42 سالہ ٹریفک وارڈن راجہ شباب کنول ڈیڑھ گھنٹے میں سفر آخرت روانہ ہو گئے

0 25

پڑی درویزہ: شباب تھا ، کنول تھا ، اور THQسوہاوہ کا سٹریچر جس کا منتظر تھا، 42 سالہ ٹریفک وارڈن راجہ شباب کنول ڈیڑھ گھنٹے میں سفر آخرت روانہ ہو گئے۔ پڑی درویزہ جنازہ گاہ سوگوران سے بھر گئی حتیٰ کہ گیٹ سے باہر بھی نماز جنازہ کے شرکاء موجود تھے۔ تاریخی نماز جنازہ کی امامت پیر سید امیر احمد شاہ نے کی۔ ٹریفک پولیس کی بڑی تعداد شامل۔

تفصیلات کے مطابق پڑی درویزہ کے 42 سالہ نوجوان ٹریفک پولیس وارڈن گوجرخان ریجن راجہ شباب کنول اچانک حرکت قلب بند ہونے سے انتقال کر گئے۔ متوفی کے بہنوئی راجہ شکیل نے پرنٹ میڈیا کو بتایا کہ جمعۃالمبارک کی صبح اپنی رہائش گاہ پڑی درویزہ محو راحت تھے کہ اچانک دل میں تکلیف محسوس کی، ایک قریبی کلینک سے ابتدائی طبی امداد لے کر تحصیل ہیڈ کوارٹر سوہاوہ ہسپتال سوہاوہ کا رخ کیا۔

مریض کی گاڑی THQسوہاوہ پہنچی اور ہنگامی طور پر شباب کنول کو ہسپتال کے سٹریچر پر لٹایا گیا ساتھ سخت قسم کا دل کا تیسرا دورہ پڑا جو شباب کنول کی موت کا سبب ثابت ہو ا، اور چند ہی لمحات میں وہ اس دنیا میں موجود نہ تھے۔

راجہ شکیل کا کہنا تھا کہ شاید موت کا وقت اور جگہ وہ ہسپتال کا سٹریچرمقرر تھا۔ نوجوان کی اچانک موت کی خبر صبح ہوتے ہی پورے علاقہ میں آگ کی طرح پھیل گئی۔

واضح رہے کہ متوفی شباب کنول کی عمر 42 سال تھی۔ پسماندگان میں بیوہ جو ایک پرائمری سکول ٹیچر ہے جبکہ ایک بیٹا اور تین بیٹیاں شامل ہیں۔ شباب کنول ایک پر اثر اور سحر انگیز شخصیت کے مالک تھے ۔

شام سات بجے جب میت اٹھائی گئی تو پورا راستہ جنازہ گاہ تک سوگواران کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر تھا۔ متوفی ایک بہترین سرکاری ملازم کے ساتھ ساتھ ایک عوامی شخصیت بھی تھے۔ نماز جنازہ قدیمی قبرستان کے قریب بڑے جنازہ گاہ میں ادا کی گئی، تل دھرنے کی جگہ نہ تھی جامع اسلامیہ کالس چکوال کے مہتم پیر سید امیر احمد شاہ نے کی۔ رات 8بجے سوگواران کی موجودگی میں شباب کنول کو قدیمی قبرستان میں سپرد خاک کر دیا گیا۔

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.