Teen Aurtein Teen Kahaniyan Yeh Marz La Elaj Nahi | Urdu Zone | Urdu Inpage Story | Urdu Stories

0 10

Teen Aurtein Teen Kahaniyan | Urdu Zone | Urdu Inpage Story | Urdu Stories

نام تو اس کا امیر محمد تھا، بلاتے سب میرن میاں تھے۔ وہ ہمارے محلے میں رہتا تھا۔ ان دنوں میں ان کی نئی نئی شادی ہوئی تھی ۔ وہ یوں خوش تھا جیسے دو جہاں کی دولت مل گئی ہو۔ بیوی خوبصورت ملی۔ اندھیرے کمرے میں بیٹھی ہوتی تو اس کے چہرے کی دیمک سے کمرے میں روشنی ہو جاتی۔ رنگت چاندنی سی اجلی اور اس میں رنگ گلاب کی آمیزش تھی۔ وہ سوچ بھی نہ سکتا تھا۔ نصیب میں حسن کی ایسی دولت لکھی گئی ہے۔ وہ اب اس دولت کا بلا شرکت غیرے مالک تھا کہ اب اس کی منکوحہ تھی۔ ہوتا یہ ہے کہ چمکتی دمکتی صورت کی ایک جھلک دیکھ کر ہی بہت سے دل بے چین ہو جاتے ہیں۔ بیوی اگر خوبصورت اور وفادار بھی ہو تو دوسروں کی نظروں  میں اس قدر قابل ستائش ہوتی ہے کہ آخر حسن مغرور ہو جاتا ہے۔

Teen Aurtein Teen Kahaniyan | Urdu Zone | Urdu Inpage Story | Urdu Stories

ثوبیہ مغرور تونہ ہوئی لیکن محلے بھر کی عورتوں کے منہ سے اپنے حسن کے قصیدے سن کر شوہر کے سامنے اتر آئی سی پھرنے گی۔ ہی اس کا الہڑ پن اور معصومیت تھی کہ ہر کسی کے اپنے بارے میں تعریفی کلمات سن کر شوہر کے گوش گزار کر دیا کرتی تھی۔ تب اس کا شوہر بھ جھونچکار ہنے لگا۔ اس کو اپنی اس بلا شرکت غیرے دولت کے لٹ جانے کا د ھر کا سانگ گیا۔ سوچتا یہ کہیں میری جھول تو نہیں کہ میں اس کو اپنی ملکیت سمجھ بیٹھا ہوں ۔ ممکن ہے کہ ایسانہ ہو ، اس دھڑ کے نے اس کو بھی بنادیا۔ لیکن کہاں تک گھر میں بیٹھتا اور اس دولت کی حفاظت کرتا، صبح نو کر ی پر جاتاتورات گئے گھر لوٹ پاتا تھا۔ ایک روز جبکہ یہ چھٹی کا دن تھا، دو پہر کا کھانا کھا کر بستر پر دراز ہو گیا۔ بیوی کپڑے دھونے کے بعد انہیں چھت پر ڈالنے گئی تھی،

