باجوہ ڈیٹا لیک: صحافی شاہد اسلم کی ضمانت بعد از گرفتاری منظور

0 13

اسلام آباد کی سیشن عدالت نے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے ٹیکس دستاویزات لیک کرنے میں مبینہ تعلق پر گرفتار ’بول نیوز‘ کے صحافی شاہد اسلم کی درخواست ضمانت بعد از گرفتاری منظور کرلی۔

اسلام آباد کی سیشن عدالت کے اسپیشل جج سینٹرل محمد اعظم خان نے وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) کی جانب سے کی گئی گرفتاری پر صحافی شاہد اسلم کی درخواست ضمانت پر سماعت کی۔

سیشن عدالت میں درخواست ضمانت بعد از گرفتاری پر سماعت کے دوران اسپیشل پراسیکیوٹر ذوالفقار نقوی نے درخواست کی مخالفت کی۔

ایف آئی اے کے وکیل نے کہا کہ ملزم کی جانب سے تعاون نہیں کیا گیا، نہ ہی موبائل اور لیپ ٹاپ کے پاس ورڈ بتائے گئے، موبائل اور لیپ ٹاپ کے پاس ورڈ کے لیے ڈیوائسز فرانزک کے لیے بھیج دی گئی ہیں۔

انہوں نے دلائل دیتے ہوئے کہا کہ ملزمان کی جانب سے دفعہ 216 کی خلاف ورزی کی گئی، جس بنیاد پر سرکاری ملزمان کو گرفتار کرلیا گیا۔

پراسیکیوٹر کا کہنا تھا کہ سرکاری ملزم کے 161 کے بیان میں شاہد اسلم کا نام لیا گیا جس بنیاد پر گرفتار کیا گیا، اس دوران عدالت میں تھوڑی دیر کے لیے وقفہ کیا گیا اور ملزم کے وکیل جب عدالت میں پہنچے تو سماعت دوبارہ شروع ہوئی۔

صحافی شاہد اسلم کے وکیل نے عدالت میں اپنے دلائل میں ضمانت بعد از گرفتاری کے حق میں دلائل دیے۔

وکیل کے دلائل مکمل ہونے پر عدالت نے پاک فوج کے سابق سربراہ جنرل قمر جاوید باجوہ کا ایف بی آر سے ڈیٹالیک کیس میں گرفتار صحافی شاہد اسلم کی درخواست ضمانت منظور کرلی۔

اسلام آباد کی سیشن عدالت نے 50 ہزار روپے کے مچلکوں کے عوض ضمانت منظور کرنے کا حکم سنایا۔

خیال رہے کہ صحافی شاہد اسلم کو سابق آرمی چیف قمر جاوید باجوہ کے ڈیٹا لیک کے معاملے پر لاہور سے گرفتار کیا گیا تھا اور 14 جنوری کو اسلام آباد کی سیشن عدالت نے انہیں دو روزہ جسمانی ریمانڈ پر ایف آئی اے کے حوالے کردیا تھا۔

سیشن عدالت میں سماعت کے دوران صحافی کے وکیل نے عدالت کو بتایا تھا کہ شاہد اسلم کی گرفتاری غیر قانونی ہے، کوئی ایسا ثبوت نہیں کہ ان کو کوئی انفارمیشن (لیک ڈیٹا) ملی اور انہوں نے کسی اور کو دی۔

انہوں نے کہا تھا کہ اگر ایف آئی اے کے پاس کوئی ثبوت ہے تو عدالت کے سامنے پیش کرے، شاہد اسلم پر لگائی گئی چاروں دفعات نہیں بنتیں اور انہیں شک کی بنیاد پر گرفتار نہیں کیا جاسکتا۔

پراسیکوