Yeh Qeemti Rishtay Teen aurtein Teen kahaniyan

0 203


یہ قصہ شروع ہوتا ہے ایک شخص کی بے راہ روی سے اور وہ شخص کوئی اور نہیں، میرا اپنا باپ تھا، جن کو شادی کے بعد کسی اور عورت سے عشق ہو گیا، جبکہ گھر میں ان کی خوبصورت بیاہتا موجود تھیں، وہ میری اماں تھیں، جن سے میرے والد صاحب نے پسند سے شادی کی تھی، کسی نے زبردستی یہ شریک حیات ہر گزان کے گلے نہیں منڈھی تھی۔ اماں ان کی خالہ زاد تھیں اور شادی کے بعد دونوں میاں بیوی پیار و محبت کے ساتھ پر سکون زندگی بسر کر رہے تھے۔ان کی شادی کے دو سال بعد اللہ تعالی نے میری صورت میں ان کو انعام کے طور پر ایک پھول سی بچی عطا کی کہ اچانک میرے والد کو اپنے پڑوس میں آباد گھرانے کی بیس سالہ دوشیزہ کلثوم سے عشق ہو گیا، جس وجہ سے ان کی بیوی، بیٹی ، گھر بار سبھی کچھ دائو پر لگ گیا۔ کلثوم کے گھر والوں کو جب اس امر کا عمل ہوا، تو وہ آگ بگولہ ہو گئے لیکن بات بہت آگے نکل چکی تھی ، پس اپنی عزت بچانے کو انہوں نے شرط رکھی کہ پہلی بیوی کو طلاق دے دو، ہم کلثوم کا رشتہ دے دیں گے۔ اس وقت ابا کو کچھ نہ سوجھ رہا تھا۔ انہوں نے میری بے قصور ماں کو طلاق دے کر گھر بدر کر دیا اور اپنی من پسند لڑکی کو بیاہ کرلے آئے۔ جب یہ واقعہ ہوا، میں چار سال کی تھی۔ کلثوم نے آتے ہی پہلا کام یہ کیا کہ مجھے اپنے کمرے سے نکال کر دوسرے کمرے میں میر ابستر لگادیا اور تنہا سلانا شروع کر دیا۔ میری عادت تو اماں کے ساتھ سونے کی تھی۔ رات کو ڈر کی وجہ سے اکیلے کمرے میں سونے سے نیند نہ آتی ، اٹھ اٹھ کر روتی۔ اندھیرے میں خوف آتا تھا۔ وہ باپ جو مجھ سے والہانہ پیار کرتا تھا، دوسری عورت سے شادی کے بعد کس طرح بدل گیا تھا، جو کلثوم کہتی اس کی ہر بات مانتا۔ کلثوم ابا سے کہتی کہ اس کو ہر گز اس کی ماں سے مت ملانا، یہ بار بار ماں سے ملنے جائے گی تو ہر بار درد جدائی سہے گی۔ تب یہ ادھر کی رہے گی اور نہ ادھر کی۔ ہو سکتا ہے میری سوتیلی ماں کی بات صحیح ہو مگر میرے ساتھ ایسانہ ہو بلکہ اس سے بہت مختلف ہو گیا۔ ماں کو میں نہ بھلا سکی۔ اماں کے جانے کے بعد ایک دن ایک لمحے کو بھی قرار نہ ملا۔ میں جو ایک تر و تازہ گلاب کی مانند تھی، مرجھا کر زرد بکھری پتیوں کے جیسی ہو گئی تھی۔ وقت گزرتارہا۔ میری روح کا خلا بڑھتار ہا جو مجھے بے چین و بے قرار کرتا۔ ایک آس پھر بھی تھی کہ اب نہیں تو پھر کبھی ماں سے ملوں گی، کبھی تو ملوں گی۔ ہر دن ایک آس کے ساتھ ابھرتا اور ناامیدی کے اندھیروں میں کھو جاتا۔ ایک روز میرا اسکول جانے کو دل نہ کر رہا تھا۔ جی چاہتا تھا کہ کوئی مجھ کو ماں کے گھر کا رستہ بتادے اور میں ان کے پاس چلی جائوں یا دریا سامنے آجائے اور میں اس میں کود جائوں۔ اس روز میرا اسکول میں دل نہ لگا۔ دماغ کہیں بھٹک رہا تھا۔ ٹیچر نے کیا پڑھا یا، لڑکیاں کیا باتیں کر رہی تھیں، میرے کان صرف آواز وں کو سن رہے تھے۔ جملوں کے مفہوم کو نہ سمجھ سکتی تھی۔ اسی مہم شور میں چھٹی کا وقت آگیا۔ اسکول سے نکلی اور دھیرے دھیرے گھر کی طرف چلنے لگی۔ حسب معمول آسیہ ماسی ہم پانچ بچیوں کو گھر کے پاس پہنچا کر لوٹ گئی۔ لڑکیاں اپنے گھروں کو چلی گئیں لیکن میر ادل اپنے گھر کے اندر جانے کو نہ کیا تو چوک میں بنی چوکی پر بیٹھ گئی۔ تبھی ایک شخص جس کا نام ابراہیم تھا اور سب اس کو لالہ جی بلاتے تھے ، وہاں سے گزرا۔ دفعتاً اس کی نگاہ مجھ پر پڑی۔ میں پہلے بھی اس طرح محلے کے چوک میں تھلے پر نہ بیٹھی تھی ، وہ بھی اسکول سے واپسی پر بستے اور یونیفارم کے ساتھ ۔ لالہ حیران ہو کر بولا۔ ارے منی تو عین دو پہر دھوپ میں یہاں بیٹھی ہے ؟ گھر کے اندر کیوں نہیں گئی؟ کیا ماں نے کچھ کہہ دیا ہے ؟ لالہ کو میں پہچانتی تھی، محلے کا ہی آدمی تھا۔ سبھی اس کو جانتے تھے۔ گلی کے نکڑ پر اس کا گھر تھا، اپنے مکان کے کونے پر اس نے چھوٹی سی دکان بنائی تھی، جس میں اسکول کی کتابیں، کاپیاں ، پینسلیں اور بچوں کے لئے بسکٹ ٹافیاں وغیرہ برائے فروخت ہوتی تھیں۔ لالہ نے ہمدردی اور توجہ سے مخاطب کیا تو میں رونے لگی۔ تبھی وہ میرے پاس آیا اور سر پر ہاتھ پھیر کر بولا۔ارے منی تو رورہی ہے بھلا کیوں ، مجھے لگتا ہے کہ ماں نے آج پھر تجھ کو مارا ہے۔ سب جانتے تھے کہ میری ماں سوتیلی ہے اور مجھے ڈانٹتی اور مارتی ہے۔ محلے والوں کو اس بنا مجھ سے ہمدردی تھی۔ لالہ نے میرا اسکول بیگ اٹھالیا اور بازو سے پکڑ کر بولا۔ چل اٹھ ! میں تجھ کو پہنچاتا ہوں تیرے گھر ۔ تیری ماں کو کہوں گا اس کو کچھ مت کہنا۔ نہیں لالہ میں اب اپنے گھر نہ جائوں گی۔ میں اور زیادہ رونے لگی۔ تب اس نے کہا اچھا میرے ساتھ چل، یہاں بیٹھنا ٹھیک نہیں ہے۔ دیکھ کتنی دھوپ ہے- اس نے پیار سے باتیں کر کے مجھے آمادہ کر لیا اور میں اس کے ساتھ اس کی دکان میں چلی گئی۔ اس نے مجھے بینچ پر بٹھا دیا۔ کولر سے ایک مگ میں پانی بھر کر دیا اور کہا۔ پانی کے چھپکے منہ پر مارلے تاکہ تیرا غصّہ ٹھنڈا ہو ۔ لگتا ہے ماں نےنہیں، تیری استانی نے ڈانٹا ہے. سبق یاد نہیں تھا کیا ؟ لالہ مجھ کو منہ نہیں دھونا ہے اور مجھ کو کسی نے مارا ہے اور نہ ڈانٹا ہے۔ میں سمجھ گیا تجھ کو تیری ماں کی یاد آرہی ہے ، ہے نا یہی بات ؟ جانے کیسے اس نے میرے دل کی بات جان لی تھی۔ کہنے لگا۔ ماں کو یاد کرنے سے کوئی اداس ہوتا ہے۔ یاد تو خوشی دیتی ہے۔ میں تو جب اپنے ماں باپ کو یاد کرتا ہوں تو خوش ہوتا ہوں۔ جب میں ان کی یاد سے خوش ہوتا ہوں، پھر وہ میرے خواب میں آجاتے ہیں، تو بھی اپنی ماں کی یاد سے خوش ہوا کر تو وہ روز تیرے خواب میں آیا کرے گی۔ لالہ کی بات سن کر میرے اداس من میں امید کی ایک کرن جاگی۔ تبھی اپنے آنسو پونچھ لیے۔ کیا سچ کہتے ہو لالہ ؟ ہاں بالکل  سچ کہتا ہوں۔ اچھا اب تو یہ ٹافیاں اور بسکٹ لے اور گھر جا۔ اب میں اس کی ڈھارس دینے والی باتوں سے بہل چکی تھی۔ میں بچی ہی تو تھی اور بچوں کی اہم ضرورت پیار ہوتا ہے، کسی نے پیار سے بات کی تو میں خوش ہو گئی۔ اب میں روز شام کو لالہ کی دکان پر جانے لگی۔ لالہ کی زندگی کی کہانی میرے جیسی ہی تھی۔ اسے بھی بچپن میں وہی دکھ ملا تھا جو مجھے ملا تھا، تبھی وہ میرا غم سمجھتا تھا۔ اس کو پتا تھا کہ میں پیار چاہتی ہوں۔ وہ مجھ سے پیار کے ساتھ بات کرتا، میری ماں کے بارے میں اچھے اچھے کلمات کہتا۔ یقین دلاتا کہ ایک دن میں ان سے ضرور ملوں گی تو میری روح کو سکون مل جانا۔ یوں میں اس کی گرویدہ ہو گئی۔ اسی کے پیار کے سہارے میں نے بچپن کے کڑوے کسیلے کٹھن دن کاٹ دیئے اور میں منی سے بڑی ہو گئی۔ اب میں چوتھی کلاس میں تھی۔ نو برس کی ہو چکی تھی، پھر بھی والہانہ لالہ کی دکان پر دوڑی جاتی تھی۔ حالانکہ اب کلثوم اماں کو میرے گھر سے باہر جانے پر اعتراض ہو تا تھا مگر آنکھ بچا کر ایک چکر تو میں ضرور لالہ کے پاس لگا آتی تھی۔ حالانکہ بچپن تو اب بھی تھا مگر اب میرا بچپن لڑکپن میں تبدیل ہو رہا تھا، تاہم اتنی بڑی نہ ہوئی تھی کہ زمانے کی اونچ پیچ کو سمجھتی ۔ ذہن میر اپلیٹ کی مانند صاف تھا۔ مجھ کو ابھی تک مرد و عورت کے درمیان محبت کا پتا نہ تھا۔ لالہ میرا غمگسار تھا اور پسندیدہ انسان تھا، بس اتنا ہی میرا اس کا رشتہ تھا۔ مجھے کو اس کے دیکھنے سے راحت ملتی تھی۔ میں آٹھ نو برس کی اور وہ پچیس برس کا تھا۔ اب تک اس کی شادی نہ ہو سکی تھی، البتہ منگنی چاچا کی لڑکی سے ہو گئی تھی جو دیہات میں رہتی تھی۔ اس کے باقی رشتہ داروں کا بھی معلوم نہ تھا، البتہ ایک بزرگ عورت جو اس کی پھوپھی تھی، شروع سے اس کے ساتھ رہتی تھی، جو گھر سنبھالتی اور لالہ کا خیال رکھتی، اس کا کھانا بھی پکاتی تھی۔ وہ بھی جب ملتی، پیار سے بات کرتی۔ وہ کبھی کبھار ہی اپنی پھوپی کے ساتھ آبائی گائوں جاتا۔ چند روز بعد یہ لوگ واپس آ جاتے۔ میں نے چھٹی جماعت اچھے نمبروں سے پاس کی تو والد نے کلثوم اماں کی مخالفت کے باوجود مجھ کو اسکول سے نہ ہٹایا۔ تاہم سوتیلی ماں اب مجھ پر کڑی نگاہ رکھتی، ہر وقت کہتی کہ اب تو باہر مت نکلا کر ، بڑی ہو گئی ہے۔ میں بھی سمجھ دار ہو گئی تھی۔ ماں کی ساری باتیں مانتی تھی لیکن جب وہ باہر جانے سے منع کرتی، مجھ کو بہت برا لگتا کیو نکہ میری عادت ہو گئی تھی دن میں ایک بار لالہ سے بات کرنے کی۔ جب تک اس سے مل کر دو چار باتیں نہ کر لیتی، چین نہ آتا۔ یوں کہنا چاہئے کہ مجھے یہ احساس ہی کب تھا کہ لالہ کوئی غیر آدمی ہے۔ مجھ کو صرف ایک احساس تھا کہ نفرت بھرے گھر میں گھر سے باہر ایک پیار کرنے والا آدمی مل گیا تھا اور میری پیاسی روح کے لیے سمندر کی مانند تھا۔۔ ایک دن اچانک لالہ اور اس کی پھوپھی گھر کو تالا لگا کر کہیں چلے گئے ، نجانے کہاں ؟ کسی کو خبر نہ تھی۔ میں زندگی میں ایک بار پھر تنہا ہو گئی، کوئی کمی محسوس کرنے لگی۔ میری نگاہیں اس کو تلاش کرتیں۔ ان دنوں میں آٹھویں میں پڑھتی تھی۔ بند دکان دیکھ کر کلیجہ منہ کو آتا تھا۔ کسی سے نہ پوچھ سکتی تھی کہ لالہ اور اس کی پھوپھی کہاں چلے گئے ہیں۔ نتیجہ یہ ہوا کہ میں اندر اندر گھلنے لگی، یہاں تک کہ بیمار پڑ گئی۔ ایک سال یو نہی بے قراری سے تڑپتے گزر گیا۔ آخر اللہ نے میری دعاسن لی اور ایک روز اسکول سے واپسی پر مجھ کو سڑک پر وہ کھڑا نظر آگیا۔ دل خوشی سے باہر آنے لگا۔ جی چاہا دوڑ کر اس کے پاس چلی جائوں مگر میرے ساتھ اسکول کی اور بھی دولڑکیاں تھیں جو ہمارے محلے میں رہتی تھیں۔ ان کی وجہ سے میں نے خود کو تھاما۔ وہ دن بہت مشکل سے گزرا۔ دوسرے روز اسکول سے واپسی پر جب اپنے محلے میں آئی، دیکھا اس کی دکان کھلی ہوئی ہے۔ ایک لمحے میں اس کی طرف جا پہنچی۔ پوچھا۔ لالہ ! آپ کہاں چلے گئے تھے، بتا کر بھی نہ گئے۔ آپ کو نہیں پتا میں کتنی پریشان تھی۔ ہاں، منی ! چاچابیمار تھے ، انہوں نے بلوایا تھا تو ہم کو جانا پڑا۔ تھوڑی سی ہماری زمین ہے گائوں میں ، ان کی اور ہماری اکٹھی تھی ، وہ اسی وجہ سے بلوا ر ہے تھے کہ بٹوارہ کریں۔ جب وہاں گیا تو کچھ مسئلوں میں پھنس ہی گیا۔ اچھا ہو الا لہ تم آگئے ہو ، میں بہت یاد کرتی تھی۔ آپ کو میرے ساتھ کوئی باتیں کرنے والا بھی نہ تھا۔ اب تو نہ جائو گے گائوں؟ نہیں … فی الحال تو نہ جانا ہو گا۔ دکان پر اور گاہک آنے لگے تو میں نے ایک کاپی اور پینسل لی اور چلتی بنی۔ لالہ کے لوٹ آنے کے بعد میری مسرتوں کا کوئی ٹھکانہ نہ تھا لیکن اب میں اتنا ضرور سمجھنے لگی تھی کہ میر اروز دکان پر کھڑے رہ کر لالہ سے باتیں کرناٹھیک نہیں۔ یہ معیوب بات ہو گی۔ پہلے تو بچپن تھا مگر اب میں بچی نہ رہی تھی۔ اب مجھ کو خود کودکان پر روز جانے سے روکنا ہی تھا۔ اگر چہ دل تو پہلے جیسا صاف اور معصوم تھا مگر لوگ تو اتنے صاف دل اور معصوم نہ تھے۔ یہ بات مجھے ایک دن لالہ نے بھی سمجھائی کہ تم اب دکان پر مت آیا کرو۔ دیکھو تم بچی تھیں، اپنی ماں کے لئے اداس رہتی تھیں تو میں تم کو ڈھارس دیتا تھا، بات کرتا تھا لیکن اب تم بڑی ہو گئی ہو۔ سوتیلی ماں گھر میں ہے ، پھر تمہارے ابا بھی ناراض ہوں گے۔ تم یہاں مت آیا کرو۔ لالہ ! مگر مجھے تم سے کبھی نہ کبھی، کوئی بات تو کرنا ہوتی ہے۔ ایسا کہتے ہوئے میری آنکھوں میں آنسو آگئے۔ تم ایسا کرو، ہفتہ میں ایک بار میری پھوپھی کے پاس آجایا کرو۔ میں اپنے گھر میں تم سے بات کر لیا کروں گا۔ بس پھر کیا تھا، اس کی اجازت ملتے ہی ہفتہ میں ایک بار تو کیا، میں ہر دوسرے روز اسکول سے واپسی پر اس کے گھر پہنچ جاتی اور لالہ کی پھوپھی کے پاس جا بیٹھتی۔ میرے اس والہانہ پن سے وہ ڈر گئیں۔ انہوں نے لالہ سے کہا۔ مجھے معلوم ہے یہ لڑکی فرشتوں کی طرح معصوم ہے اور تم بھی کسی برائی کے خیال سے اس کے ساتھ بات نہیں کرتے مگر بیٹا مومنہ کا ہمارے گھر بار بار آنا، اس کے اور ہمارے لیے اچھا نہیں ، تم اس کو روکو ۔ لالہ نے ایک بار نہیں کئی بار روکا مگر مجھ پر اثر نہ ہوا۔ جب جب دل گھبرانا ان کے گھر جانکلتی۔ وہی ہوا جس کا ڈر تھا۔ محلے والوں نے میرے ابا کو خبر کی، جس پر والد نے مجھے بلا کر پوچھا۔ تم لالہ کے گھر کیوں جاتی ہو۔ میں نے کہا۔ ان کی اماں سے سپارہ پڑھنے جاتی ہوں۔ کہنے لگے ۔ بیٹی میں کسی قرآن پڑھانے والی کا گھر پر انتظام کیے دیتا ہوں ، یوں کسی کے گھر بار بار جانا ٹھیک نہیں۔ کہنے کو تو میں نے کہہ دیا۔ جی اچھا، لیکن اس جی میں اچھا پر عمل نہ کر سکی اور نہ اپنے قدموں کو روک سکی۔ اگر لالہ نہ بھی ہوتے ان کی پھوپھی سے باتیں کر کے آجاتی ، مجھے ان کے گھر سکون ملتا تھا۔ مجھے لگتا لالہ کی پھوپی بھی میری سگی ماں جیسی ہے۔ کچھ دن بعد ایک روز محلے کی ایک عورت میری کلثوم اماں کے پاس آئی اور ان کو میرے بارے میں ایسا کچھ کہا کہ وہ مجھ پر برس پڑیں۔ عورت کے جانے کے بعد مجھ پر چلائیں اور بے بنیاد الزامات کی بوچھاڑ کر ڈالی، ابا کے بھی خوب کان بھرے۔ انہوں نے مجھے بلا کر پوچھا کہ لالہ کے گھر تمہارے جانے سے لوگ طرح طرح کی باتیں کر رہے ہیں۔ مجھے بتائو اصل بات کیا ہے ؟ کوئی اصل بات ہوتی تو بتاتی۔ یہی کہا کہ ان کی اماں پھوپھی مجھ سے پیار سے بات کرتی ہیں تو اچھا لگتا ہے ، اس لئے جاتی ہوں۔ اس کے بعد اتنا روئی کہ نہ ابو کچھ سمجھ سکے اور نہ میں کچھ ان کو بتا سکی۔ بہر حال ابانے مجھے روک دیا تو میں نے لالہ کے گھر جانا چھوڑ دیا۔ایک دن ہماری گلی میں ایک لڑکی کی شادی تھی، شام کے تقریباً چھ بجے میں امی کے ساتھ شادی والے گھر پہنچی۔ رات کو ان کے یہاں رت جگا تھا۔ شب تقریباًدس بجے خیال آیا کہ امی نے تو ابھی تین چار گھنٹے بیٹھنا ہے ، اگر میں یہاں سے نکل کر لالہ کے گھر چلی جائوں تو بھرے پرے گھر میں کسی کو کیا پتا چلے گا۔ حال احوال بتا کر آجائوں گی۔ شادی والے گھر میں ہنگامہ ہوتا ہے۔ لوگ رات کا کھانا کھارہے تھے ، میں وہاں سے کھسک لی۔ سامنے ہی لالہ کا گھر تھا۔ پھوپھی نے مجھ پیار سے بٹھایا۔ حال پوچھا۔ میں نے بتایا کہ ابا نے اسکول سے ہٹا دیا ہے ، اسی لئے نہیں آتی۔ آپ کے لئے دل اداس رہتا ہے ، لالہ بھی شادی سے بارہ بجے گھر آگیا۔ مجھے دیکھا تو کہا۔ کیوں یہاں آگئی ہو ؟ جانتی ہو ! تمہارے ابا باہر مردوں میں بیٹھے ہوئے ہیں۔ اب تم واپس جائو۔ آپ سے بات تو کی نہیں اور ابھی چلی جائوں۔ ہاں، جب بزرگ منع کریں تو وہ کام نہیں کرنا چاہیے۔ یہ بات ہو ہی رہی تھی کہ دروازہ بجا۔ ابا باہر کھڑے تھے۔ کہا کہ میری لڑکی تمہارے گھر آئی ہے ؟ ہاں آئی ہے چاچا۔ کیوں آئی ہے وہ اس وقت ؟ معلوم نہیں، وہ خود آئی ہے ، ہم نے تو نہیں بلایا ہے۔ وہ ابا کو اندر لے آئے۔ آتے ہی ابا نے مجھے تھپڑ جڑ دیا۔ بولے۔ یہ کیا کھیل چل رہا ہے، تو میری آنکھوں میں اور زمانے بھر کی آنکھوں میں دھول جھونک رہی ہے ، رات کے گیارہ بجے شادی کے گھر سے اٹھ کر ان کے یہاں آنے کی کیا ضرورت تھی اور کس نے بلایا تھا تجھ کو سچ بتا ! کسی نے نہیں ابا۔ اچھا گھر چل، وہاں بات کرتا ہوں تجھ سے۔ یہ کہہ کر وہ لالہ کے گھر سے باہر چلے گئے۔ گھر آکر میں اپنے کمرے میں جا کر دبک گئی۔ یوں وہ بارہ گٹھنے کی لمبی رات پل بھر میں کٹ گئی مگر صبح خیر کی خبر لے کر نہیں آئی تھی۔ والد نے جانے کیا سمجھا اور عجیب و غریب فیصلہ کر لیا۔ والدہ سے کہا۔ جائو اور اس لڑکی کو لالہ کے گھر لے جائو۔ میں بھی وہاں آرہا ہوں۔ کیا ہو گیا ہے تم کو بیٹی کو ایروں غیروں کے حوالے کرنے چلے ہو۔ بولے۔ یہ وہاں ہی رہنا چاہتی ہے ، اس کو ان لوگوں کے گھر میں سکون ملتا ہے۔ آج ہیں یہ قصہ ہی ختم کر دیتا ہوں۔ کلثوم اماں نے مجھے ساتھ لے لیا اور لالہ کے گھر آگئیں، کہا۔ لالے ! یہ آگئی ہے ، اب تور کھ اس کو ، نکاح کر ا بھی اس کے ساتھ کیونکہ یہ تیرے گھر کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ لالہ حیرت کی تصویر بنا میری سوتیلی ماں کو دیکھ رہا تھا، اس کی سمجھ میں نہ آرہا تھا کہ کیا کرے اور کیا کہے؟ اتنے میں در بجا، یہ ابا تھے۔ بولے۔ مجھے لالہ سے بات کرنی ہے۔ لالہ ان کو اندر لے آئے۔ اباہانپ رہے تھے۔ کہا کہ دیکھ لالے ! تونے میری بیٹی کو ورغلایا ہے، اب تیری اور اس کی بھلائی اس میں ہے کہ تو ابھی اور اسی وقت نکاح پڑھا کر اسے اپنالے ، ورنہ غصے میں جانے میں کیا کر گزروں۔ میں کانپ رہی تھی۔ نہ نجانے اب کیا ہوگا؟ مگر یقین تھا کہ لالہ مجھے بچالے گا۔ وہ بولا۔ چاچا! آپ کی لڑکی خود ہمارے گھر آتی ہے۔ ہم اس کو بلانے نہیں جاتے۔ میری پھوپھی آپ کی بیٹی سے اس لیے پیار سے بات کرتی ہیں کہ یہ اداس اور پریشان رہتی ہے۔ آپ نے خود تو بھی اپنی بچی کے مسائل کو سمجھا نہیں، یہ اب سے نہیں جب سے ہمارے پاس آئی تھی جب یہ محض چار برس کی تھی اور اپنی ماں کی جدائی کو محسوس کرتی تھی۔ چا! آپ ہم کو غلط نہ سمجھیے۔ میں شادی شدہ اور دو بچوں کا باپ ہوں، میری بیوی گائوں میں رہتی ہے ، دوسری شادی اور وہ بھی اس معصوم سی بچی کے ساتھ ؟ اس کا تو تصور بھی کرنا گناہ سمجھتا ہوں۔ آپ اپنی بچی سے تو پوچھئے کہ وہ کیا ایسا چاہتی ہے ؟ میں بالکل بھی ایسا نہیں چاہتی۔ لالہ کو اپنا بڑا بھائی سمجھ سکتی ہوں، اس کے سوا کوئی اور میرا نہیں ہے۔ جب میں نے یہ بات کی تو لالہ کے ہونٹوں پر مسکراہٹ پھیل گئی۔ ابا سے کہا۔ چاچا! اگر مجھ سے کوئی رشتہ رکھنا چاہتے ہو تو مجھے بیٹا بنا لو۔ آپ کا کوئی بیٹا نہیں ہے تو میری بھی کوئی بہن نہیں ہے۔ والدین تو اس وقت وفات پاگئے تھے جب میں چار برس کا تھا۔ اگرچہ مومنہ مجھ سے بہت چھوٹی ہے پھر بھی مجھ کو اسے بہن بنانا قبول ہے۔ لالہ کی آنکھوں سے آنسو بہہ نکلے تھے۔ والد نے آگے بڑھ کر اس کو گلے لگالیا۔ اب جس رشتے کو انہوں کو خوشی سے قبول کیا وہ داماد کا نہیں، لالہ سے بیٹے اور باپ کا تھا۔ والد بیٹا پاکر خوش تھے تولالہ میرے روپ میں چھوٹی بہن کو پاکر خوش تھا۔ اس کے بعد لالہ گائوں گیا اور اپنی بیوی بچوں اور چاچی کو ہمراہ لایا۔ اس نے ہماری دعوت کی اور ہم نے بھی ان کی دعوت کی۔ اس طرح جو رشتہ استوار ہوا، وہ بہت پائیدار اور خوبصورت تھا۔ اس میں کوئی خوف تھا، نہ انتشار۔ لالہ ایک نیک دل اور شریف آدمی تھا۔ جب تک والد زندہ رہے ، اس نے بیٹے کی طرح میرے والد کا خیال کر کے اس رشتے کو نبھایا اور جب میری شادی ہو گئی تو ایک بڑے بھائی کی طرح مجھ کو رخصت کیا، جہیز دیا اور ہمیشہ دکھ سکھ میں میر اساتھ دیا۔ انہوں نے ثابت کر دیا کہ دنیا میں سبھی غلط اور برے نہیں ہوتے ، کچھ اچھے لوگ بھی ہیں، جن کے دم سے اس دنیا کی رونقیں قائم ہیں۔

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.