کافی دیر اس کے تصور میں آنکھیں بند کئے پڑارہا۔ وہ نہ لوٹی تو بے چینی سے کروٹیں لیتے لیتے اٹھ بیاء آخر چھت پر جا پہنچا۔ میرن نے دیکھا کہ بیوی رسی پر آخری کپڑا ڈال رہی ہے اور سامنے کے گھر سے ایک نوجوان اپنے کمرے کی کھٹر کی سے ایک کک اسے دیکھے جاتا ہے۔ وہ ثوبیہ کو دیکھنے میں اس قدر محو تھا کہ اسے میرن کی آمد کا احساس بھی نہ ہوا۔ توبہ کے بال کھلے تھے، وہ تھوڑ دیر پہلے نہائی تھی اور بڑی حسین لگ رہی تھی۔ بیوی پر ایک نظر ڈالتے ہی اس پر بے اختیار پیار آ گیا، مگر اگلے ہی لمحے وہ غصے سے بھجھک اٹھا۔ کیونکہ اس نوجوان ہمسایہ نے اس کو دیکھنے کے فور بعد حجٹ سے کھٹر کی بند کر دی۔ بیوی نے میرن کو پلٹ کر دیکھا تو گل سی ہو گئی، حالانکہ اس سارے سین میں اس کا کردار ایک غافل کا تھا، پھر بھی اس کو لگا جیسے وہ جرم ہو، بس اتنی سی بات تھی جس نے میران میاں کا سکون در ہم برہم کر کے رکھ دیا۔ وہ تلملایاہوا نیچے آیا۔ بیوی سے پوچھا۔ کیا بات تھی کہ تم اتنی دیر سے چھت پر تھیں اور نیچے نہیں آرہی تھیں۔ آپ نے دیکھا نہیں کہ میں الگنی پر کپڑے ڈال رہی تھی ۔ وہ معصومیت سے بولی۔ اتنی دیر تک تم رسی پر کپڑے ڈالتی رہیں۔ مجھے بے وقوف بنارہی ہو؟ اتنی دیر میں آدمی دنیا کا چکر لگا کر واپس آجاتا ہے۔ اس مبالغ پر وہ ہنس دی، مگر شوہر کا غصہ فرونہ ہوا۔ ثوبیہ کو بری طرح جھٹک دیا۔ تمام رات اس کے ساتھ کام نہ کیا۔ بظاہر اس نے کوئی ایسی ویکی بات نہ دیکھی تھی مگر دل میں شک و شبہ کی بھٹی سلگ اٹھی۔ دنوں میں میر ان کی حالت عجیب ہوتی گئی۔

