اس وقت بھی تمام افغان عوام کے وقار اور انسانی حقوق کی توہین تھی اور یہ اب بھی تمام افغانوں کے وقار اور انسانی حقوق کی توہین سمجھی جائے گی، یہ طالبان کی جانب سے اپنے وعدوں کی پاسداری میں واضح ناکامی ہے‘۔

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.