Wafadari Ka Sila Teen aurtein Teen kahaniyan

0 269


ہمارا گھر ایک خوبصورت اور سر سبز وادی میں اونچے لمبے درختوں سے گھرا ہوا تھا۔ قریب ہی آبشار میں اور گھنا جنگل تھا۔ راستوں کے ادھر پہاڑی پھولوں سے لدی جھاڑیاں اور روح پرور نظارے۔ یہ سب کچھ تھا لیکن کچھ بھی نہیں تھا۔ یہ علاقہ ترقی یافتہ دنیا سے بہت دور تھا کہ جہاں بجلی تھی اور نہ انٹرنیٹ کی سہولت تھی۔ پکی سڑکیں تھیں اور نہ قریب کوئی اچھا اسپتال
یہاں کے باسی جدید دور کی سہولتوں سے یکسر محروم تھے۔ سوات کی اس دلفریب وادی میں زیادہ تر لوگ غریب تھے جن کا ذریعہ آمدنی پھلوں کے باغات میں مزدوری تھا۔ میرے بابا بھی سیبوں کی پیکنگ کے لئے لکڑی کی پیٹیاں بناتے تھے۔ یہ باغات حامد خان صاحب کے تھے۔ آپ ان کو علاقے کا نواب یا پھر سردار کہہ لیں۔ خان صاحب خاندانی دولت مند تھے۔ ان کو کسی شے کی کمی نہ تھی۔ اگر کسی ضروری شے کی کمی تھی تو وہ ہم لوگوں کو تھی اور وہ ضروری شے روٹی تھی جس کے بغیر کبھی کبھی ہم کو گزارا کرنا پڑتا تھا۔ ان دنوں میں دس برس کی تھی۔ پانچویں کی طالبہ اور میرا بھائی قیصر بارہ برس کا تھا۔ وہ اور اس کا دوست امجد دونوں ساتویں جماعت میں پڑھتے تھے۔ یوں ہم تینوں اکٹھے اسکول جاتے تھے۔ امجد کا گھر پڑوس میں تھا۔ وہ روز قیصر سے ملنے ہمارے گھر آتا۔ ان کا بچپن ساتھ گزرا تھا۔ ہم بھی اسے بھائیوں ایسا جانتے تھے۔ ان دنوں ہم گورنمنٹ اسکول جاتے تھے جبکہ حامد خان کے بچے شہر کے انگریزی اسکول میں زیر تعلیم تھے۔ وہ گھر سے تھوڑی دور پیدل چلتے اور پھر گاڑی میں بیٹھ کر شہر چلے جاتے۔ روز ہم ان کو اور وہ ہم کو جاتے ہوئے دیکھا کرتے تھے۔ ان دنوں ان کو دیکھ میں یہی سوچا کرتی تھی کہ یہ انسان ہیں اور ہم بھی انسان ہیں، تو اتنا فرق ہماری زندگیوں میں کیوں ہے۔ اتنے صاف ستھرے اور اجلے یہ لوگ جبکہ ہم پرانے کپڑوں میں پڑھنے جاتے ہیں۔ یہ گاڑی پر شہر کے اسکول جاتے ہیں اور ہم پیدل، نالے پار کرتے اور کھائیاں پھلانگتے پہاڑی راستے پر ، پتھروں پر ڈگمگاتے علم کی تلاش میں وہاں جاتے ہیں۔ وہ جہاں صرف مفلس ہی اپنے بچوں کو پڑھاتے ہیں. ذہن میں تب امیری اور غریبی کا فرق واضح نہ تھا۔ بس یہی سوچ کر دل کو تسلی دے لیتے کہ یہ کسی اور جہان کے رہنے والے ہوں گے۔ یہ تو کم سنی کی معصوم سوچیں تھیں جن میں ربط نہیں تھا، کوئی منطق نہیں تھی مگر بچوں کے دلوں میں بھی حسرتیں پلتی ہیں۔ ان کی خواہشیں  کسی تیکھے نشتر کی مانند ان کے ننھے منے ذہنوں میں پیوست رہتی ہیں۔ امجد بھی ہماری جیسی باتیں ہی سوچا کرتا تھا۔ اس کے من میں ایک خواہش شدید تھی۔ جوانی کی طرح دل میں پیوست تھی۔ وہ یہ کہ حامد خان کی بیٹی فائزہ سے ہم کلام ہو جو گڑیا جیسی خوب صورت تھی۔ سجی سجائی رہتی تھی۔ تاہم خان صاحب کار عب اتنا تھا کہ ہم ان کے بچوں سے کلام کرنے کی جرات نہ کر پاتے تھے۔ حالانکہ حامد خان صاحب بہت اچھے انسان تھے اور اپنے علاقے کے لوگوں کا خیال رکھتے تھے تبھی دولت کے ساتھ اللہ تعالی نے ان کو عزت دی تھی اور صاحب اولاد بھی کیا تھا۔ بیٹی فائزہ اور بیٹا علی خان ان کی آنکھ کا تارا تھے۔ ایک روز حامد خان کے باغات میں سیبوں کی پیکنگ کے لئے لکڑی کی بیٹی تیار کرتے ہوئے بابا کے ہاتھ پر ہتھوڑا لگ گیا اور انگلی بری طرح زخمی ہو گئی تو وہ گھر آگئے۔ ماں یہ حادثہ بتانے حامد خان کے گھر جارہی تھی کہ امجد آگیا۔ ماں نے کہا۔ بیٹا ! قیصر گھر پر موجود نہیں ہے ، تم میرے ساتھ خان کے گھر چلو۔ جب یہ دونوں خان کے گھر کے وسیع احاطے میں داخل ہوئے تو ہر شے شاندار تھی لیکن سب سے زیادہ شان والی فائزہ تھی۔ مدت بعد آج پہلی بار اس سے امجد کی بات ہوئی۔ پہل فائزہ نے کی۔ بولی۔ تم روز اسکول جاتے ہونا… ہم کو راستے میں ملتے ہو، امجد ! تم ہم سے بات کیوں نہیں کرتے ؟ اس لئے کہ میں ڈرتا ہوں کہ آپ کہیں ناراض نہ ہو جائیں۔ امجد نے سادگی سے جواب دیا۔ اس میں ڈرنے والی کون سی بات ہے اور ناراض ہونے والی کیا بات ہے . تم اسکول پیدل جاتے ہو …؟ جی ہاں … ہم پیدل جاتے ہیں۔ میں تو کبھی گاڑی پر بیٹھا ہی نہیں۔ اچھا۔ کبھی کبھی میں تم کو اپنی گاڑی پر اسکول پہنچادوں گی۔ ٹھیک ہے نا…؟ فائزہ کی بات سن کر امجد خوش ہو گیا۔ اس دن کا انتظار کرنے لگا جب یہ پریوں کی شہزادی اس پر مہربان ہو اور اس کو اپنے ساتھ بڑی سی شاندار گاڑی میں بٹھا لے۔ بڑی سی چمکتی دمکتی گاڑیاں تو لڑکوں کا خواب ہوتی ہیں چاہے وہ شہر کے ہوں یاد یہات کے۔ کافی دن گزر گئے فائزہ نے پھر اس کو نہ بلایا۔ شاید وہ یہ بات کہہ کر بھول گئی تھی۔ ایک دن جب وہ اسکول جارہا تھا، وہ ہمارے پاس سے گزری اور امجد کو مخاطب کر کے بولی۔ اس دن میں نے تم کو گاڑی میں اسکول چھوڑنے کا کہا تھا جب تم ہمارے گھر آئے تھے۔ امجد ! کیا تم آج ہماری گاڑی میں بیٹھنا چاہو گے ؟ امجد نے اثبات میں سر ہلا دیا تب اس نے ڈرائیور سے کہا۔ حسن بابا ! ان کو آگے اپنے ساتھ بٹھالو اور ان کے اسکول پر اتار دینا۔ اس روز وہ گاڑی میں اکیلی تھی یعنی اس کا بھائی ساتھ نہیں تھا۔ فائزہ نے صرف امجد کو ہی مخاطب کیا تھا لہذا ہم اسے پیچھے چھوڑ کر آگے بڑھ گئے۔ جب امجد گاڑی میں بیٹھا تو اس کی باچھیں کھل گئی تھیں۔ پندرہ روز بعد پھر اسی طرح اس نے سڑک پر گاڑی رکوالی اور امجد سے مخاطب ہوئی۔ کیا تم کو ہم گاڑی میں اسکول چھوڑ دیں ؟ اس کی آواز سن کر آج بھی ہم آگے ہو لئے اور امجد گاڑی میں بیٹھ گیا تھی میں نے نوٹ کیا کہ آج بھی اس کا بھائی غیر حاضر ہے تو گویاوہ اپنے بھائی سے ڈرتی تھی جب ہی امجد کو مخاطب نہ کرتی تھی۔ جب  علیٰ خان غیر حاضر ہوتا، یعنی اسکول سے چھٹی کرتا، وہ گاڑی رکوالیتی تھی۔ دراصل امجد کا والد مرحوم، حامد خان صاحب کا کار ڈرائیور ہوا کرتا تھا۔ اس نسبت سے بھی وہ اس کا خیال کرتی تھی۔ آہستہ آہستہ گزرتے وقت کے ساتھ ہم بھی بڑے ہونے لگے۔ فائزہ بھی سمجھدار ہو گئی تھی اور پردہ کرنے لگی تھی۔ وہ اب امجد کو نہیں بلاتی بلکہ مجھے بلاتی تھی لیکن اس کے مہربان سلوک سے جو شمع امجد کے دل میں روشن ہوئی تھی، وہ بجھنے والی نہیں تھی۔ بڑے ہو جانے کے بعد اب امجد اس نواب زادی سے صرف خواب میں ہی مل سکتا تھا کیونکہ ہمارے علاقے کے قوانین اور رسم ورواج بڑے سخت تھے۔ کسی کے خواب میں تو وہ کم ہی آتی تھی لیکن جب اسے دیکھنے کو دل کرتا، امجد اس راستے پر کھڑا ہو جاتا جہاں سے اس کی گاڑی گزرتی تھی۔ وہ بھی شاید اس کے معصوم جذبوں کی زبان کو سمجھتی تھی۔ جو نہی گاڑی اس کے قریب سے گزرتی، فائزہ نقاب الٹادیتی۔ پہلے پہل امجد کے راستے میں یوں کھڑے رہنے کا کسی نے نوٹس نہ لیا۔ رفتہ رفتہ کچھ لوگوں نے چونکنا شروع کر دیا، انہی میں فائزہ کا ماموں زاد بھائی رحم خان بھی تھا۔ ایک روز امجد راستے میں ایک درخت سے ٹیک لگائے کھڑا تھا، جو نہی فائزہ کی گاڑی قریب سے گزری، رحم خان ایک شکرے کی طرح جھپٹ کر امجد کے پاس آیا۔ کہنے لگا۔ تم گا۔ تم روز یہاں اس وقت کیوں کھڑے ہوتے ہو، وجہ بتائو ؟ وہ کیا وجہ بتاتا۔ بولا۔ اللہ کی زمین ہے، ہر انسان کی مرضی کہیں بھی کھڑار ہے، یہ جگہ آپ کی ملکیت تو نہیں ہے۔ وہ اس جواب پر بگڑ گیا۔ امجد سے الجھ پڑا، ہاتھا پائی پر اتر آیا۔ امجد بھی خاموشی سے پٹنے والا نہیں تھا۔ وہ رحم خان سے زیادہ صحت مند اور جسمانی طور پر طاقتور تھا، اس کے ساتھ گھتم گتھا ہو گیا اور اس کو پچھاڑ دیا۔ رحم خان اپنی   اس اہانت کو گرہ میں باندھ لیا۔ دل میں ٹھان لی کہ اس مفلس زادے کو مزہ چکھا کر رہے گا۔ پس رحم خان نے حامد خان سے جاکر شکایت کی کہ اس طرح امجد خان آپ کی بیٹی کے راستے میں کھڑا رہتا ہے اور جب تک گاڑی گزر نہیں جاتی ، یہ وہاں رکا رہتا ہے۔ حامد خان کو کبھی امجد کے گھرانے سے کوئی شکایت نہ ہوئی تھی۔ وہ جانتا تھا کہ یہ اس کے پرانے ڈرائیور مرحوم فاخر کا بیٹا ہے لہذا انہوں نے فوری کوئی نقصان دہ ایکشن لینے کی بجائے امجد کو بلا کر پو چھا کہ تم خاص وقت کیوں روز سٹرک کے کنارے کھڑے رہتے ہو؟ خان صاحب ! میں تو بس ویسے ہی کبھی کبھار وہاں کھڑا رہتا ہوں اور بھی لوگ وہاں کھڑے ہوتے ہیں کیونکہ وہ ایک راہ گزر ہے۔ چلو مان لیا کہ تم ویسے ہی کھڑے ہوتے ہو لیکن آج سے میرا احکم ہے کہ آئندہ تم وہاں کبھی مت کھڑے ہونا۔ سڑک پار جانا بھی ہو تو کسی دوسرے راستے سے جانا، ادھر سے مت جانا۔ میں تمہارے اور رحم خان کے بیچ کسی قسم کی دشمنی اور فساد نہیں چاہتا، سمجھ گئے ا…! جی سمجھ گیا، آئندہ کبھی میری جانب سے آپ کو شکایت کا موقع نہ ملے گا۔ میں اسکول بھی دوسرے راستے سے جائوں گا۔ اسکول چھٹی کے بعد اس دن سے امجد نے وہاں کھڑے رہنا چھوڑ دیا، یہاں تک کہ ادھر سے گزرنا بھی چھوڑ دیا کیونکہ وہ خان صاحب کی حکم عدولی نہیں کر سکتا تھا اور نہ ان سے دشمنی مول لے سکتا تھا۔ تین سال گزر گئے ، جو وعدہ امجد نے خان صاحب سے کیا تھا، اس کا پاس رکھا تا ہم بازار میں کبھی کبھار فائزہ شاپنگ کرنے نکلی ہوتی تو اتفاق سے دونوں ایک دوسرے کو نظر آجاتے تب وہ چہرے سے نقاب اٹھا کر اس کو دیکھ لیتی اور امجد نظریں جھکا کر گزر جاتا۔ ایک روز وہ کسی کام سے شہر گیا، وہاں ایک دوست اسے مل گیا۔ دونوں اکٹھے بازار چلے گئے۔ کچھ چیزیں انہوں نے خرید نی تھیں جو وادی کی دکان پر نہیں ملتی تھیں تبھی مارکیٹ میں فائزہ کی کار کھڑی دیکھی تو امجد ٹھٹھک گیا۔ وہ گاڑی کی طرف دیکھنے میں محو تھا۔ رشید نے کہا۔ دیکھو امجد خان، زمین پر رہ کر آسمانوں کے خواب مت دیکھو ورنہ انجام اچھا نہ ہو گا۔ ٹھیک ہے دوست ! تم نے صحیح کہا ہے، میں آسمانوں کی اڑان بھرنے کے خواب کیوں دیکھوں جبکہ میرے پر ہی نہیں ہیں۔ پھر بھی جب اس گاڑی کو دیکھتا ہوں تو سوچتا ہوں کہ کبھی میں بھی اس میں بیٹھا تھا جب اس وقت گاڑی کے مالک مہربان ہوا کرتے تھے۔ اچھا تو اب ماضی کو بھلا دو، اس وقت تم بچے تھے مگر اب بچے نہیں رہے۔ اس لئے اپنی قسمت سے سوال کرتا ہوں، کیا کبھی ایسی گاڑی میرے پاس بھی ہو گی ؟ جب تم عمر بھر ایسی گاڑی کے مالک نہیں بن سکتے تو قسمت سے بھی ایسے سوال کیوں۔ گاڑی خان کی بیٹی کی ہے اس لئے ہر غلطی سے اپنا دامن بچا کر رکھو۔ اگر فائزہ کے بھائی نے تم کو اس طرح دیکھ لیا تو ٹھیک نہ ہو گا۔ فائزہ کا بھائی … مگر گائوں میں نہیں تھا، وہ تو میٹرک کے بعد پڑھنے کو کراچی چلا گیا تھا اور ادھر ہی رہ رہا تھا۔ بہت دن گزر گئے امجد نے پھر نہ تو فائزہ کو دیکھا اور نہ اس کی گاڑی کو۔ وہ سوچتا تھا کہ اب تو شاید ان کو کبھی نہ دیکھ پائوں گا۔ وہ اسی سوچ میں تھا کہ ایک دن فائزہ اپنی نوکرانی کے ہمراہ مارکیٹ سے نکلی اور گاڑی میں بیٹھ گئی۔ اس نے امجد کو نہیں دیکھا لیکن امجد نے اس کی ایک جھلک دیکھ لی، اس روز تمام رات وہ سونہ سکا۔ یہ اتنی لمبی رات ہو گئی کہ ختم ہونے کا نام ہی نہ لے رہی تھی۔ صبح سویرے جب وہ کتا بیں اٹھا اسکول جارہاتھا، ماں نے حسب معمول اس کو دعا دی۔