دفتر میں سارا دن اسی کی طرف دھیان بھکتا۔ سوچتا کہ میری غیر موجودگی میں وہ ضرور چھت پر گئی ہو گئی۔ اس نوجوان میں دپی لیتی ہو گی ۔ دونوں نے کچھ اشارے کئے ہوں گے۔ کیا خبر یہ دونوں میرے ہی گھر میں ملتے ہوں یا میری بیوی اس نوجوان کے گھر چلی جاتی ہو ، جو اس کو اپنے کمرے کی کھٹر کی سے تکتا رہتا ہے۔ یہ سوچ کر اس کا سر گھومنے لگتا، کام نہ ہوتا اور طبیعت کی خرابی کا بہانہ بنا کر وہ سیدھاگھر کی طرف بھاگتا۔ اس طرح شوہر کی اچانک آمد سے ثوبیہ حیران رہ جاتی، حالانکہ ہمیشہ وہ گھر پر موجود ملتی مگر وہ سوچتا کہ شوخ کپڑے اپنے بیٹھی ہے، لگتا ہے ابھی بھی کہیں سے آئی ہے۔ یقینایہ سامنے والے گھر میں اس لڑکے سے مل کر آئی ہو گی۔ اپنے گیٹ سے نکل کر چھپاک سے سامنے والے گیٹ میں جاگھنے میں دیر ہی کتنی لگتی ہے۔ تب وہ اس کو کرید تا ڈ ل کے چھے الفاظ میں پوچھتا کہ تم کہاں گئی تھیں۔ کیا جلد لوٹ آئی ہو ؟ وہ یہی جواب دیا کہ میں تو کہیں گئی ہی نہیں تھی۔ کسی کو وہ پتا بھی نہیں سکتا تھا کہ ان دنوں اس کی کیا حالت ہو گئی ہے۔ وہ تو اب جیتا تھا اور نہ مرتا تھا۔ اتنے وسائل نہ تھے کہ وہ گھر چھوڑ دیا اور کوئی دوسرا مکان کرائے پرلے لیتا۔ گرچہ یہ مکان چھوٹا سا تھا اور وراثت میں ملا تھا۔ یہ بھی ممکن نہ تھا کہ اس نوجوان ہمسائے کو ہی اس کا گھر چھوڑنے پر مجبور کرتا۔ وہ لوگ برسوں سے وہاں رہ رہے تھے۔ یہ ان کا ذاتی وراش گھر تھا۔ کلیم کے بڑے بھائی کا تبادلہ ہونے کے باعث سارا کنبہ سیالکوٹ چلا گیا تھا اور یہ نوجوان تعلیم کی خاطر یہاں رکا ہوا تھا۔ چھپ چھپ کر جاسوسی کرنے کی کوشش میں ہر طریقے سے چاہا کوئی ثبوت ملے اور شک و شبہ کی ٹھنڈی آگ میں جھلسنے سے نپی جائے۔ خود کو یہاں تک ذہنی طور پر تیار کر لیا کہ اگر بیوی کو اس نوجوان کے سامنے مسکراتے بھی دیکھ لیا تو فور طلاق دے دیتا، گر معلوم تھا کہ اس سے اچھی بیوی پھر نہ ملے گی۔ اس اذیت ناک ذہنی کیفیت کے ہاتھوں جیتے جی موت کی مش میں مبتلا تھا۔ ہر صورت نجات پانا چاہتا تھا۔
بھی بھی اپنے دفتر میں بیٹھا ہوتا، یوں سوچتا جیسے اس کی بیوی نے کلیم کو گھر بلا لیا ہو گا۔ اور اب وہ اس کے ساتھ پیار کی باتیں کر رہی ہو گی، اس کے گلے میں بانہیں حمائل کر رہی ہو گی۔ تبھی دفتر سے اٹھ کر گھر کو چل نکلتا، راستہ بھر دعائیں کرتا جاتا الہ آج تو میری مشقت کو ٹھکانے لگا۔ میری بیوی کو آج رنگے ہاتھوں پکڑ وادے۔ عین موقع پر اس نوجوان کے ساتھ دیکھوں تو شک شبہ کی دوزخ ٹھنڈی ہو، پھر تو ان کو ایسی مزہ چکھائوں گا کہ عمر بھر یاد کریں گے۔ ان کو موت کے گھاٹ ہی اتار دوں گا تو بھی افسوس نہ ہو گا۔ پھانسی پا کر کم از کم اس عذاب سے تو نجات مل جائے گی۔ ہر بار مگر اس مرد نادان کو مایوسی ہوئی۔ بیوی اس کی منتظر ہنس کر اس کا استقبال کرتی۔ بھی کھانا پکار ہی ہوتی تو بھی کپڑے استری کر رہی ہوتی، بھی اور کام کاج، وہ سارے گھر میں جھانکتا، تلاشی لیتا، الماریوں میں ، رینگ کے نچے چھت پر سیڑھیوں میں ، کونا کونا چھان مار تا، جیسے یہ نوجوان آدمی نہ ہو مکھی مچھر ہو یا چوہا، کہ اس کے آتے ہی میں میں اس گیا ہو۔ اب اکثر میر ان میں سے بیوی کی لڑائی رہے گی۔ کیو نکہ وہ بات بات پر اس سے الجھ پڑتا تھا، اس کا کہیں آنا جانابند کر رکھا تھا۔ وہ بیچاری کسی سے نہ مل سکتی تھی، کوئی گھر میں نہ آسکتا تھا، نوبت یہاں تک آپنی کہ گھر کو باہر سے تالا لگا کر جانے لگا۔ سیڑھیوں کے دروازے کو بھی تالالگادیا کہ ثوبیہ اس کی غیر موجودگی میں چھت پر بھی نہ جا سکے۔ مسئلہ یہ تھا کہ اس کے کمرے کی کھڑکیاں کلیم کے گھر کی کھڑکیوں کے سامنے کھلتی تھیں

