کسی بھی دہشت گرد تنظیم کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوں گے، وزیر داخلہ

0 24

وزیر داخلہ رانا ثنااللہ نے کہا ہے کہ اگر مذاکرات ہوں گے تو افغانستان حکام کے ساتھ ہوں گے اور ریاست مخالف سرگرمیاں کرنے والی کسی دہشت گرد تنظیم یا جماع کے ساتھ مذاکرات نہیں ہوں گے۔

اسلام آباد میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے افغان طالبان حکام کی طرف سے پاکستانی سفارت خانے پر حملے میں ملوث داعش کے دہشت گردوں کی ہلاکت پر بات کرتے ہوئے وزیر داخلہ نے کہا کہ جب تک وزارت خارجہ اس معلومات کی تصدیق نہیں کرتی اس وقت تک یہ صرف معلومات ہی رہے گی۔

انہوں نے کہا کہ قومی سلامی کمیٹی (این ایس سی) نے فیصلہ کیا تھا کہ ریاست مخالت سرگرمیاں کرنے والی کسی تنظیم یا جماعت سے مذاکرات نہیں ہوں گے کیونکہ ماضی میں بھی اس کا کوئی اثر نہیں ہوا، لہٰذا اگر مذاکرات ہوں گے بھی تو افغانستان حکام کے ساتھ ہوں گے۔

وزیر داخلہ نے کہا کہ ہر وہ پاکستانی جو کسی وجہ سے بھی کسی ایسے عمل کا شکار ہوا جو قانون و آئین کے خلاف ہے تو اس کے لیے یہ ضروری ہے کہ وہ اپنے اس عمل کی بنیاد پر قانونی طریقہ کار سے گزرے اور ریاست کو یقین دہانی کرائے کہ وہ ریاست کے وجود، آئین اور قانون کو تسلیم کرتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ کسی بھی ایسی تنظیم یا جماعت سے مذاکرات نہیں ہوں گے جو ریاست اور اس کے شہریوں کے خلاف دہشت گردی کی کارروائیوں میں ملوث ہو۔

انہوں نے کہا کہ قومی سلامتی کمیٹی کے اجلاس میں سیاسی اور عسکری قیادت نے اس بات پر اتفاق کیا کہ کسی بھی دہشت گرد فرد یا تنظیم سے مذاکرات نہیں ہوں گے۔

’عمران خان کو کوئی فائر نہیں لگا‘

رانا ثنااللہ نے دعویٰ کیا کہ عمران خان کو کوئی فائر نہیں لگا، وہ صرف ڈرامہ کر رہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ عمران خان پر حملے کی تفتیش کے لیے قائم جے آئی ٹی کی سربراہی غلام محمد ڈوگر کر رہے ہیں جو کہ متنازع شخص ہیں۔

وفاقی وزیر داخلہ نے کہا کہ جے آئی ٹی کی رپورٹ عدالت اور میڈیا تک نہیں پہنچی مگر فواد چوہدری کو مل گئی ہے جس پر سوال بنتا ہے کہ وہ کیسے ملی۔

انہوں نے کہا کہ اس بات کو دو ماہ سے زیادہ کا وقت ہو چکا ہے مگر ابھی تک عمران خان ڈرامہ کر رہا ہے، لہٰذا ان کو فائر نہیں لگا صرف ڈرامہ کر رہا ہے کیونکہ اگر گولی لگے اور زخم نہ ہو یہ ممکن نہیں اور اس زخم کا دورانیہ بھی دو ہفتوں تک ہوتا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ یہ فراڈیا اب کہہ رہا ہے کہ میں مزید ایک ماہ تک اس قابل نہیں کہ چل سکوں۔

رانا ثنااللہ نے کہا کہ عمران خان پر حملے میں ایک ہی ملزم نوید شامل تھا اور ایک ہی فائرنگ ہوئی کیونکہ ملزم مذہبی طور پر شدید جنونی تھا جس کے آگے پیچھے کوئی نہیں اور اس کا بیان بھی سو فیصد درست ہے۔

انہوں نے کہا کہ متعدد سی سی ٹی وی فوٹیجز موجود ہیں جن میں ظاہر ہے کہ ایک ہی شخص نے پستول نکال کر فائرنگ کی تھی اور کوئی دوسرا ملزم شامل نہیں تھا جبکہ ایک گولی کنٹینر سے چلی تھی جو کہ معظم خان کو لگی تھی۔

ان کا کہنا تھا کہ معظم خان کو عمران خان کے محافظ کی گولی لگی تھی جس کو گرفتار کرکے تفتیش میں شامل کرنا چاہیے۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ عمران خان گزشتہ دو ماہ سے ملک کے دیوالیہ ہونے کی مہم چلا رہا ہے جو کہ ملک دشمنی پر مبنی ہے۔

قرآنِ پاک کا مستند نسخہ لانے کا فیصلہ

وزیر داخلہ نے کہا کہ آج یہ فیصلہ کیا گیا ہے کہ وزارت مذہبی امور قرآنِ پاک کا عربی اور ترجمے کے حوالے سے مستند نسخہ تمام صوبائی قرآن بورڈ کی تائید حاصل کرنے کے بعد پیش کرے گی جو کہ ہر اعتبار سے متفقہ، مستند اور بہتر ہوگا۔

انہوں نے کہا کہ قرآنِ پاک کا مستند نسخہ ضلعی اور تحصیل سطح پر پہنچایا جائے گا اور تمام صوبائی حکومتیں اور مرکزی مذہبی امور کی وزارت اس بات کو یقینی بنائیں گی کہ عربی اور ترجمے کے حوالے سے قرآن پاک کا مستند ہونا کسی شک و شبے سے بالاتر ہو اور اگر کوئی رخنہ ڈالنے کی کوشش کرے تو اس کے خلاف کارروائی کی جائے گی۔

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.