Ghar Damad Teen aurtein Teen kahaniyan

0 27

ابصار چاچا کی کریانے کی دکان تھی۔ سارے محلے میں یہی ایک اچھی اور بڑی دکان تھی جہاں ہر شے ملتی تھی۔ چاچا بھی دین دار اور نیک انسان تھے تبھی ان کی دُکان خوب چلتی تھی اور وہ خوشحال تھے۔ بد قسمتی سے ایک روز دو شخص موٹر سائیکل پر آئے اور انہوں نے چاچا کے پڑوسی سے جھگڑا شروع کر دیا۔ پہلے تو وہ دیکھتے رہے لیکن جب ان لوگوں نے پڑوسی خدا بخش پر وار شروع کر دیئے تو ان سے نہ رہا گیا اور اپنے دوست کو بچانے کی خاطر دکان سے باہر آئے لیکن جب وہ باز نہ آئے اور خدا بخش کو پیٹتے ہی رہے تو ابصار چاچا نے پاس پڑی اینٹ اٹھائی اور وار کرنے والے شخص کے سر میں دے ماری جس سے وہ موقع پر گر کر مر گیا۔ یہ معاملہ دیکھ دوسرا آدمی چاقو سمیت موٹر سائیکل پر بیٹھ کر بھاگ گیا۔ لوگ اکٹھے ہو گئے۔ پولیس آگئی اور ابصار چاچا کو گرفتار کر کے لے گئے۔ دو چار بدخواہوں نے تھانے جا کر ان کے خلاف گواہی بھی دی اور ان کو جیل ہو گئی۔ ان کے جیل جانے کے بعد دُکان بند ہو گئی کہ اُسے چلانے والا کوئی نہ تھا۔ ایک بیٹی تھی جو جوان تھی۔ ماں کو ڈر تھا کہ وہ دلشاد کی حفاظت نہ کر سکے گی لہذا چاچی نے شادو کے بیاہنے کو جتن شروع کر دیئے۔ ریاض، چاچی کی نند کا بیٹا تھا۔ وہ ویلڈنگ کا کام جانتا تھا۔ دلشاد کی ماں نند کے ترلے کرنے لگی کہ تمہارے بھائی کو جانے جیل سے رہائی ملے کہ نہ ملے۔ تمہاری بھتیجی جواں سال ہے ، خُدارا اسے اپنے بیٹے سے بیاہنے کا جلد سامان کر لو تا کہ سکون کی نیند سو سکوں۔ جب کوئی انسان کسی کو مجبور دیکھتا ہے تو اس کی گردن نخوت سے اکڑ جاتی ہے۔ نند بھی ایسے نخرے دکھانے لگی۔ وہ ایک چغل خور ، بد زبان اور بہتان تراش عورت تھی۔ یہ سب جان کر بھی شادو کی ماں اس کو بیٹی کارشتہ دینا چاہتی تھی کیونکہ لڑکا اچھا تھا۔ ریاض میں سوگن تھے۔ وہ بڑوں کا ادب کرتا اور چاچی سے احترام کے ساتھ پیش آتا تھا۔ نکما بھی نہ تھا تبھی شادو کی ماں اس سے پیار کرتی تھی۔ بس ایک قباحت تھی کہ ریاض اور اس کے والدین گائوں میں رہتے تھے اور پڑھے لکھے بھی نہ تھے۔ ایک روز ریاض چاچی سے ملنے آیا تو وہ بولیں۔ بیٹا میں تم کو شادو کا رشتہ دینا چاہتی ہوں لیکن تیری ماں کے مزاج سے ڈرتی ہوں۔ چاچی تم فکر نہ کر ماں رشتہ مانگنے آئیں تو فورآ ہاں کر دینا۔ میں تمہاری بیٹی کو خوش رکھوں گا اور دبئی جا کر اتنا کما کر لائوں گا کہ تمہاری بیٹی عیش کرے گی۔ ماں بھی شادو کارشتہ لینا چاہتی ہے ، بس ذرا احسان جتلا کر- تا کہ تم بعد میں بھی ان سے دبی رہو، مگر تم فکر نہ کرو، میری جانب سے آپ کو کوئی شکایت نہ ہو گی۔ ریاض کی ڈھارس سے چاچی کو تسلی ہو گئی لہذا جب نند رشتہ لینے آئی، بغیر کسی شرط کے انہوں نے ہاں کہہ دی۔ شادو کی شادی کو دو ماہ ہی ہوئے تھے کہ ریاض نے دبئی جانے کے لئے کوششیں شروع کر دیں۔ وہ دن کو شہر آ کر محنت کرتا اور رات کو ورکشاپ سے تھکا ہارا گھر لوٹتا تو شادو سے کہتا۔ دیکھ لینا میں چند دنوں میں ہی تجھ کو سونے سے پیلا کر دوں گا، اک ذرا میرا ویزا لگنے کی دیر ہے۔ ریاض کی بات سُن کر شادواداس ہو جاتی۔ وہ شوہر سے جُدا رہنا نہ چاہتی تھی، اُسے دولت کا لالچ نہ تھا، جب ریاض گھر آتا خاطر خدمت میں کوئی کسر نہ اٹھا رکھتی ، اس کی دن بھر کی تھکاوٹ دور کر دیتی۔ شادی کے سات بعد اللہ نے ایک بیٹی دے دی۔ دونوں بہت خوش تھے۔ ریاض بچی سے بہت پیار کرتا تھا اور اس کو اک پل کو خود سے جدا کرنا نہ چاہتا تھا۔ ایک دن وہ گھر آیا تو بتایا کہ اس کو دبئی کا ویزامل گیا ہے۔ ریاض کے جاتے ہی اس کی ماں کی بن آئی۔ وہ پھوپی سے ساس بن گئی۔ بیٹے کے ہوتے اس نے اپنے پھن کو چھپائے رکھا تھا، اب اپنی فطرت پر آگئی۔ دلشاد ماں باپ کی بہت لاڈلی تھی۔ اس نے گھر کا کام کبھی نہ کیا تھا، اسے پڑھنے کا شوق تھا، آٹھویں میں تھی کہ باپ جیل چلا گیا اور اسکول جانا ترک ہو گیا۔ سال بعد شادی ہو گئی۔ اس نے کبھی لکڑیوں کا چولہا پھونکا تھا اور نہ روٹیاں لگائی تھیں تنور پر ، وہ شہر کی پروردہ تھی اور بیاہ گائوں میں ہو گیا تھا۔ ساس کہتی کہ یہ لے پرات اور تنور پر روٹیاں لگا لے۔ کیا تو نواب زادی ہے ، سارے گائوں کی عورتیں لگاتی ہیں تو کیوں نہیں لگا سکتی۔ شادو کے ہاتھ اور باز و جل جاتے ، بازوئوں پر جگہ جگہ کالے داغ پڑ گئے اور گیلی لکڑیوں سے چولہا پھونکنا پڑتا تو دھواں لگنے سے آنکھیں سُرخ ہو جاتیں، جلن کرتیں ، تب وہ روتی کہ شہر میں تو لکڑیاں جلانے کا رواج نہ تھا۔ اب وہ تمام دن چلچلاتی دھوپ میں کام کرتی اور بچی گھر میں پڑی بلکتی تو دادی اس کو گڑ کی لٹی چٹا دیتی۔ بچی اسہال لگنے سے نڈھال ہو جاتی۔ وہ سوکھ کر کانٹا ہو گئی تب آخر کار حکیم صاحب کے سختی سے تنبیہ کرنے کے بعد ہی اس کو گڑ کی لٹی چٹانا بند کی گئی۔ گائوں کی عورتیں ندی سے پانی بھرنے جاتی تھیں، پھوپی نے سر پر گھڑا رکھ دیا کہ شادو تم بھی ندی سے پانی بھر کر لایا کرو، میں اب بوڑھی ہو رہی ہوں، بھاری کام نہیں کر سکتی۔ جب شادو پانی سے بھرا گھڑا سر پر رکھتی بوجھ کی وجہ سے گرنے لگتی۔ وہ چھوٹی موٹی دھان پان سی تھی۔ اتنا وزن نہیں اُٹھا سکتی تھی۔ مگر اس عورت کو رحم نہ آتا۔ وہ اس سے کھیتوں میں کام کرانے بھیجتی اور گھر میں اُپلے تھپواتی۔ جب وہ گو بر اُٹھاتی، اس کے آنسو گرنے لگتے۔ خود پھوپی چار پائی پر بیٹھی رہتی اور حکم چلاتی۔ شادو دبلی پتلی نازک سی لڑکی تھی۔ اس کی عمر پندرہ سولہ برس تھی۔ اس عمر میں لڑکیوں کو اتنی زیادہ سمجھ بھی نہیں ہوتی لیکن پھوپی کی چابک دستیوں نے شادو کو وقت سے پہلے سمجھ دار کر دیا۔ اس کے پاس سوائے ساس سسر کی ہر بات ماننے کے چارہ بھی کوئی نہ تھا۔ ساس نے ایک گائے پال رکھی تھی۔ صبح تڑکے رضیہ ، بہو کو کھیتوں سے گائے کا چارہ لانے بھیج دیتی۔ وہ درانتی سے چارہ کاٹتی تو انگلیوں پر زخم لگ جاتے تب شادو دوپٹے سے زخم پونچھتی اور روتی۔ شادو کو اب خود سے باتیں کرنے کی عادت پڑ گئی۔ وہ جب کھیتوں میں کام کر رہی ہوتی تو اپنے آپ سے ہم کلام ہو کر کہتی۔ ریاض جب تم آئو گے اور مجھے اس حال میں دیکھو گے تو تم کو پتا چلے گا کہ میں تمہارے ماں باپ کے پاس کتنے عیش سے رہتی ہوں۔ وہ تو اسی آس پر وقت گزار رہی تھی کہ ریاض آئے گا تو سب دُکھوں کا ازالہ ہو جائے گا۔ ہوا یوں کہ ایک دن جبکہ وہ ندی پر پانی بھرنے گئی وہاں اس نے ایک شخص کو دیکھا، وہ مسافر تھا اور رستہ بھول کر شاید ادھر آگیا تھا۔ بہت تھکا ماندہ لگ رہا تھا اور بیمار لگتا تھا۔ پریشان اتنا تھا کہ جیسے کوئی پھانسی پانے والا جیل کی کوٹھری سے بھاگ نکلتا ہے اور اسے تعاقب میں آنے والے ایک جہان سے خطرہ ہوتا ہے۔ وہ زندگی سے مایوس نظر آرہا تھا۔ کیا خبر کوئی قیدی مدت بعد رہائی پاکر لوٹا ہو ۔ شاد و کو یہ خیال آتے ہی اپنے باپ کی یاد ستانے لگی۔ شادو پاس سے گزری تو وہ اٹھ کھڑا ہوا اور کہنے لگا۔ بہن جی ، مجھے اس میں تھوڑا سا پانی ڈال دو، میں بہت پیاسا ہوں۔ اس نے تبھی اپنے گھڑے سے ایک گلاس نکال کر آگے کر دیا۔ اس کی ملتجی آواز میں کچھ ایسی بے بسی تھی کہ وہ انکار نہ کر سکی۔ پانی پی کر اس نے دوبارہ پانی مانگا اور غٹاغٹ پی گیا۔ وہ چلنے لگی، تب اس آدمی نے کہا۔ بہن جی کیا تمہارے پاس کھانے کو کچھ ہے ؟ کہنے لگی بھائی میرے پاس کھانے کو کچھ نہیں، میں تم کو اپنے گھر لے جا کر کھانا نہیں کھلا سکتی۔ ہاں میرے پاس کچھ دیسی مٹھائی ہے جو میں نے اپنی بچی کو کھلانے کے لئے دوپٹے کے پلو سے باندھ لی تھی۔ ٹھہرو یہ لے لو۔ اس نے دوپٹہ کا پلو سر کے اوپر سے کھینچا اور اس کو ایک ہاتھ سے کھولنا چاہا کیونکہ دوسرے ہاتھ سے گھڑا تھامے تھی، سو ایک ہاتھ سے گرہ نہ کھلی۔ مسافر نے کہا۔ بہن اگر اعتراض نہ ہو تو میں پلو سے خود مٹھائی کھول لوں۔ یہ کہہ کر اس نے شادو کے دوپٹے کے پلو سے سوہن حلوے کے ٹکڑے لے لئے اور دُعا دی۔ بہن تم سدا سکھی رہو ۔ وہ ہلکے پھلکے قدموں سے گھر کو لوٹ رہی تھی کہ رستے میں سسر سے سامنا ہو گیا جو خشمگیں نگاہوں سے اُسے گھور رہا تھا گویا اس نے بہو کو اس اجنبی سے بات کرتے دیکھ لیا تھا۔ شادو کا اندازہ درست تھا۔ تو کس سے بات کر رہی تھی، سسر نے سوال کیا۔ کون تھا وہ ؟ لہجے میں ایسی درشتی تھی کہ سر پر گھڑا نہ سنبھال سکی اور وہ گر کر ٹوٹ گیا۔ چل اب گھر ، پوچھتا ہوں تجھ سے میں۔ وہ اس کے پیچھے پیچھے کسی مجرم کی طرح سر جھکائے چلنے لگی۔ جو نہی وہ گھر میں داخل ہوئی پھوپی نے کڑک کر کہا۔ پہلے تو یہ بتا اتنی دیر کیوں لگائی کہ مجھے ریاض کے آبا کو تیرے پیچھے بھیجنا پڑا۔ میں نے دیر نہیں لگائی ، بوا جی، میں تو ۔ بکواس نہ کر۔ سسر کی گرج سُنائی دی۔ میں بتاتا ہوں، یہ بد چلن کسی مرد سے باتیں کر رہی تھی۔ مرد سے ؟ ہائے … ساس نے ناک پر انگلی رکھ کر کہا۔ کون تھا وہ جس کے برتن میں تونے گھڑے سے پانی ڈالا اور اس کو پانی پلایا۔ کیا لگتا تھا وہ تیرا ؟ کچھ نہیں بابا وہ کوئی پردیسی تھا۔ تھکا ماندہ اور پیاسا تھا اور میں نے نیکی کا کام کیا۔ بابا میں نے کوئی برائی نہیں کی، کسی کو پانی پلانا تو ثواب کا کام ہے۔ ارے کسی اور کو بے وقوف بنانا لڑکی، یہ سب ہم کو فریب دینے کی باتیں ہیں۔ ہم آج ہی ریاض کو فون کرتے ہیں ، وہ آ کر اس اپنی آوارہ بیوی کو قابو کرے ورنہ یہ ہماری عزت کا جنازہ نکال کر رکھ دے گی۔ یہ تو گائوں میں ہمیں منہ دکھانے لائق نہ چھوڑے گی۔ شادو رونے لگی تو اس کی بُوا خود کو دوہتھڑ سے پیٹنے لگی۔ شادو کے رونے کی آواز سُن کر دیوار شریک اس کے پھوپھا کی خالہ زاد بوا کرن آگئی۔ پوچھا۔ کیا ہوا ہے ؟ کیوں بہو رو رہی ہے۔ بتاتی ہوں تم کو میں آج کا قصہ ، انہوں نے پھر واقعہ کو بڑھا چڑھا کر بوا کرن کو سنایا تا کہ وہ اوروں کو نمک مرچ لگا کر جا سنائے اور شادو خوب گائوں میں بد نام ہو جائے۔ انہوں نے اسی پر ہی بس نہیں کیا، بیٹے کو بھی فون کر کے ایسی اس کی بیوی کی کردار کشی کر کے سُنائی کہ وہ بوکھلا کر رہ گیا۔ کہا کہ ترنت پہنچو ورنہ ہم تمہاری بیوی کے بھاگ جانے کے ذمہ دار نہیں ہیں۔ وہ بے چارہ کسی طور اپنے مالک سے چھٹی لے کر آ گیا۔ ابھی گھر کی دہلیز پر تھا کہ ماں نے سینہ کوبی شروع کر دی کہ ایسا واقعہ ہو گیا ہے ہم تیری بیوی کے کارن کسی کو یہاں منہ دکھانے کے قابل نہیں رہے ہیں۔ جلد فیصلہ کرو، ہم سے تو یہ بے غیرتی برداشت نہیں ہوتی۔ ریاض گائوں کا ضرور تھا مگر شہر کی ہوا بھی کھا رکھی تھی۔ وہ دبئی رہ آیا تھا۔ اتنا نادان نہ تھا، جو ڈرافٹ والد کے نام بھیجتا تھاوہ بینک میں جمع کرتے جاتے تھے۔ منصوبہ تھا کہ ایک مربع زمین خریدوں گا۔ ایک پائی شوہر کی کمائی سے پانچ سال میں اس بزرگ نے بہو کے ہاتھ پر نہ رکھی تھی اور نہ جوڑے یا کپڑے کبھی بنا کر دیئے تھے ، جوتے تک وہی پھٹے پرانے تھے۔ جب اس نے والدین کی زبانی اجنبی مسافر کا قصہ سنا تو پہلا سوال یہی کیا کہ آپ لوگوں نے جب مجھ سے وعدہ کیا تھا کہ اس کو گھر سے باہر کھیتوں میں گھاس کاٹنے ، پانی بھرنے یا دیگر کاموں کے لئے نہیں بھیجیں گے تو کیوں میری کم عمر اور خوبصورت بیوی کو اکیلے گھر سے باہر بھیجتے تھے ؟ رات کو شوہر اور بیوی میں باتیں ہوئیں۔ شادو نے رورو کر جو ریاض کی غیر موجودگی میں اس پر گزری تھی، سب کہہ سُنائی اور ریاض نے اس کی سچائی پر یقین کیا۔ اس نے عام دیہاتی مردوں کی طرح اندھا دھند طلاق کے ناپسندیدہ الفاظ نہیں کہے بلکہ پاس پڑوس اور کچھ گائوں والوں سے بیوی کے چال چلن کے بارے میں سوالات کئے۔ کسی نے بھی شادو کے کردار کے بارے میں ایسی ویسی بات نہ کہی، ہر ایک نے یہی بتایا کہ وہ ایک اچھی با کردار بی بی ہے جو اپنے ساس سسر کی خدمت گزار اور اطاعت گزار رہی ہے۔ ریاض نے تب یہی فیصلہ کیا کہ وہ یہ گائوں چھوڑ دے اور بیوی کو لے کر اپنی ساس کے پاس شہر میں مکان لے تاکہ شادو پر دوبارہ کوئی جھوٹی تہمت نہ لگا سکے۔ ماں باپ تو کیا سوچے بیٹھے تھے اور بیٹے نے آ کر کیا فیصلہ سنادیا۔ وہ ہکا بکا رہ گئے۔ ماں باپ نے بہت روکا لیکن ریاض نے اپنا فیصلہ نہ بدلا۔ شادو کے ساتھ وہ اپنی ساس کے گھر شہر چلا گیا کیونکہ اس کی ماں بیمار اور اکیلی تھی اور شوہر کے غم میں گھل گھل کر آدھی ہو چکی تھی، اس کو دیکھنے اور سنبھالنے والا کوئی نہ تھا، شوہر سے ملاقات کے لئے اسے جیل تک لے جانے والا بھی کوئی نہ تھا۔ چاچا ابصار کو عمر قید ہوئی تھی۔ پانچ سال تو گزر چکے تھے ، باقی کے سال شادو کی ماں کے ساتھ بیٹی اور داماد رہے تھے۔ ریاض مہینے میں ایک بار اپنے والدین کے پاس گائوں بھی آتا تھا تا کہ ان کی خیر خبر رکھ سکے پھر بھی گائوں والے اُسے گھر داماد اور جورو کا غلام کہتے تھے حالانکہ وہ جور و کا غلام ہر گز نہیں تھا۔ جب چاچا ابصار کو رہائی مل گئی ، انہوں نے اپنی دکان بھی دوبارہ کھول لی تو ریاض اپنے والدین کے پاس گائوں لوٹ کر آ گیا کیونکہ وہ اپنے والدین کو بڑھاپے میں تنہا نہیں چھوڑنا چاہتا تھا، پھر بھی گائوں والوں نے اُسے معاف نہ کیا۔ وہ اب بھی اُس کو جورو کا غلام ہی کہتے ہیں۔،

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.