، جب میرن نے کھڑکیوں کو کیلیں ٹھونک کر بند کر ناچا او ثوبیہ نے سخت احتجاج کیا کہ اس طرح کمروں میں ہوا اور روشنی بند ہو جائے گی، اس کادم لکھے گا۔ اس نے مشورہ دیا کہ کھٹر کیاں ٹھونک کر بند کرنے کی بجائے اسے چاہئے کہ وہ کسی ماہر نفسیات ڈاکٹر سے اپنا علاج کروانے کیو نکہ اس کو وہم کی پیاری ہو گئی ہے۔ اس بات پر وہ غصے سے پاگل ہو گیا۔ بیوی پر الزام لگایا کہ وہ اس نوجوان سے، ان ہی کھڑکیوں کے ذر یہ بات چیت کرتی ہوگی اذان کو بند کرنے پر واویلا کر رہی ہے۔ ثوبیہ میاں جی کی ان حرکتوں سے تنگ آ چکی تھی۔ اس نے جواب دیا۔ بے شک یونہی سہی۔ اس ایک جملے کا سننا تھا کہ میاں جی کے توسارے شکوک یقین میں بدل گئے اور اس نے ثوبیہ سے کہا۔ ٹھیک ہے اگر تم یہ اقرار کرتی ہو تو میں تم کو طلاق دیتا ہوں۔ تم جا کر اس سامنے والے ہمسائے نوجوان کلیم سے شادی کر لو۔ ثوبیہ کو یہ توقع نہ تھی کہ وہ اس حد تک گر جائے گا۔ وہ رونے لگی کہ آخر کار میرا قصور کیا ہے؟ کیا کبھی تم نے مجھ کو اپنی آنکھوں سے کوئی غلط حرکت کرتے دیکھا ہے؟ کوئی تو ثبوت ہو؟ کسی محلے دار نے کچھ کہا ہو، کوئی تحریر کی ہو ؟ جب کوئی ثبوت ہی نہیں ہے تو محض شک کی بناء پر مجرم ظہرانا کہاں کا انصاف ہے؟ وہ اپنی جگہ چھی تھی ۔ میرن کو اس سے محبت بھی بہت تھی لیکن اب اس کے سوا چارہ نہ تھا کہ میں اس کو اپنی زندگی سے علیحدہ کر کے اپنے آپ کو اس عذاب سے بچالے، جس میں وہ ایک کوڑھ کے مرض کی طرح مبتلا ہو گیا تھا۔ کلیم سے کچھ کہنا تو محلے میں خود اپنی بد نامی کو آپ آواز دیا تھا۔ اس کے پاس ایک ہی حل تھا۔ زوجہ غریب پراس کازور چل سکتا تھا۔ اس نے طلاق کی ٹھان لی، حالانکہ جانتا تھا کہ بیچاری ثوبیہ کا اس دنیا میں اس کے سوا کوئی نہیں ہے۔ ثوبیہ نے بتایا کہ وہ امید سے ہے۔ وہ سمجھ رہی تھی کہ اس خوش خبری سے وہ اس کو ستانے سے باز رہے گا اور طلاق کا خیال بھی دل سے نکال دے گا۔

