جب بیٹی مشکوک تہری تین اورتین تین کہانیاں

0 21

ان دنوں چاچا ہمارے ساتھ رہا کرتے تھے۔ جب میں پانچ سال کی تھی ، دادی نے چچازاد نصیر سے میرا رشتہ طے کر دیا۔ وہ مجھ سے دو برس بڑا تھا۔ دادی ہمیشہ چچی کو تلقین کیا کرتی تھیں کہ رافعہ کو بہو بنانا لیکن دادی کی آنکھیں بند ہوتے ہی بچی نے اپنا مزاج بدل لیا۔ دادی جان کی قبر کی مٹی ابھی گیلی تھی کہ انہوں نے صحن کے بیچوں بیچ دیوار اٹھا دی۔ یوں محبتوں کے تاج محل میں دراڑ پڑ گئی۔ پہلے ہمارا اور چچا کا مکان ایک تھا پھر ایک کے دو گھر ہو گئے۔ رفتہ رفتہ چچی اپنے منصوبے میں کامیاب ہو گئیں۔ ہم بچوں کا ایک دوسرے کے گھروں میں آنا جانا اور دعا سلام متروک ہوگئی ۔ ابو اور چچانے بھی دوری اختیار کر لی ۔ جب ضرورت ہوتی وہ باہر مل لیتے ۔ میں جو نصیر کی ٹھیکرے کی مانگ تھی، اس کی صورت کو ترسنے لگی۔ امی اور چچی کی چپقلش میں ہم معصوم دلوں کا بے حد نقصان ہوا ، بچپن کے بندھن ٹوٹ گئے اور ہم گھائل پرندوں کی مانند نفرتوں کے جال میں پھڑ پھڑاتے رہ گئے۔ خالہ سلیمہ مجھ سے پیار کرتی تھیں۔ وہ جیسے تاک میں تھیں، یوں کہنا چاہیے بلی کے بھاگوں چھینکا ٹوٹ گیا، انہوں نے فوراً جھولی پھیلا کر اپنے بیٹے کے لیے رشتہ مانگ لیا۔ ابو نے چچا کو آخری بار کہلوایا، چچی نے ٹکا سا جواب دیا تو خالہ جان کی مرادوں کے پھول کھل اٹھے اور میری شادی کی تاریخ خالہ کے بیٹے عاصم سے طے ہو گئی۔ مجھ سے کسی نے نہ پوچھا، اپنی مرضی سے والدہ نے میری زندگی کا سودا طے کر دیا۔ چند دنوں بعد میں خالہ کی بہو بن کر ان کے گھر آگئی۔ عاصم اچھی پوسٹ پر تھے، ہر طرح سے اس گھر میں سکھ چین تھا، خالہ کا پیار اور دیگر سہولتیں موجود تھیں لیکن دل نے اس رشتے کو قبول نہ کیا تھا، عرصے تک افسردہ رہی۔ بچپن سے نصیر کی محبت کا نقش دل پر تھا جو مٹتا ہی نہیں تھا۔ ایک روز مجھ کو اداس دیکھ کر امی نے سمجھایا کہ بیٹی! شادی ہوگئی ہے اور عاصم میں کوئی عیب بھی نہیں ہے، ساس پیار کرنے والی ملی ہے، تمہاری سگی خالہ ہے۔ ماں سے بڑھ کر پیار کرتی ہے، ان نعمتوں کا شکر کرو، اچھی قسمت پر شاکر رہو، ایسا نہ ہو اللہ تعالیٰ ناراض ہو جائے اور یہ سب تم سے چھن جائے۔ اماں کی باتوں پر ٹھنڈے دل سے غور کیا، کافی دن سوچا بالآخر اس نتیجے پر پہنچی واقعی ماں ٹھیک کہتی ہیں۔ چچی مجھ کو بہو بنانا نہیں چاہتی تھیں، اگر نصیر سے شادی ہو جاتی اور وہ میرا جینا حرام کر دیتیں تب کیا ہوتا۔ نصیر سے میرا ذ ہنی رشتہ بچپن کا تھا، اس کو بھلا دینا آسان نہ تھا پھر بھی صبر کر لیا۔ اس کی یاد کو دل کی اتھاہ گہرائیوں میں دفن کر دیا اور اس کی چاہت کو کاغذ کی ناؤ بنا کر ماضی کی لہروں میں بہا دیا۔ قسم کھا لی کہ سچے دل سے اپنے شوہر کی ہو کر رہوں گی ، اللہ کی خوشنودی کی خاطر سہاگ بندھن کا احترام کروں گی اور نصیر کی یاد دل میں بسا کر خیالوں میں بھی شوہر سے خیانت نہ کروں گی۔ قدرت کو کیا منظور ہے، یہ انسان کو پتا نہیں ہوتا۔ مجھ کوخبر نہ تھی شادی کے تین برس بعد اچانک میرا نصیر سے آمنا سامنا ہو جائے گا۔ ایک دن خبر آگئی کہ تایا جان کا انتقال ہو گیا ہے۔ وہ بھی ہمارے ہی محلے میں رہتے تھے۔ سب عزیز رشتے داران کے گھر اکٹھا ہو گئے۔ چچا ان دنوں عمرہ پر گئے ہوئے تھے، میت کے گھر چچی اور عاصم آگئے۔ آپس کی رشتے داری تھی، ایسے موقعوں پر آمنا سامنا لازم ہوتا ہے۔ تین سال بعد نصیر نے مجھ کو دیکھا تو افسردہ ہو گیا۔ میں کافی دبلی اور کمزور ہوگئی تھی۔ مجھ کو دیکھ کر اس کے چہرے پر اداسی کے بادل چھا گئے۔ چھوٹے سے گھر میں لوگوں کا رش ہوا تو میرا دم گھٹنے لگا تو چھت پر چلی گئی، معلوم نہ تھا وہ بھی وہاں ہے۔ لوگ جب عصر کے وقت تایا کا جنازہ اٹھانے آئے ، دل پر عجب وحشت سی طاری ہوگئی ، سارے گھر میں کہرام مچا تھا، آہ وبکا کی آوازوں سے میرا جی بیٹھ گیا۔ ان دنوں امید سے تھی، اس سبب بھی شاید مجھ کو اپنا دم گھٹتا ہوا محسوس ہو رہا تھا، سیڑھی پر جا بیٹھی ۔ جب آنکھوں تلے اندھیرا سا آنے لگا تو اوپر چھت پر جانے کی سوجھی۔ خیال ہوا اس طرح کچھ تازہ ہوا ملے گی تو طبیعت بحال ہو جائے گی۔ یہی سوچ کر اوپر گئی تھی، یہ گمان بھی نہ تھا کہ وہاں کوئی اور بھی موجود ہو گا۔ جب میں اوپر جانے کو سیڑھیاں چڑھ رہی تھی ، خالہ جان کی نظر مجھ پر پڑ گئی۔ خیر چھت پر پہنچی تو کسی کو چارپائی پر لیٹا ہوا پایا۔ میرے قدموں کی آہٹ سے وہ اٹھ بیٹھا اور میں یہ دیکھ کر حیران رہ گئی کہ وہ نصیر تھا۔ ابھی ہم حیرت سے ایک دوسرے کو دیکھ رہے تھے ، بات کرنے کی نوبت نہ آئی تھی کہ چھت پر عاصم آگئے ۔ دراصل وہ گھر جانے کے لیے خالہ سے چابی لینے آئے تھے۔ خالہ نے کہا کہ چابی رافعہ کے پرس میں ہے۔ رافعہ کہاں ہے؟ میرے شوہر نے اپنی ماں سے دریافت کیا۔ ابھی ابھی چھت پر گئی ہے۔ یہ سن کر وہ چھت پر آگئے – یہ دیکھ کر بت بن گئے کہ وہاں عاصم بھی موجود تھا۔ عاصم کو سامنے دیکھ کر میرے بھی اوسان خطا ہوچکے تھے، میں نے کوئی جرم نہ کیا تھا پھر بھی خود کو مجرم محسوس کر رہی تھی کیونکہ عاصم جانتے تھے کہ میری بچپن سے نسبت نصیر سے ملے تھی۔ وہ یہی سمجھے کہ میں جان بوجھ کر چھت پر اس سے ملنے آئی ہوں۔ لمحہ بھر بعد وہ آگے بڑھے اور مجھ کو بازو سے پکڑ کر ساتھ لے آئے۔ انہوں نے مجھے بمشکل پرس اٹھانے دیا۔ گھر آتے ہی مارنے لگے، کچھ اس بری طرح کہ میں تصور بھی نہ کر سکتی تھی عاصم کے اندر ایسا شخص بھی چھپا ہوا ہے، وہ بالکل حیوان لگ رہے تھے ۔ وہ شاید مجھ کو مار ہی ڈالتے اگر اس وقت خالہ نہ آجاتیں۔ انہوں نے بیٹے کو پکڑا اور مجھے دوسرے کمرے میں جانے کو کہا۔ میں نے دوڑ کر اندر سے کمرے کی کنڈی لگا لی۔ جو واقعہ ہوا تھا، وہ کوئی واقعہ نہ تھا، محض اتفاق تھا مگر کوئی کچھ اور سمجھ رہا تھا اور میں نہیں سمجھا سکتی تھی کہ کیا ہوا اور کیسے ہوا۔ میرے اوسان خطا ہو گئے ۔ سوچ بھی نہ سکتی تھی کہ جس شخص کو مجازی خدا سمجھ کر اس کی اطاعت اور فرمانبرداری میں عمر گزارنے کا عہد کر چکی ہوں ، وہ مجھ سے اتنا برا سلوک بھی کر سکتا ہے۔ بڑی دیر تک خالہ عاصم کو سمجھاتی رہیں۔ عاصم نے رات کو نیند کے لیے دو خواب آور گولیاں بھی کھا ئیں تب کہیں جا کر سوئے۔ ان کے سو جانے کے بعد خالہ نے کمرے کا در کھٹکھٹایا اور کہا کہ میں ہوں، رافعہ! دروازہ کھولو، عاصم سو چکا ہے ۔ تب میں نے دروازہ کھولا۔ خالہ نے پوچھا کہ کیا ہوا اور یہ کیسے ہوا؟ میں نے رو کر قسمیں کھا ئیں اور بتایا کہ خالہ میرا کوئی قصور نہیں ہے، مجھ کو وہاں بھیٹر میں گھٹن ہورہی تھی ، جی متلانے لگا تو چھت پر چلی گئی، مجھے کو خبر نہ تھی کہ وہاں نصیر پہلے سے موجود ہے، خبر ہوتی تو کیوں جاتی ، اسی لمحے عاصم بھی وہاں آگئے ، انہوں نے سمجھا کہ میں نصیر سے ملنے اوپر گئی تھی ، مجھ کو اسی لیے مارا ہے کہ تمہارا ابھی تک منگیتر سے تعلق قائم ہے، خالہ جی ! مجھے کو اپنے پیدا کرنے والے کی قسم ہے، ایسا بالکل نہیں ہے، شادی کے بعد میں کبھی اس سے ملی ہی نہیں، یہ سراسر بہتان ہے۔ خالہ نے میرے بیان پر یقین کر لیا، مجھے گلے لگایا۔ میں زار و قطار رو رہی تھی ، ان کو مجھ پر ترس آیا۔ اس دن یقین آگیا کہ خالہ واقعی ماں کی جگہ ہوتی ہے، اگر خالہ کی جگہ چچی یا کوئی اور عورت ساس ہوتی تو میری باتوں پر یقین نہ کرتی بلکہ بڑھا چڑھا کر زمانے کو سناتی اور مجھے طلاق دلوا دیتی لیکن خالہ نے ایسا نہیں کیا بلکہ اپنے بیٹے کو سمجھایا کہ میں نے اس کو چھت پر جانے کو کہا تھا، اس بچاری کو کیا خبر تھی وہاں کوئی اور موجود ہے، اسے متلی ہو رہی تھی اس لیے اوپر بھیجا تھا کہ سانس بحال ہو جائے گا، گھٹن دور ہو جائے گی۔ خالہ نے معاملہ اپنے اوپر لے کر میرا پورا پورا دفاع کیا۔ میری قسموں پر شاید میرے شوہر کو یقین نہ آتا لیکن انہوں نے اپنی ماں کی قسموں پر یقین کر لیا۔ کہتے ہیں کہ شکی مرد کے دل سے شک نہیں جاتا، عاصم نے بھی وقتی طور پر یقین کر لیا جبکہ ایک خلش دل میں تھی ، سو وہ موجود رہی۔ اب زندگی پہلے جیسی نہ رہی تھی ۔ بات بات پر وہ مجھے میرے منگیتر کا طعنہ دیتے تھے۔ ان کے طعنوں نے میری زندگی کو ایک دہکتا ہوا جہنم بنا دیا۔ ہر دم یہ غم تڑپانے لگا کہ ان کو میری پاک دامنی کا اعتبار نہیں ہے۔ وہ بات بات پر کہتے تھے، تمہارا ماضی مشکوک ہے لہذا مجھے یقین نہیں ہے تمہاری کوکھ میں پلنے والی اولاد میری ہے یا نہیں میں کیسے اسے قبول کروں گا، کس طرح باپ کا پیار دے سکوں گا۔ جب کوئی شوہر اپنی بیوی سے ایسی باتیں کرے تو زندگی اچھی کیسے گزر سکتی ہے۔ بلاشبہ میں زندہ شک کی چتا میں جل رہی تھی۔ روز ہی اپنے نصیب پر آنسو بہاتی تھی، آٹھ آٹھ آنسو روتی تھی اور سوچتی تھی کہ اس عذاب سے تو بہتر تھا ، میں طلاق لے لیتی- اس شخص نے ماں کے مجبور کرنے پر مجھے پناہ تو دے دی تھی لیکن اپنی اولاد کو شک بھری نظروں سے دیکھتا تھا، یہ بات میرے لیے سوہان روح تھی۔ میں نے میکے جانا ترک کر دیا کیونکہ ساتھ ہی نصیر کا گھر تھا۔ عاصم شک کرتے تھے کہ میکے میں شاید نصیر سے ملنے جاتی ہوں۔ جب ایسی سوچ ان کو ستاتی تو بہانے بہانے سے جھگڑنے لگتے تھے۔ میں ایک بچی کی ماں بن چکی تھی۔ اس اہانت آمیز سلوک کو سہتے سہتے تھک گئی تھی۔ عاصم اپنی بچی کو بھی نہیں اٹھاتے تھے۔ یہ معصوم پھول بھی باپ کی شک و شبے بھری نگاہوں کی تپش سے مرجھا کر رہ گیا تھا۔ وہ اسے اٹھانا یا ہاتھ لگانا بھی گناہ مجھتے تھے۔ وہ چاہتے ہوئے بھی اولاد کو محبت نہ دے سکے۔ اس عذاب ناک زندگی کو جب پانچ برس گزر گئے تب ایک روز میں نے سوچا کہ ایسے جینے سے مرجانا اچھا ہے، مرنا تو کبھی کا ٹھہر گیا تھا بس اپنی معصوم اولاد کی خاطر ہر جبر سہہ رہی تھی کہ یہ بچی باپ کے گھر کی چھت تلے بڑی ہو جائے ، باپ کے سائے میں پرورش پائے گی تو زمانے کی دست و برد سے بچ جائے گی۔ ایک عورت کب تک شوہر کی بدسلوکی کے قاتل وار سہہ سکتی ہے، آخر کار تو ظلم کی ایک حد ہوتی ہے۔ ایک روز جبکہ ایک عزیزہ کی شادی میں جانا تھا، میں نے عاصم سے کہا۔ بچی کے لیے ایک جوڑا نئے کپڑوں کا خریدنا چاہتی ہوں، اس کو شادی میں لے جاؤں گی۔ یہ سن کر وہ یکدم غصے سے آگ بگولا ہو گئے ۔ خدا جانے کس سوچ میں تپ رہے تھے، چلا کر بولے۔ میں کیوں لے کر دوں، میری بیٹی تو نہیں ہے، جس کی ہے، وہی لے کر دے، میں تو آستین میں سانپ پال رہا ہوں۔ آج میری غیرت بھی تڑپ گئی ۔ اف میرے خدا! میں کب تک ایسی بے غیرتی کا جیون جیتی رہوں گی، آخر کب تک ایسی فحش کلامی برداشت کرتی رہوں گی ، مجھ کو اس کم ظرف آدمی سے چھٹکارا پانا ہو گا۔ پس اس روز جانے مجھ میں کہاں سے ہمت اور طاقت عود کر آئی۔ اسی وقت فون کر کے بھائی کو بلا لیا اور یہ الفاظ ان کے سامنے دہرائے جو عاصم نے کہے تھے۔ میں نے بھائی کو کہا۔ اگر تم لوگوں کے پاس میرے اور میری بیٹی کے لیے رہنے کی جگہ اور دو وقت کی روٹی نہیں ہے تو بے شک میں سڑک پر رہ کر بھیک مانگ لوں گی لیکن اب میں اس شخص کے ساتھ نہیں رہوں گی، خدا کے لیے مجھے کو یہاں سے لے چلو، اب میں نے مزید ایک پل یہاں نہیں رہنا۔ بھائی نے جانے کیسے میرے حق میں فیصلہ کر لیا۔ کہا کہ چلو میرے ساتھ ، خاندان کے بزرگ خود فیصلہ کرلیں گے، اب تم اس قدر ذلت میں زندگی نہیں گزارو گی اور ہم مر نہیں گئے ہیں، ابھی تمہارے وارث زندہ ہیں۔ خالہ روکتی رہ گئیں۔ بھائی مجھے اور میری بیٹی لیلی کو ساتھ لے آئے۔ ابو، امی نے ٹھنڈے دل سے تمام احوال سنا اور پھر خالہ، خالو کو بلاوا بھیجا، ان سے حتمی بات کی۔ انہوں نے بیٹے کی طرف سے معافی مانگی لیکن میں نے خالہ اور خالو کے ہمراہ گھر لوٹ جانے سے انکار کر دیا۔ کچھ دنوں کے بعد وہ عاصم کو ساتھ لے کر آئے ، اس نے امی ابو سے معافی مانگی۔ یقین دہانی کرائی کہ اب کبھی میں رافعہ کو تنگ نہ کروں گا اور اچھا رکھوں گا۔ امی ابو نے پوچھا۔ رافعہ تم کیا کہتی ہو؟ کیا تمہاری مرضی ہے؟ میں نے صاف منع کر دیا، کہا ۔ اگر آپ نے مجھے گھر میں نہیں رکھنا تو میں دارالامان مع بچی چلی جاتی ہوں لیکن واپس عاصم کے گھر نہ جاؤں گی۔ والدین نے سمجھایا ، رشتے داروں نے بھی زور لگایا لیکن میں نہ مانی کیونکہ میں عاصم کی فطرت کو اچھی طرح سمجھ چکی تھی۔ انسان جان بوجھ کر دیکھتی آگ میں نہیں کودتا۔ میں بھی نہ گئی کیونکہ جانتی تھی جاؤں گی تو پھر وہی ہوگا ۔ شک کا ناگ عاصم کے اندر گھر کر گیا تھا، جب موقع پائے گا ڈسے گا۔ ابو نے دیکھا کہ واقعی رافعہ نہیں چاہتی، زبردستی کی تو جان سے جائے گی ، انہوں نے عاصم پر دباؤ ڈالا کہ ہماری بیٹی کو طلاق دے دو، وہ تمہارے ساتھ رہنا نہیں چاہتی۔ ساس کی دلی خواہش تھی کہ میں واپس آجاؤں، وہ اپنی پوتی سے بھی بہت پیار کرتی تھیں۔ مجھے سسرال جانے سے ہی خوف آتا تھا۔ چند دن خاموشی رہی پھر عاصم نے ایک عورت سے مراسم استوار کر لیے۔ ماں سے کہا کہ تنہا زندگی کب تک گزاروں، میں شادی کے بغیر نہیں رہ سکتا، دوسری بیوی کا انتخاب کر لیا ہے، آپ راضی ہو جائیے ورنہ میں خود نکاح کرلوں گا۔ اب خالہ سٹپٹائیں ۔ بیٹا ہاتھ سے جا رہا تھا اور بہو واپس آنے کو راضی نہ تھی ۔ امی سے بات کی۔ انہوں نے صاف کہہ دیا جو شخص اپنی اولاد کو اولاد تسلیم کرنے پر تیار نہیں ہے، مشکوک نگاہوں سے دیکھتا ہے، اس کے ساتھ رافعہ زندگی کیسے گزار سکتی ہے۔ مایوس ہو کر خالہ نے بیٹے کا دامن تھام لیا۔ عاصم نے اپنی مرضی کی عورت سے نکاح کر لیا۔ ابو نے عدالت میں میرے لیے ضلع کا دعویٰ دائر کیا۔ خلع کے بعد میں آزاد تھی لیکن اپنی بچی کی خاطر دوسری شادی نہ کرنا چاہتی تھی ۔ ایک روز چاچا اور چچی آئے ، وہ امی ابو کو منانے آئے تھے کیونکہ نصیر نے میرے سوا کسی سے شادی سے انکار کر دیا تھا۔ اس نے والدین سے کہا کہ عمر بھر شادی نہ کروں گا، اگر میری خوشی منظور ہے تو تایا سے رافعہ کا رشتہ طلب کیجئے ، اب وہ آزاد ہے۔ چاچا اور چچی نے بہت زیادہ منت سماجت کی تو امی ابو راضی ہو گئے۔ انہوں نے مجھے بھی سمجھا بجھا کر منالیا، یوں میری شادی نصیر سے ہو گئی۔ اس شادی پر بھی رشتے داروں نے خوب باتیں بنائیں، لوگوں نے انگلیاں اٹھائیں۔ عاصم نے خاندان بھر میں پروپیگنڈا کیا کہ رافعہ کے اپنے چچازاد نصیر سے غلط تعلقات تھے اور شادی کے بعد بھی اس نے اپنے سابقہ منگیتر سے تعلق ختم نہیں کیا تھا، رسم و راہ جاری رکھی تبھی میں نے بیوی کو چھوڑا ہے۔ بات صیح ہو یا غلط! پرو پیگنڈا بڑا کام کرتا ہے۔ مجھ کو سب نے غلط سمجھا حالانکہ میرا خدا جانتا ہے میں غلط نہ تھی، کبھی شادی کے بعد نصیر سے ملاقات تو کیا فون پر بھی بات نہ کی تھی، مگر زبانوں پر ایسی باتیں تھیں کہ سن کر جی بھر آتا تھا۔ سچ ہے لوگوں کے منہ پر ہاتھ نہیں رکھا جا سکتا، ہر کوئی اپنی سی کر گزرتا ہے لوگ جو کہیں، خاندان والے جو سمجھیں، میں نہیں کہوں گی کہ نصیر کی محبت سچی تھی، اسی وجہ سے اس کو میں مل گئی۔ میں اپنے ضمیر سے شرمندہ ہوں اور نہ اپنے خدا سے- ہاں اس کی مشکور ضرور ہوں کہ اس نے طلاق کے بعد مجھے کو ایک نئی پیار بھری اور خوبصورت زندگی عطا کر دی۔ چچی سوچتی تھیں کہ یہ رشتہ پہلے کر لیتی تو اچھا تھا، پھر بھی دیر آید درست آید ۔ ان کا بیٹا خوش ہے تو وہ بھی خوش ہیں۔ ہم پرسکون زندگی جی رہے ہیں، اللہ جانے عاصم کو کیسی زندگی ملی۔ ہم کو اس سے کیا غرض ، جس نے اپنی سگی بیٹی سے غرض نہ رکھی، ایسے شکی انسانوں سے خدا ہی بچائے جو اپنی زندگی برباد کر دیتے ہیں اور دوسروں کی بھی !

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.