Waldain Ki Kami Teen aurtein Teen kahaniyan

0 275


زندگی میں اُتار چڑھائو انسان کی شخصیت کو نکھارتے اور کچھ اتفاقات حیات کو حسین بنا دیتے ہیں۔ تاہم کچھ اتفاقات روح کا عذاب بھی بن جاتے ہیں۔ انسان کی مٹی میں خطا بھی شامل ہے۔ وہ خطا کی مٹی سے بنایا گیا ہے تبھی زندگی کے کسی نہ کسی موڑ پر وہ کوئی بڑی غلطی کر جاتا ہے۔ میرے والد صاحب نے بھی ایسی ہی غلطی کی کہ جس کے اثرات ان کی اولاد کو برباد کر گئے۔ وہ پولیس کے محکمے میں ملازم تھے ، جہاں رشوت کی ریل پیل تھی۔ والد صاحب شروع میں بد دیانت نہ تھے لیکن بعد میں اس چھوت کے مرض سے نہ بچ سکے۔ دوسروں کی دیکھا دیکھی وہ بھی کنبے کی خوشحالی کی خاطر اس دلدل میں اتر گئے۔ بات دراصل یہ تھی کہ جس صوبے میں ان کی تعیناتی تھی وہاں کا سربراہ ہی اس بُری لعنت میں ڈوبا ہوا تھا۔ اس کی ما تحتی میں کچھ دیانت دار آفیسر بھی بددیانتی پر مجبور تھے۔ جن اداروں کے سربراہ بددیانت ہوں ، وہاں ان کے ماتحت بھی درست خطوط پر ملازمت کا سفر جاری نہیں رکھ سکتے۔ سو ابو ہی نہیں، محکمے کے باقی ملازم بھی رشوت ستانی کی اس دلدل میں گلے گلے ڈوبے ہوئے تھے۔ کہتے ہیں، رزق حلال انسان کے اخلاق اور کردار کو کندن کی مانند نکھار دیتا ہے ، خواہ اس میں کتنی ہی تکلیف کیوں نہ چھپی ہوں جبکہ حرام کی کمائی آدمی کے خون میں بُرائی کا زہریلا بیج بو دیتی
ہے۔ اس بات سے کوئی اتفاق کرے نہ کرے مجھ کو اس امر پر یقین ہے کیونکہ یہ سب مجھ پر بیتی ہے۔ ابو کی رشوت ستانی نے جہاں ہمارے گھر پر بہن برسایا اور آسائشوں کے دروازے کھولے وہاں ہم کو نکما ، کام چور اور آرام پسند بھی بنا دیا، یہی وجہ ہے کہ میرے دونوں بھائی اعلیٰ اسکول میں پڑھنے کے باوجود اعلیٰ تعلیم سے محروم رہے۔ ہم دونوں بہنیں بھی ظاہری نمود و نمائش کی رسیا ہو کر روحانی سکون و طمانیت کھو بیٹھیں۔ ہمیں جب زندگی کی ساری سہولتیں حاصل ہوئیں، تو ہمارے مزاج اور رنگ ڈھنگ بھی بدلنے لگے۔ ہم محنت سے جی چرانے لگے تبھی قدرتی طور پر ہم چاروں بہن بھائی اس انسانی عظمت سے محروم ہوئے جو کردار کی پختگی کے رُوپ میں حاصل ہوتی ہے۔ ہم سبھی بہن بھائیوں میں یہ کمی رہ گئی کہ محنت سے دُور ہوئے تو پڑھائی سے بھی دور ہو گئے۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ایسے وسائل تلاش کرنے لگے جس میں بنا محنت سرمایہ حاصل کیا جائے۔ بھائی راتوں رات دولت مند بن جانے کے خواب دیکھنے لگے اور انہی خوابوں کی تعبیر کو پانے کی خاطر وہ غلط قسم کے لوگوں میں جا پھنسے۔ دونوں بھائی، ارباب اور ماہتاب دولت کمانے کے چکر میں ایک ایسے گروہ کے رکن بن گئے جو اسمگلنگ اور منشیات فروشی کا مکروہ کاروبار کرتا تھا۔ ان کو یہ زعم تھا کہ ہمارا باپ تو پولیس آفیسر ہے ، ہم پکڑے گئے تو بھی کوئی ہمارا کیا بگاڑ لے گا۔ کچھ دن تو ابو کو علم نہ ہوا کہ میرے لڑکے کیسے گروہ کے ہتھے چڑھ گئے ہیں، مگر جب بیٹے بریف کیس بھر کے نوٹ لانے لگے تو انہوں نے حقیقت جانتے ہوئے بھی پچپ سادھ لی کہ ان کے ایمان کو رشوت کے روپے نے کمزور کر ڈالا تھا یا ان کو اپنے عہدے کی طاقت کا زعم تھا۔ منشیات کی لعنت کتنی قابل تعزیر ہے۔ اس امر سے واقف ہونے کے باوجود والد صاحب نے بیٹوں کو غلط راہ پر چلنے سے نہیں روکا کیونکہ وہ رشوت کے روپے سے حاصل کئے ایک قیمتی پلاٹ کو جلد از جلد پلازہ کا روپ دینا چاہتے تھے۔ بڑی بہن کی شادی ایک امیر گھرانے میں ہو گئی۔ ان کی قسمت کہ شوہر اچھاملا، تاہم بابل کی ہر بیٹی کی قسمت ایک سی نہیں ہوتی۔ آپا کے بر عکس شادی کے روپ میں بد قسمتی میری راہ دیکھ رہی تھی۔ میرے لئے جو رشتہ آیا بظاہر تو یہ لوگ تعلیم یافتہ ، سمجھے ہوئے اور شریف خاندان سے تھے۔ گھرانہ بھی خوش حال نظر آتا تھا۔ امی ابو نے ہاں کر دی اور میرا نکاح خان سے ہو گیا۔ سال بعد رخصتی ہوئی تھی۔ میرے سسر صاحب بزنس کرتے تھے۔ ان کا کاروبار بہت اچھا جا رہا تھا۔ ان کے بیٹے بھی اس کاروبار میں شریک تھے ، سو مشترکہ فیملی سسٹم تھا۔ گھر کی بڑی ساس تھیں، نوکر خدمت کے لئے موجود تھے، غرض ہر طرح سے سب اچھا تھا۔ میں بیاہ کر سسرال آگئی۔ شوہر درویش صفت تھے، ان کو دولت سے زیادہ دلچسپی نہ تھی۔ کاروبار کے جھمیلوں سے آزاد ہو کر مزید تعلیم حاصل کرنا چاہتے تھے ، ان کو بزنس کی پابندی نہ بھائی۔ وہ وکیل یا آفیسر بننے کے خواہاں تھے۔

والد نے بیٹے کا رجان تعلیم کی طرف دیکھا تو ان کو اعلی تعلیم حاصل کرنے کے لئے آزاد کر دیا تاکہ سی ایس ایس کی تیاری کر لیں اور اعلیٰ آفیسر بن جائیں یا پھر وکالت کر کے خود کو پایہ کا قانون دان ثابت کریں۔ ان کی خوش قسمتی کہ سب گھر والے ان کا ساتھ دے رہے تھے لیکن میری بد قسمتی کہ میں نے ہی ان کا ساتھ نہ دیا اور پڑھائی کے معاملے میں ان کی دل شکنی کرنے لگی۔ مجھے لگتا تھا کہ یہ ایمان دار افسر بن گئے تو اتنی دولت نہ کما سکیں گے جتنی ان کے والد اور بھائی کاروبار میں کمالیں گے ، ہم ان سے پیچھے اور کم حیثیت رہ جائیں گے۔ میں یکے بعد دیگرے دو بچوں کی ماں بن گئی۔ اس دوران میں نے شوہر کو سکون نہ لینے دیا۔ بدستور ان کے پیچھے پڑی رہی کہ پڑھائی چھوڑیئے اور کاروبار میں شامل ہو جائیے۔ افسری میں کچھ نہیں رکھا، روکھی سوکھی تنخواہ سے بچوں کے لئے ہم زندگی کی تمام آسائشیں حاصل نہیں کر سکتے۔ میرے بچے احساس کمتری کا شکار ہو کر اچھی چیزوں کو ترستے رہ جائیں گے ۔ گھر میں پھوٹ پڑ جائے تو دشمن فائدہ اُٹھاتے ہیں۔ سسر صاحب کا انتقال ہو گیا اور میرے شوہر کے بھائیوں میں پھوٹ پڑ گئی۔ کاروبار میں شریک کچھ لوگوں نے اس کا فائدہ اُٹھا یا۔ اُن کو خسارے کے آخری کنارے پہنچا دیا اور ہم لوگ مکمل بربادی کی لپیٹ میں آگئے۔ ان دنوں میرے شوہر گریجویشن مکمل کرنے کے بعد وکالت کا امتحان بھی پاس کر چکے تھے اور مقابلے کے امتحان کی تیاری کر رہے تھے لہذا مالی حالات دیکھتے ہوئے اپنے بھائیوں سے الگ ہو کر ملازمت کی تلاش میں لگ گئے۔ خدا نے ان کی محنت کو رائیگاں نہ کیا اور ان کو ایک اچھی ملازمت مل گئی۔ ہماری گزر بسر ہونے لگی تاہم پہلے جیسا عیش و آرام نہ رہا جو میسر صاحب کے زمانے میں حاصل تھا۔ جائیداد کا بٹوارہ ہوا۔ ہم کو مکان کی قیمت دے کر الگ کر دیا گیا۔ ہم نے اس رقم سے پلاٹ خرید لیا اور کرائے کے مکان میں رہنے لگے۔ یہ مکان چھوٹا سا تھا جس میں بچوں کے کھیلنے کو صحن تک نہ تھا۔ بچے جب بڑی سی کوٹھی سے اس تنگ مکان میں آئے تو ان کا جی گھبراتا تھا۔ طرزِ زندگی میں بہت فرق آ گیا۔ میرے بچے تو بڑے گھر میں ٹھاٹ باٹ سے رہنے کے عادی تھے ، جہاں نوکر چاکر اور ہر طرح کی سہولتیں میسر تھیں۔ وہ کہتے۔ ماں آپ کدھر آگئی ہو، یہاں سے نکلو، ہم نے یہاں نہیں رہنا، ہمیں اپنے گھر جانا ہے۔ تب مجھ کو بہت دکھ ہوتا اور سسر یاد آتے کہ جن کے ہوتے ہم ہر طرح کی ذمہ داریوں سے آزاد تھے۔ میں بھی تو اس قسم کی زندگی بسر کرنے کی عادی نہ تھی۔ بہت پریشان ہوتی۔ اکثر گرمی سے گھبرا کر میکے بھاگتی ، جہاں زندگی اب بھی پھولوں کی سیج تھی۔ جب بابل کے گھر جاتی لگتا کہ جہنم سے جنت میں آگئی ہوں۔ پانچ مرلے کے مکان میں واپس لوٹ جانے کو دل نہ کرتا۔ بھائی غلط کاموں سے دولت سمیٹ رہے تھے۔ بڑی بہن کی زندگی بھی ٹھاٹ باٹ سے گزر رہی تھی ، سوچتی کہ ایک میں ہی کرموں ماری ہوں جو ذرا ذرا اسے آرام کو ترس رہی ہوں۔ شوہر سے کہتی کہ تمہاری وکالت سے تو روزی روٹی پوری نہیں ہوتی تم بچوں کو کیا اعلیٰ تعلیمی اداروں میں پڑھا پائو گے اور کب عیش کرائو گے ، یہ بیچارے یو نہی سکتے ہوئے زندگی گزاریں گے۔ وہ جواب دیتے۔ کیوں پریشان ہوتی ہو ، تھوڑا سا صبر کر لو، جلد حالات بدل جائیں گے۔ وکالت کے پیشے میں ابتدا میں صرف محنت ہوتی ہے۔ روٹی گھر سے کھانی پڑتی ہے چار پانچ سال صبر سے گزار لو پھر دیکھنا کہ کیسے میری محنت رنگ لاتی ہے اور دولت ہمارے گھر میں آتی ہے۔ ان کی باتوں سے دل جل اٹھتا۔ آپ کہاں کی کوڑی لاتے ہیں۔ بھلا محنت سے بھی کہیں گھی کے چراغ جلتے ہیں ؟ محنت سے تو برسوں روکھی سوکھی کھانی پڑتی ہے تب جا کر کچھ حاصل حصول ہوتا ہے، وہ بھی قسمت والوں کو۔ مجھ کو ذرا اعلیٰ پائے کا وکیل بننے دو۔ تمہارے اعلیٰ پائے کے وکیل بننے تک بھوکے نہیں مرنا ہے ، بڑھاپے میں امیر ہوئے تو کیا ملے گا، جب جوانی اور اس عمر کی خواہشیں تنگ دستی کے شکنجے میں پھانسی پاتی رہیں گی۔ میں نے بہت چاہا میاں جی میری بات سمجھیں مگر وہ نہیں سمجھتے تھے۔ ایک ہی بات کی رٹ کہ محنت سے عزت ملتی ہے اور صبر کا پھل میٹھا ہوتا ہے۔ میرے بھائیوں نے جو مجھ کو پریشان دیکھا۔ کہنے لگے ، اپنے میاں سے کہو کہ یہ کبھی فاقہ اور کبھی افاقہ والا پیشہ چھوڑیں اور ہمارے کاروبار میں شمولیت کر لیں۔ چند دنوں میں وارے نیارے ہو جائیں گے ۔ اتنا کمائیں گے کہ ہم کو دعائیں دیں گے۔ بھائی ہی نہیں میرے حالات دیکھ کر آپا اور بھا بھیاں بھی مجھ پر ترس کھانے لگی تھیں۔ ان کے بچے میرے بچوں کے ساتھ کھیلنے نہیں چاہتے تھے ۔ ان کی باتیں میرے دل پر گھونسا بن کر لگتیں۔ اب تو رشتہ دار بھی مجھ کو اہمیت نہ دیتے اور میں جانتی تھی کہ یہ سلوک ان کا اس وجہ سے ہے کہ میرے میاں زیادہ امیر نہیں ہیں۔

جب میکے سے لوٹتی، محب سے خوب لڑتی کہ یہ سب صرف تمہاری دقیانوسی سوچوں کی وجہ سے ہے۔ وہ کہتے وکالت وقت اور محنت مانگتی ہے، صبر چاہئے اور میں کہتی بھاڑ میں گئی، تمہاری محنت دیانت اور صبر ، مجھ کو نہیں چاہئے۔ ایسی عزت جس کو حاصل کرنے میں برسوں لگیں۔ میرے بھائیوں کو دیکھو، کیسے ہن برس رہا ہے ، وہ تم کو اپنے ساتھ کاروبار میں شریک کرنا چاہتے ہیں۔ ان کی مان لو ، بلا وجہ وکالت میں سر کھپا رہے ہو۔ عزت بھی دولت سے ملتی ہے۔ وہ دن ہوا ہوئے جب عزت شرافت سے ملتی تھی۔ اب تو ہم نہ میکے والوں کی نظروں میں معزز رہے ہیں اور نہ سسرال والوں کی نگاہوں میں۔ ہماری رات دن اسی بات پر لڑائی رہنے لگی۔ میں کہتی ، وکالت چھوڑ دو اور وہ کہتے کہ نیا نیا کام شروع کیا ہے، ذرا میرے پیر جمنے تو دو، پھر دیکھنا وقت سے سب کچھ مل جائے گا۔ میں ان کے بڑا وکیل بنتے تک انتظار اور محرومی کی چکی میں نہ پسنا چاہتی تھی۔ اچھی زندگی بسر کرنے کے دن تو یہی تھے ، آرزوئوں سے لبریز جو بیتے جا رہے تھے۔ بچوں کے کھانے پینے اور میرے ہار سنگھار کے دن بھی یہی تھے۔ اب نہ تو سیر و تفریح کا لطف لے سکتے تھے اور نہ شاپنگ کا۔ جب محب خان نے میری بات نہ مانی ، میں روٹھ کر میکے آگئی۔ وہ بہت پریشان ہوئے ، منانے آئے ، میرے بھائیوں نے بھی کہ دیا یا تو ہمارے ساتھ کام میں شریک ہو جائو یا پھر ہماری بہن کو طلاق دے دو کیونکہ تم اس کو کبھی اچھی زندگی نہیں دے سکتے۔ محب سے کہا کہ بڑھاپے تک ہماری بہن اچھے دنوں کا انتظار نہیں کرے گی۔ تم نے اپنی روش نہ چھوڑی تو ہم اس کو تم سے آزاد کرالیں گے ۔ آج کل محنت سے جلد روپیہ نہیں کمایا جاسکتا، یہ مقابلے اور تیز رفتاری کا زمانہ ہے، روپیہ کو دیکھو، کیسے کمایا یہ مت دیکھو۔ تعلیم نے محب پر اثر کیا تھا۔ انہوں نے قانون کی تعلیم پائی تھی لہذا وہ راضی نہ ہوئے وہ کیونکر میرے بھائیوں کے کہنے پر مجرم کی دنیا میں داخل ہو جاتے۔ انہوں نے مجرم بنے سے بہتر جانا کہ ہم سے کنارہ کر لیں۔ تم بے شک اپنے میکے میں رہو ، مجھ سے ناتا مت رکھو مگر طلاق کی جلدی نہ کرو۔ کم از کم سال بھر کے لئے اس مطالبے کو تہہ کر رکھو، شاید حالات بدل جائیں۔ بچوں کی خاطر میں نے بھی ان سے علیحدگی اختیار کر لی مگر طلاق نہ لی یعنی ہمارا نکاح کا رشتہ بر قرار رہا لیکن میں نے اپنے میکے میں بسیرا کر لیا اور ان کو ان کے پانچ مرلے کے مکان میں اکیلا چھوڑ دیا۔ ہمیں علیحدہ رہتے سات ماہ ہوئے تھے کہ شومی قسمت منشیات کی اسمگلنگ میں میرے دونوں بھائی دھر لئے گئے۔ اس بار والد کی پشت پناہی بھی کام نہ آئی۔ اگر وہ کھل کر بیٹوں کے لئے تگ و دو کرتے تو بد نامی مزید ہونی تھی۔ بہر حال اس بار قسمت نے یاوری نہ کی ، گینگ پکڑا گیا، میرے بھائی بھی اندر ہو گئے۔ مجھے محب خان کی یاد آئی اور ان سے قانونی مدد مانگی۔ انہوں نے کیس کے لئے ایک بڑا قابل وکیل رکھ کر دیا اور خود بھی معاونت کی میرے بھائیوں کو بھاری جرمانہ تو ہوا لیکن سزا لمبی نہ ہوئی۔ ان کو شک کا فائدہ مل گیا جبکہ دوسرے مجرموں کو لمبی سزا ہو گئی۔ جب بھائی ضمانت پر گھر آئے تو ہم نے شکر کیا۔ آج مجھے ایک قانون دان کی بیوی ہونے پر فخر ہوا۔ آج میرے دل نے اعتراف کیا کہ تعلیم اور دیانت داری کے ساتھ جب محنت کا میل ہوتا ہے تو انسان کا سر فخر سے بلند ہو جاتا ہے اور وہی لوگ قدر و منزلت پاتے ہیں جو سیدھے راستے پر چلتے ہیں، محنت سے حق حلال کا رزق اپنے بچوں کو کھلاتے ہیں۔ میں نے اپنے شوہر سے صلح کرلی اور صبر سے کام لیا۔ وقت گزرتے دیر نہیں لگتی۔ آج میرے شوہر نامی گرامی وکیل ہیں۔ ان کو ساری دُنیا سلام کرتی ہے لیکن میرے والد صاحب کو کوئی جانتا نہیں۔ وہ اب منوں مٹی نیچے سو گئے ہیں۔ خدا ان کی مغفرت کرے۔ آج مجھ کو عیش و عشرت میں دیکھتے تو یقیناً اپنے داماد پر فخر کرتے۔ آج میں ایک شاندار گھر میں رہتی ہوں۔ کاریں کوٹھیاں سبھی کچھ ہے ، دلی سکون بھی ہے لیکن والدین کی کمی کو عمر بھر محسوس کرتی رہوں گی۔

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.