نانچہ یہ نی اطلاع اس کے پیروں کی زنجیر بن گئی کہ اب وہ اس کو بچے کی ولادت سے پہلے طلاق بھی نہ دے سکتا تھا۔ انہی دنوں کلیم امتحان پاس کر کے سیالکوٹ چلا گیا اور میرن کی بے چینی میں کی گئی ۔ لیکن بد نصیبی جب پیچھے لگ جائے تو تعاقب اس وقت تک نہیں چھوڑتی جب تک کہ برباد نہ کر دے۔ کیا واقعی میری بیوی بے عیب ہے۔ اب سوتے جاگتے، اٹھتے بیٹھتے ہی غم دل کو کھانے لگا کہ کیا خبر کہ اولاد کس کی ہو۔ مگر مجھے اب عمر بھر اس کو اپنالت جگر سمجھ کر پروان چڑھاناپڑے گا۔ کچھ ذہنی مریض مرد ایسے بھی ہوتے ہیں جو بیویوں پر شک کرتے ہیں تو اپنی اولاد ہی ان کی سزا کی زد میں آجاتی ہے۔ ایسے تھے تو ہمارے معاشرے میں عام ہیں۔ آہ! یہ کتنی بڑی زیادتی ہو گی۔ میرن سوچتا اس سے تو بہتر تھا کہ میں بے اولاد ہی رہتا۔ ایک بار تو شک و شبہ کے اظہار پر بیوی نے قرآن پاک بھی اٹھالیا۔ مگر میر ان کا دل صاف نہ ہوا۔ چند دن ٹھیک رہتا، پھر خیالوں کے بھوت پریت چھٹ جاتے۔ اللہ تعالی نے بیٹی سے نوازا۔ شفقت پدری سے دل پھٹنے لگا۔ بے اختیار ہو کر اس کو کلیجے سے لگا لیا۔ بہر حال پچی کے جنم لینے سے کشیدگی ختم ہوگئی۔ دل میں جو کہ دور میں بھر گئی تھیں، کم ہو گئیں۔ اس کی غوں غاں میران کاول کھینچنےیہ بھی پچی میں ایسی مشغول ہو گئی کہ پچھلی ساری تلخیاں بھلا کر بیٹی کی پرورش میں کھو گئی۔ اس نے اس کا نام نازنی پیار تھا۔ اب بھی مگر کبھی کبھی اس کا دل گھبراتا تھا بیٹھے بیٹھے ہول اٹھتے۔ ایک خلش سی بی کو پریشان کرنے لگتی۔ پرانے شکوک سراٹھاتے اور وہ زبردستی دل میں ہی ان کا گلا گھونٹ دیتا۔ سوچتا کر واقعی یہ میری بیٹی ہے توان شکوک کی وجہ سے میری اپنی اولاد تکلیف اور پریشانی میں مبتلارہے گی ۔

بہتر یہ ہے کہ ان سوچوں کی طرف دھیان نہ دیا جائے۔ پالنے سے نکل کر ناز و گشنوں چلے گی۔ پھر پائوں پائوں، یوں اس کی ہر ہر اداپر میاں بیوی بی جان نچھاور کرتے رہے، گھر میں اس کے لئے کھلونوں کے ڈھیر لگادیئے۔ سوتی جاگتی گڑیا، ناچنے والا بندر اور ڈرم بجانے والا بھالو، ناز و میرن کی آنکھوں کا تار اور دل کا سہارا بن گئی۔ اب تو کتا تھاوا تھی پچھلا و تم جھلا چکا ہے۔ اکلوتی بھی تھی، انہیں دنوں میر ان کی سوئی ہوئی بد بخت ایک بار پھر جاگ پڑی۔ سامنے والا گھر جس میں وہ نوجوان ہمسایہ رہتا تھا، دوبارہ آباد ہو گیا۔ اسے ملازمت بھی اسی شہر میں مل گئی۔ اور وہ واپس اسی محلے میں ، اسی گھر میں لوٹ کر آگیا۔ گویا اب اس کو کہیں جاناہی نہیں تھا۔ شومئی قسمت وہ میرن کے مشکے میں افسر آلگا۔ اس کی موجودگی پھر سے سوہان روح ہو گئی تھی۔ اس پر ستم یہ کہ جب بھی نازوبنٹی کھیلنے کو گلی میں نکلتی ،کلیم باہر ہوتا تو از خود دوڑ کر اس کی طرف چلی جاتی۔ بچے کس کو پیارے ہیں وہ اپنی طرف ہمکتی معصوم بچی کو گود میں اٹھالینا۔ چاکلیٹ، کبھی بسکٹ دے دینا۔ اور میرن سے کہتا۔ میاں جی، آپ کی بیٹی بہت پیاری ہے ۔ میر ان کے چہرے پر مصنوئی خوشی کے آثار ابھرتے مگر دل میں دھماکے سے ہونے لگتے۔ سوچتا شاید یہ اپنے ماضی کے اس کارنامے کو کلیجے سے لگائے خوش ہو رہا ہے اور مجھ کو احمق جان کر ہنس رہا ہے۔ میری بے وقوفی پر دل میں تو قہقہے لگارہا ہو گا کہ دیکھو کیا لو بتایاکہ میری اولاد کو پال پوس رہا ہے اور اس کو کچھ خبر ہی نہیں میرن کا مرض و ہم پھر سے عود کر آیا۔ وہ اس صورتحال کو برداشت نہ کر پایا۔ ایک روز اس کے نوکر نے بتایا کہ کلیم صاحب آپ کی نگی سے بے حد پیار کرتے ہیں۔ یہ گلی میں کھیل رہی ہوتی ہے تو کہتے ہیں، اسے میرے پاس اٹھا کر لا تو اس کی توتلی زبان سے پیار کی پیاری باتیں سنو، تو بوریت ختم ہو جاتی ہے۔ میرن کی بھی دیر تک اس کے ساتھ کھیلتی رہتی، پھر وہ اس کو بسکٹ کاڈ بار بھی اور کوئی شے دے کر نو کر کے ہاتھ میرن کے گھر بھجواد یتا۔

