وزیر اعظم کی وطن واپسی پر پنجاب کی سیاسی صورتحال پر پارٹی رہنماؤں سے مشاورت

0 15

لاہور: وزیراعظم شہباز شریف کی 2 روزہ بیرون ملک مصروفیات کے بعد وطن واپسی کے بعد رہائشگاہ ماڈل ٹاؤں سیاسی مصروفیات کا مرکز بن گیا جہاں وفاقی وزرا اور معاونین خصوصی حاضر ہوئے اور پنجاب کی حالیہ سیاسی صورتحال پر مشاورت کی گئی۔

فراہم کردہ تفصیلات کے مطبق وفاقی وزیر خزانہ اسحاق ڈار، وفاقی وزیر ریلوے خواجہ سعد رفیق، وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ، وزیراعظم کے معاونین خصوصی ملک احمد خان اور عطا اللہ تارڑ شہباز شریف کی رہائشگاہ ماڈل ٹاون پہنچے اور پنجاب اسمبلی کی تحلیل سمیت سیاسی امور پر مشاورت کی۔

وزیر اعلیٰ کی سمری پر وہی ہو گا جو آئین و قانون کہتا ہے، خواجہ آصف

بعدازاں وزیر دفاع خواجہ آصف نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ وزیر اعلیٰ کی سمری پر وہی ہو گا جو آئین و قانون کہتا ہے، ہم الیکشن سے گھبرانے والے نہیں، آخر میں جو عمران خان کے ساتھ ہونا ہے پھر پتہ لگے گا۔

اسمبلیاں کو وقت سے پہلے توڑنا غیر جمہوری اور غیر آئینی ہے، رانا ثنا اللہ

اس موقع پر وفاقی وزیر داخلہ رانا ثنا اللہ نے کہا کہ وزیراعظم کو ان کے متحدہ عرب امارات کے کامیاب دورے پر مبارکباد دی ہے، وزیراعظم کی محنت سے معاشی بحران پر قابو پایا جا رہا ہے، ایک بدبخت سیاسی لیڈر ملک کو ڈیفالٹ کرنے پر تلا ہوا ہے۔

انہوں نے کہا کہ وزیراعظم کے ساتھ سیاسی صورتحال پر غور و فکر ہوا ہے، اسمبلیاں کو وقت سے پہلے توڑنا غیر جمہوری اور غیر آئینی کام ہے، پہلے مارشل لا ایڈمنسٹریٹرز اسمبلیاں توڑا کرتے تھے اور اب سیاسی آمر سوچ رکھنے والا توڑ رہا ہے۔

رانا ثنا اللہ نے کہا کہ ہم نے اسمبلی بچانے کی اپنی بھرپور کوشش کی، اگر انتخابات ہوتے ہیں تو ہم اس کے لئے پہلے سے ہی تیار ہیں، ہم الیکشن لڑینگے اور اس میں کامیاب بھی ہوں گے، بعض معاملات آئینی و قانونی ہونے کے ساتھ ساتھ غیر مناسب بھی ہوتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان نے اپنی ضد، انا، غلط بیانئے اور جھوٹے ایجنڈے کو آگے بڑھانے کی خاطر پہلے سفارتی سطح پر ملک کا نقصان کیا اور اب ہم عوام میں جا کر اس کا عمل عوام کے سامنے رکھیں گے۔

ہم الیکشن میں جانے کو بالکل تیار ہیں، عطا اللہ تارڑ

وزیراعظم کے معاون خصوصی عطا اللہ تارڑ نے میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ مسلم لیگ (ن) ہر حوالے سے متحرک ہے، ہم الیکشن میں جانے کو بالکل تیار ہیں، آنے والے دنوں میں ہر قسم کے حالات کا مقابلہ کریں گے۔

انہوں نے کہا کہ پہلے گورنر صاحب اپنا فیصلہ کر لیں تو اس کے بعد نگراں وزیراعلی کی تقرری کا معاملہ آئے گا، گورنر صاحب کو اسمبلی تحلیل کرنے پر جلد دستخط کر دینے چاہیے۔

عطا اللہ تارڈ نے کہا کہ ہماری مرکزی قیادت بہت جلد بیرون ملک سے واپس اس کر ہمارے درمیان ہو گی، ہمارا سارا فوکس اب اگلی حکمت عملی پر ہے، یہ وفاقی حکومت گرانے گئے تھے اور 186 بندے پورے کر کے اپنی حکومت گرا بیٹھے۔

انہوں نے کہا کہ پرویز الہی نے کل اور پرسوں اپنے خلاف تحریک عدم اعتماد جمع کروانے کا ہمیں پیغام بھجوایا، ہم ان حالات کا مقابلہ کرنا چاہتے تھے، پرویز الہی کو ان کی اپنی حکومت ختم ہونے پر مبارکباد پیش کرتا ہوں۔

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.