Apnon Ka Zulm Teen aurtein Teen kahaniyan

0 12

بھائی معین ان دنوں نویں جماعت کے طالب علم تھے جب ان کی نسبت میری ماموں زاد بہن نائلہ سے کر دی گئی۔ بھائی معین نے میٹرک امتیازی نمبروں سے پاس کر لیا، نائلہ بھی مڈل تک پہنچ گئی۔ سب سے بڑے بھائی ارشد کویت میں ملازمت کرتے تھے۔ تنخواہ اچھی تھی۔ ابو بھی ایک چھوٹی سی دکان چلاتے تھے۔ گھر میں خوشحالی تھی اور ہم آرام سے رہ رہے تھے۔ اس بار جب ارشد بھائی چھٹی پر گھر آئے تو ان کی شادی کی بات چل نکلی۔ نائلہ کی بڑی بہن آصفہ کا ابھی کہیں رشتہ نہیں ہوا تھا۔ میرے والدین نے سوچا کہ جب چھوٹی کو بہو بنا رہے ہیں تو ارشد کے لئے آصفہ کا رشتہ کیوں نہ لے لیں۔ دونوں بہن ایک گھر میں آجائیں گی تو جٹھانی، دیورانی بن کر صلح سے رہیں گی اور ہمارے بیٹوں کو آپس میں جدا نہ کریں گی۔ پس اپنوں کی محبت میں وہ ایک بار پھر ماموں ممانی کے پاس رشتہ لے کر گئے اور بڑے بھائی کے لئے آصفہ کا ہاتھ مانگ لیا۔ آصفہ کے والدین بھلا کیوں انکار کرتے۔ معین بھائی ابھی پڑھ رہے تھے ،ارشد بھائی تو پھر کویت میں کما رہے تھے اور انہی کے دم سے ہمارے گھر میں دولت کی ریل پیل تھی۔ پس ماموں اور ممانی نے جھٹ پٹ ہاں کہہ دی۔ یوں ارشد بھائی اور آصفہ کی شادی ہو گئی۔ امی ابو بہت خوش تھے کہ دونوں لڑکیاں ایک ہی گھر سے ہیں۔ معین بھائی البتہ ماموں کے گھر سے رشتہ لینا نہ چاہتے تھے۔ ان کا خیال تھا۔ پہلے بہنوں کی شادیاں ہو جائیں تو وہ بعد میں گھر بسائیں گے۔ تاہم امی ابو کی خوشی کی خاطر انہوں نے آصفہ سے شادی کر لی۔ یہ ہمارے گھر کی پہلی خوشی تھی۔ بھائی نے کافی روپیہ کمایا ہوا تھا۔ شادی بڑی دھوم دھام سے ہوئی۔ اپنے بھائی کو دولہا بنا دیکھ کر ہمارے دلوں میں خوشی کے چراغ جگمگا اٹھے تھے۔ آصفہ کو پیاری بھابی کہتے ہماری زبان نہ تھکتی تھی۔ ارشد بھائی جو پہلے ان کے ساتھ شادی سے کترا رہے تھے ، اب ہر پل ان ہی کے ہو کر رہ گئے۔ ہم سب نے جانا کہ ان کی چھٹی ختم ہونے والی ہے تبھی اپنی نئی نویلی دلہن کے ساتھ زیادہ سے زیادہ وقت گزارنا چاہتے ہیں۔ چھٹی ختم ہوئی اور ارشد بھائی واپس کویت چلے گئے۔ اس دفعہ وہاں ان کا دل نہ لگا۔ وہ بار بار واپس آنے کی بات کرتے ۔ ابو نے بھی کہا کہ آجائو ، بہت کما لیا۔ اب اپنے وطن میں رہو، اپنا گھر بار بسائو۔ وہ تو پہلے ہی بیوی کی محبت میں بے قرار تھے ، فورا کویت چھوڑ کر آ گئے۔ یہاں آتے ہی ان کو ایک اچھی فرم میں جاب مل گئی۔ آصفہ بھابی پہلے تو خاموش رہتی تھیں، ہم بھی یہی سمجھتے تھے کہ نئی نئی ہیں تبھی حجاب کرتی ہیں لیکن ان کی فطرت ہی الگ تھی۔ جب بھائی کویت سے آگئے ، تب ان کے تیور کھلے ، اب تو ان کے مزاج ہی نہیں ملتے تھے۔ وہ بات بات پر میری ماں کی بے عزتی کرنے لگیں۔ بڑی ہونے کا فائدہ اٹھاتے ہوئے ہم تینوں بہنوں کو بھی ڈپٹ دیتیں، یہاں تک کہ ابو اگر سمجھانے کی کوئی بات کرتے تو ان کے آگے زبان چلانے سے باز نہ آتیں۔ انہوں نے میرے بھائی کو دبا کر رکھا ہوا تھا کہ وہ بیوی کی سرزنش بھی نہ کر سکتے تھے۔ ایک دن وہ بھائی سے کہنے لگیں۔ یہ مکان تو تم نے اپنے پیسوں سے بنوایا ہو گا تو یہ لوگ اس میں کب تک رہیں گے ، ان کو اب اپنا الگ مکان لے لینا چاہئے۔ بھائی ، بیوی کی بات سن کر خاموش ہو گئے ، حالانکہ ان کو بھابی کو ڈانٹ دینا چاہئے تھا کیو نکہ مکان میں ابو نے اپنی کمائی لگائی تھی اور ارشد بھائی نے بعد میں پرانا گھر گرا کر اپنا مکان تعمیر کرایا تھا، پلاٹ تو ابو کا تھا اور مکان بھی ان کے ہی نام تھا جس میں ہمارا بھی حصہ تھا۔ ایک دن تو آصفہ نے انتہا کر دی۔ کہنے لگی۔ ارشد ! اس گھر میں میں رہوں گی یا پھر تمہارے ماں باپ بہن بھائی، ورنہ میں میکے چلی جائوں گی۔ بیٹا جتنا بھی نا فرمان ہو ، وہ کیونکر اپنے والدین کو گھر سے چلے جانے کا کہہ سکتا ہے۔ آصفہ بھابی اس بات پر روٹھ کر میکے چلی گئیں۔ کچھ دنوں بعد ارشد بھائی بیوی کو منانے اس کے میکے گئے۔ ساس سسر نے جانے کیا کہا کہ واپس آکر بولے۔ آپ لوگ بے شک اس گھر میں رہیں لیکن مجھ کو میرا حصہ دے دیں، میں بیچ کر الگ مکان بنا کر رہوں گا۔ والد یہ بات سن کر پریشان ہو گئے۔ وہ اس گھر کے حصے بخرے کرنے بارے میں سوچ بھی نہ سکتے تھے۔ کافی سوچ بچار کے بعد والد صاحب نے دکان فروخت کر دی اور جو رقم ان کے پاس تھی، سب اکٹھا کر کے بھائی ارشد کو دے کر کہا کہ بیٹا تم حساب کر لو اور اپنا حصہ رقم کی صورت میں لے لو۔ مکان میں باقی بچے بھی حق دار ہیں، بیٹیاں ابھی بن بیاہی ہیں اور معین طالب علم ہے، میں سارا کنبہ لے کر کہاں جائوں گا۔ بھائی نے رقم لے لی لیکن والد نے ان سے مکان کے حصے کی رقم دے کر تحریر لکھوانے کی ضرورت محسوس نہ کی۔ بیٹے پر اعتبار کیا۔ ارشد بھائی کا سالا محکمہ مال میں ملازم تھا، اس نے ان کو پٹی پڑھائی اور یوں بھائی نے والد کی جو تھوڑی بہت زرعی اراضی تھی ، سب اپنے نام کروالی جس کا علم ابو کو نہ ہوا اور جس مکان میں ہم رہتے تھے ، بھاری رشوت دے کر وہ بھی اپنے نام کروا لیا۔ جب ابو کو معلوم ہوا، وہ درستگی کرانے کو دھکے کھانے لگے۔ باقی ساری باتیں تو معین بھائی کے سامنے ہو رہی تھیں لیکن ابو نے مکان کی بات اس سے پوشیدہ رکھی کیونکہ وہ پڑھ رہا تھا اور جذباتی بھی بہت تھا۔ ہمیں پریشان دیکھ کر وجہ پوچھتے تو ہم بھی نہ بتاتے۔ جب دکان بک گئی تو ذریعہ معاش بھی جاتا رہا۔ بڑے بھائی تھوڑا بہت   خرچہ امی کو دے رہے تھے لیکن ابو بہت خفا تھے، انہوں نے ارشد بھائی سے یہ خرچہ لینے سے انکار کر دیا۔ معین کے تعلیمی اخراجات بھی بڑے بھائی ہی دے رہے تھے۔ جونہی اس نے ایف اے پاس کیا، بھابی نے بھائی جان سے کہہ کر تعلیمی اخراجات بند کروا دیئے۔ مجبوراً معین بھیا کو پڑھائی چھوڑنا پڑ گئی۔ بھائی نے کہا کہ اب نوکری تلاش کر لو ، آگے پڑھنے کا کوئی فائدہ نہیں۔جب مکان بھائی کے نام ہو گیا تو بھابی نے مزید پریشان کرنا شروع کر دیا کہ اب یہ مکان چھوڑ دو یہ میرے شوہر کا گھر ہے۔ ادھر یہ پریشانی، ادھر معین کو نوکری کی تلاش میں دھکے کھانے پڑ گئے۔ آخر اللہ نے کرم کیا اور اسے ایک اسکول میں معلم کی ملازمت مل گئی۔ یوں ڈوبتے کو تنکے کا سہارا ملا اور تھوڑی سی مالی سہولت نصیب ہو گئی۔ معین بھائی کے دوست کے والد بہت بیمار تھے۔ ان کے علاج معالجے کی خاطر وہ اپنا پلاٹ بیچنا چاہتا تھا۔ یہ چھوٹا سا پلاٹ صرف تین مرلے کا تھا۔ اس نے معین سے کہا کہ میں تم کو کچھ کم پیسوں میں دے دوں گا اگر تم اپنے لئے خرید لو۔ امی نے ہم بہنوں کے لے بنوائے زیور فروخت کر کے رقم معین کو دی کہ پلاٹ خرید لو۔ یہ سستا مل رہا ہے، تمہاری بھابی ایک دن ہم کو گھر سے باہر کر کے دم لے گی، تب ہم کہاں جائیں گے ۔ معین بھائی نے پلاٹ خرید لیا اور پھر قرض لے کر اس کو بنوانا شروع کر دیا تا کہ دو کمرے ہی ڈال لیں تو یہ روز کی چیخ چیخ بند ہو۔ بھابی کو بڑی خوشی ہوئی کہ ان کا مکان بن رہا ہے اور اب یہ چلے جائیں گے ، کہتیں کہ پکے کمرے بنوانے کی کیا ضرورت ہے، گزارے لائق چھپر ڈال کر شفٹ ہو جائو پھر رفتہ رفتہ بناتے رہنا۔ قرض لے کر بنوا رہے تو کب قرضہ اتارو گے ؟ معین نے ان کی نہ سنی۔ ہمارے حالات دیکھ کر تایا ابو اور ان کے بیٹے نے ہمیں قرضہ دیا تھا کہ جوں جوں پیسے آتے جائیں، قرضہ اتارتے رہنا۔ دراصل تایا ابو بھی اپنے بیٹے کے لئے میرا رشتہ لینا چاہتے تھے۔ بہر حال مکان میں تھوڑا کام باقی تھا کہ ابو بیمار ہو گئے ، کام رک گیا تو بھابی نے معین سے کہا کہ بہت کر لیا بڑے بھائی کی کمائی پر عیش۔ اب مزید یہاں ٹھہرنے کے بہانے مت ڈھونڈو اور زیر تعمیر گھر میں شفٹ ہو جائو۔ اس بات پر معین کو غصہ آگیا اور جھگڑا ہو گیا کہ بیمار باپ اور جوان بہنوں کو لے کر زیر تعمیر گھر میں کیسے جائوں ۔ آپ سے اگر صبر نہیں ہوتا تو خود جائو ، جہاں رہنا ہے۔ جب چھوٹا دیور بھابی سے اونچا بولنے لگا تو ارشد بھائی سے برداشت نہ ہوا، انہوں نے چھڑی اٹھا کر معین کے دو چار لگا دیں کہ بڑی بھابی سے بدتمیزی کر رہے ہو ، شرم نہیں آتی۔ شرم تو ان کو نہیں آتی جو میرے بیمار باپ کو بیماری کی حالت میں نکلنے کو کہتی ہیں جبکہ ان کو دمے کی تکلیف ہے اور وہاں زیر تعمیر گھر میں سیمنٹ بجری مٹی پڑی ہوئی ہے۔ آپ ان کے پیچھے اندھے ہو رہے ہیں، آپ کو کیوں باپ کی بیماری نظر نہیں آ رہی۔ بس پھر کیا تھا ارشد بھائی آپے سے باہر ہو گئے اور معین کو مارنے کو چھری اٹھالی۔ اماں چیخنے لگیں اور ہم بہنیں شور مچاتی ہوئی معین بھائی سے لپٹ گئیں کہ کہیں اسے چھری نہ لگ جائے۔ شور سن کر پڑوسی آگئے تو آصفہ بھابی زار و قطار رونے لگیں۔ بھائی نے بھی چھری چھپالی۔ انہوں نے پڑوسیوں سے کہا کہ معین ان کو مارنے لگا تھا، بڑے بھائی نے روکا تبھی ان کا جھگڑا ہو گیا۔ امی ابو ارشد بھائی کے خلاف پڑوسیوں سے ایک لفظ نہ بولے۔ بھابی کو روتے دیکھ وہ یہی سمجھے کہ معین کا ہی قصور ہوگا، چھوٹا دیور ہو کر بڑی بھابی پر ہاتھ اٹھاتا ہے، وہ اسی کو لعن طعن کر کے چلے گئے۔ والد صاحب نے بہو اور بیٹے سے کچھ نہ کہا، ہم سے کہا کہ سامان باندھو اور نئے گھر چلو۔ میں اتنا بیمار بھی نہیں کہ مر جائوں۔ یوں ہم نے وہ گھر چھوڑ دیا جس کو ہم ہمیشہ اپنا گھر سمجھتے رہے تھے۔ کس دل سے اس گھر سے نکلے تھے، یہ تو ہمارا دل ہی جانتا ہے۔ کچھ دنوں بعد امی نے معین سے کہا کہ تو جا کر بھائی اور بھابی سے معافی مانگ لو ، اس نے تم کو پڑھایا ہے اور بھابی کی بہن سے نسبت طے ہے۔ یہ سنتے ہی معین بھائی بھڑک اٹھا۔ اس نے کہا۔ ایک کے ستم سہ کر دل نہیں بھرا، جو اسی گھر سے دوسری لڑکی کو بہو بنا کر لانے کے خواب دیکھ رہی ہیں، میں ہرگز اب نائلہ سے شادی نہیں کروں گا۔ ہم کو اس حال تک پہنچانے والے آپ کے بھائی اور بھابی ہی تو ہیں، اگر وہ بیٹی کو سمجھاتے تو آج ہم اس طرح برباد ہو کر اپنے گھر سے بے دخل نہ ہوتے۔ خدا کی کرنی کہ ہمارے تایا کے منجھلے بیٹے جو دبئی میں کام کرتے تھے ، وہ آگئے۔ ہمارے گھر بھی آئے ، حالات دیکھے تو معین سے کہا کہ میرے ساتھ دبئی چلو، میں وہاں تمہارے لئے روزگار کا بندوبست کرتا ہوں، میرے پاس رہائش رکھنا۔ صفدر بھائی کی دبئی میں ایک بڑی کمپنی میں ملازمت تھی ، وہ انجینئر تھے۔ پس وہ معین کو دبئی لے گئے اور اچھی تنخواہ پر ملازمت کروا دی۔ پانچ سال معین نے وہاں رہ کر کافی رقم کمائی۔ میری بڑی بہن کی شادی کی ، مکان مکمل کیا، اوپر کی منزل پر بھی دو کمرے بنوا دیئے۔ میری بھی شادی کی تیاریاں شروع تھیں۔ جب اس بار معین گھر آیا تو سب سے پہلے جو رشتہ دار ملنے آئے وہ بھابی آصفہ کے ماں باپ یعنی ہمارے ماموں اور ممانی تھے۔ صاف ظاہر تھا کہ وہ اب نائلہ کا رشتہ دینا چاہتے تھے کہ وہ ان کے لئے کمائو تھا اور اب وہ اس کو نظر میں رکھے ہوئے تھے ، پھر سے نیا تعلق جوڑنا چاہتے تھے۔ انہوں نے امی کو دوبارہ شیشے میں اتار لیا اور نائلہ کے رشتے کے لئے مجبور کرنا شروع کر دیا کہ منگنی تو بچپن میں کر لی تھی، اب بیاہ کر لے بھی جائیے۔ امی معین پر زور ڈالنے لگیں۔ معین بھائی امی سے بحث و مباحثہ کرنے کے بجائے ماموں کے گھر چلا گیا اور ان سے خود انکار کر کے آ گیا۔ دو چار باتیں بھی سنادیں تاکہ یہ ہمارا پیچھا چھوڑ دیں۔ بڑے بھائی اور آصفہ بھی اس کے بعد معین کو منانے آئے مگر انہوں نے ان سے بھی یہی کہا کہ ماموں کی ایک بیٹی نے کون سا سکھ دیا ہے جو اب دوسری کو بیاہ کرلے آئیں۔ انہوں نے ان دونوں کو ٹکا سا جواب دے دیا۔ وہ اپنا منہ لے کر چلے گئے۔ تایا ابو میری شادی کی تاریخ لینے آئے اور اسی دن انہوں نے والد سے معین کے لئے اپنی بیٹی صبیحہ کا رشتہ بھی آفر کر دیا۔ وہ ابو کے بڑے بھائی ہی نہیں دُکھ سکھ کے ساتھی تھے۔ برے دنوں میں ایک انہی نے تو ساتھ دیا تھا۔ صبیحہ بھی نیک فطرت تھی۔ امی کچھ خفا خفا تھیں مگر ہم سب نے اس رشتہ پر دل سے خوشی کا اظہار کیا۔ یوں ادھر میری شادی قیصر سے ہوئی تو ادھر صبیحہ بھابی بن کر ہمارے گھر آئی۔ اس بات کا پتا نائلہ کو چلا وہ بہت دُکھی ہوئی، بہت روئی۔ نائلہ دراصل بچپن سے معین کو چاہتی تھی، وہ تو اتنے عرصہ تک اپنے منگیتر کے خیالوں میں رہی تھی، اسے دھچکا لگنا ہی تھا۔ وہ بھی اچھی لڑکی تھی، ہم سے پیار کرنے والی لیکن اس کے مستقبل کی خوشیوں کو اجاڑنے اور ان میں آگ لگانے والی خود اس کی بڑی بہن ہی تھی۔ اگر وہ ہمارے ساتھ حسن سلوک سے رہتی تو نائلہ ہی ہماری بھابی بنتی۔ ہماری نائلہ سے دشمنی نہیں تھی۔ صبیحہ نے ہمارے گھر کو اپنے طریقہ سلیقے سے جنت بنا دیا۔ وہ معین بھائی کے لئے قدرت کا ایک حسین تحفہ ثابت ہوئی جس نے ہمارے گھر کو بکھرنے نہ دیا بلکہ سب کو ایک دوسرے سے جوڑے رکھا۔ ابو امی سے کہتے تھے کہ دیکھو بیگم ! ایک وہ اپنے تھے جنہوں نے ہم کو خانماں برباد کیا اور ہمارا بیٹا بھی ہم سے چھین لیا اور ایک یہ ہمارے اپنے ہیں کہ جنہوں نے برے وقت ہماری مدد کی، معین کا مستقبل بنایا اور ہمارے دُکھ سکھ کے آج بھی ساتھی ہیں۔ میں نہ کہتا تھا کہ اپنے پھر اپنے ہوتے ہیں، تبھی میں کہتی ہوں لیکن ابو ! سب اپنے ، اپنے نہیں ہوتے۔

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.