میرن یہ بسکٹ کے ڈبے، ٹافیاں اٹھا کر کوڑے کے ڈبے میں پھینک دیتا اور پچی کے گالوں پر چانٹے مار ماتا کہ وہ پھر وہاں نہ جائے۔ یہ دیکھ کر بیوی بلک اٹھتی، وہ چیخنے چلانے لگتی، تو جنوبی اس پر برس پڑتا۔ ناحق ان کی اچھی بھلی زندگی پھر سے اجیرن ہو جاتی۔ اپنا افسر ہونے کے ناتے وہ کلیم کو کچھ کہہ نہ سکتا تھا۔ سمجھ میں نہ آتا تھا کہ اس کو گولی مار دے یاخود سارے کتے کے ساتھ زہر کھالے۔ ایک دن بیوی بیکار ہو گئی ، تو اپنی خالہ کے ہمراہ ڈاکٹر سے دوا لینے چلی گئی، اس روز میران نے اس سے چھٹی لے لی۔ بھی پنگ پر سورہی تھیں۔ ذہن میں عجیب سا خیال کو ندا۔ اکثر اخبارات میں ایسی خبریں پڑھی تھیں کہ کسی نوجوان نے بیٹی کی پیدائش پر ناراض ہو کر اس معصوم کو پھینک دی ا گزند پہنچانے کی سعی کی کہ بیٹی کیوں پیدا ہو گئی۔ میرن کو اس
کے ساتھ ہی عجیب ساخیال آگیا کہ جس شخص نے برسوں سے میرے دل و ذہن کی دنیا میں تباہی مچارکھی ہے، میں اس پر ایسا الزام لگا کر اپنے رقیب روسیا یعنی کیم سے انتقام کیوں نہ لوں؟ ہے انتقام کی آگ بری ہوتی ہے۔ اس نے گھٹری بھی، ہمسایے کے دفتر سے لوٹنے کا وقت ہو رہا تھا اور وہ اکیلا رہتا تھا۔ اس کا بوڑھا ملازم سودا سلف لینے اس وقت بازار گیا ہوا تھا، وہ نزدیک ہی گیا تھال اتالا لگانے کی بجائے گیٹ کے باہر سے کنڈی لگا کر گیا تھا، یہ اچھا موقع تھا، پاس پڑوس میں سبھی جانتے تھے کہ کلیم ، میر ان کی بچی سے پیار کرتا ہے اور کبھی کبھی وہ اس کے گھر میں بھی چلی جاتی ہے۔ میران کی بیوی گھر میں نہ تھی۔ سوئی ہوئی بچی کو اٹھا کر میرن تیزی سے کلیم کے گھر گیا اور اس کو بستر پرلٹا کر بلیڈ سے مشروب کر دیا۔