بیٹے ! خدا کرے تم بڑے آدمی بنو اور تمہاری مرادیں پوری ہوں۔ وہ ماں کی دعا کو سن کر افسردہ دل ہو گیا۔ سوچنے لگا جو دعائیں پوری ہونے والی نہیں ہوں، جانے کیوں ماں وہی دعائیں دیتی ہے۔ میں نہ تو کبھی بڑا آدمی بن سکتا ہوں اور نہ ہی میری مراد پوری ہو سکتی ہے اور مجھے فائزہ کی گاڑی جیسی شاندار گاڑی کبھی مل سکتی ہے۔ ایک روز جب ہم اسکول جانے کو تیار ہو گئے تو قیصر بھائی اسے بلانے کو امجد کے گھر گیا۔ راستے میں اس نے عجب منظر دیکھا۔ وہاں تین آدمی چادریں لیٹے اس طرح درخت کے نیچے کھڑے تھے جیسے کسی کا انتظار کر رہے ہوں۔ وہ ادھر اُدھر دیکھ رہے تھے جس سے قیصر کو شک ہوا کہ یہ لوگ کچھ غلط کرنے والے ہیں۔ اتنے میں فائزہ آتی دکھائی دی۔ وہ برقع لئے ہوئے تھی۔ جو نہی وہ اپنی گاڑی کے پاس پہنچی، یہ آپس میں چہ میگوئیاں کرنے لگے۔ قیصر نے یہ بات امجد کو بتائی۔ وہ پریشان ہو گیا اور کچھ سوچنے لگا۔ دوست ! چلو اب اسکول کو دیر ہو رہی ہے۔ جو نہی دونوں باہر آئے، امجد نے سڑک کو دیکھتے ہی اپنی کتابیں پھینک دیں اور فائزہ کی طرف دوڑا۔ اس دم وہ اپنی گاڑی میں بیٹھ ہی رہی تھی کہ ان افراد نے اس کو پکڑ لیا اور گاڑی میں نہ بیٹھنے دیا، تبھی ڈرائیور کار سے باہر نکلا اور فائزہ کی مدد کو آگے بڑھا۔ ان میں سے ایک نے جو اسلحہ سے لیس تھے ، اس پر گولی چلادی۔ یہ منظر ہم سب نے دیکھا۔ امجد نے تو اتنی تیزی سے دوڑ لگائی تھی، گویا ہوا سے باتیں کر رہا ہو ، پلک جھپکتے وہاں پہنچ گیا تھا اور ان لوگوں سے فائزہ کو چھڑانے کی کوشش میں زخمی ہو گیا۔ فائزہ کی آواز سن کر حامد خان کے محافظ بھاگتے ہوئے آئے جو ان کے گیراج کے پاس کھڑے تھے۔ قریب ہی باغ میں موجود خان صاحب خود بھی فائر کی آواز سن کر باہر نکلے اور ہوائی فائر شروع کر دیئے۔ ادھر اپنے زخمی ہونے کی پروانہ کرتے ہوئے امجد ، فائزہ اور ان افراد کے بیچ آ گیا تھا۔ خان صاحب بر وقت ہوائی فائر نہ کرتے تو یقینا یہ لوگ امجد کی جان لے چکے ہوتے اور فائزہ کو اغوا کرنے میں کامیاب ہو جاتے مگر یہ امجد ہی تھا جس نے درمیان میں آکر ان کو الجھادیا تھا۔ انہوں نے اسے دو گولیاں ماریں لیکن خان صاحب کی ہوائی فائر نگ سے ان کی توجہ متاثر ہو گئی اور نشانہ خطا ہو گیا۔ گولیاں امجد کے بازو کو زخمی کر کے نکل گئیں۔ فائرنگ سے بہت سے لوگ اور باغات کے مزدور وغیرہ بھی جائے وقوع کی سمت دوڑ پڑے اور حامد خان بھی بیٹی تک پہنچ گئے۔ ان لوگوں کو بھاگتے ہی بنی۔ انہوں نے اپنی گاڑی سڑک پر قریبی ہی کھڑی کی ہوئی تھی۔ وہ فورا ادھر کو بھاگے ورنہ وہ حامد صاحب کی بندوق کی گولیوں سے مارے جاتے لیکن یہ چالاک لوگ اتنے تربیت یافتہ تھے کہ انہوں نے اپنے سامنے فائزہ اور امجد کو کھڑا کر لیا تھا تا کہ کوئی ان پر فائر کرے تو پہلے یہ دونوں نشانہ پر رہیں۔ حامد خان کو تو اپنی بیٹی کو بچانے کی فکر تھی۔ وہ چلائے کہ کوئی فائر نہ کرے۔ پس ان لوگوں کو زندہ بھاگ نکلنے کا موقع مل گیا اور وہ پاس کھڑی اپنی گاڑی میں بیٹھ کر فرار ہونے میں کامیاب ہو گئے۔ یہ ایک فلمی سین جیسا تھا جس کو دیکھ کر میں دنگ رہ گئی اس روز ہم اسکول بھی نہیں گئے۔ بازو میں گولیاں لگنے سے امجد کا خون کافی بہہ گیا اور وہ وہاں گر کر بے ہوش ہو گیا تھا۔ ڈرائیور اور خان صاحب کے دو محافظ بھی زخمی ہوئے۔ سب کو اسپتال لے جایا گیا۔ امجد کو دو دن بعد ہوش آیا۔ بازو سے ایک گولی نکالی گئی اور آپریشن ہوا، خون چڑھایا گیا ، تب کہیں جا کر وہ بات کرنے کے قابل ہوا تھا۔ خان صاحب نے تمام واقعہ اپنی آنکھوں سے دیکھا تھا اور ان اشخاص کو بھی جو ان کے دشمن تھے ، وہ ان کی بیٹی کو اغوا کرنے آئے تھے لیکن امجد کے درمیان میں آجانے سے وہ اپنے ناپاک ارادے میں کامیاب نہ ہو سکے تھے۔ ادھر گیراج کے گارڈ بھی ہر وقت وقوعے پر پہنچ گئے تھے ورنہ جانے کیا ہو جاتا۔ جب امجد کو ہوش آیا، خان صاحب کو اپنے سامنے کھڑا پایا جو کہ اس لڑکے کے بے حد مشکور تھے جس نے اپنی جان پر کھیل کر ان کی عزت کو بچالیا تھا۔ جب امجد ٹھیک ہو گیا تو حامد خان نے اس کو گلے سے لگایا اور عزت دی۔ اپنا ایک باغ اس کے حوالے کیا اور اس کو ایک نئی گاڑی بھی تحفے کے طور پر دے دی۔ اس طرح امجد کی ماں کی یہ دعا پوری ہو گئی کہ خدا تم کو بڑا آدمی بنائے اور تمہاری مراد پوری کرے۔ اس نے کہا۔ میں نے ایک گاڑی کا خواب بچپن میں دیکھا تھا اور سمجھتا تھا کہ دعا قبول نہیں ہو گی لیکن غریب ماں کے دل سے نکلی دعاضر ور قبول ہوتی ہے۔ جس گاڑی کی حسرت میں خان کی بیٹی کے راستے میں کھڑا رہتا تھا کہ شاید اس میں چند لمحے بیٹھنا نصیب ہو جائے ، ماں کی دعا سے وہی خدا نے مجھے عطا کر دی ہے۔ امجد کی دلی مراد پوری ہو گئی ، باغ بھی مل گیا جس کی آمدنی سے وہ خوشحال ہو کر علاقے کا بڑا آدمی بھی کہلانے لگا۔ کہا جاتا ہے کہ دولت مند لوگ مغرور اور سخت دل ہوتے ہیں مگر سبھی ایک جیسے نہیں ہوتے ، بہت سے دولت مند لوگ بہت اچھے انسان بھی ہوتے ہیں جیسا کہ حامد خان کہ جنہوں نے اپنے ملازم کے یتیم بیٹے کو اس کی وفاداری کے صلے میں اتنا نواز دیا کہ علاقے کے لوگ دنگ رہ گئے۔

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.