قرآن کریم کی بے حرمتی کے ارتکاب نے امت مسلمہ کو شدید تکلیف پہنچائی ہے۔ امیر عبدالقدیر اعوان

0 145

امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ قرآن کریم کی بے حرمتی کے ارتکاب نے امت مسلمہ کے دلوں کو شدید تکلیف پہنچائی ہے اس کی جتنی مذمت کی جائے کم ہے۔

امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان کا جمعتہ المبارک کے موقع پر خطاب کرتے ہوئے کہا کہ قرآن کریم کے ساتھ بندہ مومن کا ایسا مضبوط تعلق ہو کہ ہماری زندگیاں عملی طور پر قرآن کریم کے احکامات کے مطابق ہوں تو کسی کو جرات نہ ہو گی کہ وہ قرآن کریم کی بے حرمتی کا ارتکاب کر سکے۔ہم دعوی ایمانی کے ساتھ زندہ ہیں اور ہمارے سامنے آئے روز اس طرح کی گستاخیاں اور بے حرمتی ہو رہی ہے جسے اقوام عالم شخصی آزادی کا نام دے دیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ یاد رکھیں کہ کوئی بھی آزادی اس کی اپنی حدود تک ہے جب کسی دوسرے کے دائرہ میں مداخلت ہو گی تو اس کے نتائج اچھے نہ ہوں گے۔دنیا کو اس کی نزاکت کا احساس کرنا چاہیے۔دین اسلام ہمیشہ اتحاد اور اتفاق کا درس دیتا ہے۔دعا ہے کہ امت مسلمہ ایک جان ہو کر قرآن کے ہر حکم کو اپنی زندگی کا اوڑھنا بچھونا بنا لے۔

انہوں نے قربانی کے فلسفہ پر بات کرتے ہوئے کہا کہ قربانی کی وہ کیفیت جو اللہ کریم نے حضرت ابراہیم ؑ کو عطا فرمائی اُس کا ایک ذرہ بھی اگر ہمیں نصیب ہوجائے تو قربانی کا یہ فلسفہ پوری حیات کا سبق دیتا ہے۔ جہاں قربانی کرنے کا حکم موجود ہے وہی قربان ہونے کا سبق بھی ملتا ہے۔اللہ کریم ہمیں قربانی کی حقیقت سمجھنے کی توفیق عطا فرمائیں تو اس عید پر کی گئی قربانی کے اثرات ہمیں اگلی عید تک لے کر جاتے ہیں اوراللہ کرے ہر قربانی پر ہمیں یہ کیفیت نصیب ہو کہ ہم اپنی انا،اپنی ضد،اپنی خواہشات،اپنی پسند اللہ کریم کے حکم پر قربان کرسکیں۔

امیر عبدالقدیر اعوان نے کہا کہ سیرت پاک ﷺ ہمارے سامنے خوبصورت مشعل راہ ہے جس میں آسان ترین زندگی گزارنے کا انداز ہے عبادات انسان کو اس قابل بناتی ہیں کہ نورِ حق نصیب ہوتا ہے۔حج فرائض میں سے ہے صاحب استعداد پر زندگی میں حج ایک بار فرض ہے۔بیت اللہ شریف پر تجلیات باری ہر لحظہ برس رہی ہوتی ہیں حاجی دو چادروں میں بیت اللہ شریف کا طواف کرتے ہیں یہ وہی کیفیت ہے جو روز محشر ہوگی تب بھی ہر کوئی دو ان سلی چادروں میں اللہ کے حضور پیش ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ حاجی کو اللہ کریم ایسے معاف فرماتے ہیں گویا آج پیدا ہوا ہے لیکن اگر اس کے باوجود بھی کردا ر میں بہتری نہیں آئی تو اس کا مطلب ہے کہ اس نے حج اللہ کے لیے نہیں کیا بلکہ اپنی شہرت کے لیے یا کسی ذاتی غرض کے لیے کیا ہے عبادات صرف وہ قبول ہوتی ہیں جو خالص اللہ کے لیے ہوں اگر اس بات کی ہمیں سمجھ آجائے کہ ہر شئے اس کی طرف سے ہے اور اسی کی طرف لوٹ کر جانا ہے تو زندگیاں آسان ہو جائیں۔

یاد رہے کہ دارالعرفا ن منارہ میں 40 روزہ سالانہ روحانی اجتماع کا انعقاد کیا گیا ہے جو 8 جولائی سے 13 اگست تک جاری رہے گا جس میں حضرت امیر عبدالقدیر اعوان مد ظلہ العالی روزانہ دن گیارہ بجے صحبت شیخ میں خصوصی خطاب فرمائیں گے۔اللہ والوں کی اس بستی میں اپنے دلوں کو برکات نبوت ﷺ سے منور کرنے کے لیے تشریف لائیے۔ہر خاص و عام کے لیے دعوت عام ہے۔

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.