پی صدمے سے بے ہوش ہوگئی۔ ایسا کرتے وقت وہم کا اس پر غلبہ تھا اور اس نے انتقام میں اندھا ہو کر یہ بھی نہ سوچا کہ یہ تو میری اپنی بھی ہے۔ وہ تو اس کو ہمسائے کے گناہ کا بوجھ تصور کر کے زخمی کر چکا تھا۔ وہ ترنت واپس گھر آگیا، یہ گمان کر کے مجھے تو کسی نے بھی نہیں دیکھا ہے۔ چند منٹ بعد ہی د فتر سے کلیم آگیا۔ اس کے گھر میں داخل ہوتے ہی میرن ایک ہمسایہ لڑکے کے ہمراہ بچی کو ڈھونڈنے کے لئے نکلا۔ اس بہانے کھیم کے گھر میں دو باره | چلا گیا۔ اسی وقت بوڑھا ملازم بھی سودا لے کر آگیا۔ ان تینوں کے سامنے وہ چلانے لگا۔ پھر گلی میں نکل کر شور مچادیا۔ لوگ جمع ہو گئے اور پوچھنے لگے کہ کیا ہوا۔ کیوں شور کر رہے ہو۔ کچھ بتائو تو سہی۔ اس نے کلیم کے گھر کی طرف اشارہ کیا۔ وہ گھر میں داخل ہو گئے جہاں بستر پر پی مشروب حالت میں بے ہوش تھی اور اس کی دونوں کلائیاں بھی زخمی تھیں۔ کوئی بھی اس صورتحال کو سمجھ نہ پایا کہ لوگوں نے پولیس کو فون کر دیا۔ پلیس آگئی، تفتیش ہوئی، بچی کو اسپتال لے گئے۔ قانون اندھا ہوتا ہے لیکن اس کے ہاتھ مضبوط ہوتے ہیں۔ جرم کرنے والا سمجھتا ہے کہ وہ ساری دنیا کو بے وقوف بنالے گا۔ مگر ساری دنیا کو توکیا وہ صرف قانون کو بھی جل نہیں دے سکتا۔ بشرط یہ کہ قانون کے محافظ با نمبر ہوں اور بکنے والے نہ ہوں۔ آخر کار مجرم پکڑا ہی جاتا ہے۔ اسی بناپر بچی کے قتل کی کوشش کرنے کے الزام میں میرن بھی پکڑا گیا۔ شہادتوں سے کلیم بے گناہ ثابت ہو گیا۔ میرن کو بالآخر اپنے جرم کا اقرار کرناپڑا۔ سزا ہوئی۔ پھر قانونی سزا تو ختم ہو گئی مگر ضمیر کی سزا بھی تک ختم نہیں ہوئی۔ عمر بھر بھی ختم نہ ہو گی کہ ضمیر تمام عمر میرن کو سزاد یتا رہے گا۔ بیوی چھوڑ کر چلی گئی، وہ اس کی صورت دیکھنے کی بھی روادار نہ رہی اور بیٹی تھی جس کا سامنا
نہیں کر سکتا، اس سے نفرت کرتی ہے۔ اسے نفرت کرنا بھی چاہئے کہ وہ اس معصوم کا بھی تو مجرم ہے کہ جس کا اس سارے واقعہ میں کوئی قصور نہ تھا۔ خدا نے اس کی زندگی رکھتی تھی اور نہ اس شخص نے تو انتقام کی آگ میں کوئی کسر نہ چھوڑی تھی۔ سچ ہے کہ ذہنی مریض بظاہر دیکھنے میں ٹھیک ٹھاک معلوم ہوتے ہیں لیکن وہ در اصل ٹھیک نہیں ہوتے۔ جب ایسے لوگ شدید وہم میں مبتلا ہوں یا نجیب و غریب حرکتیں کریں تو ان کا علاج کرانا ضروری ہوتا ہے۔

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.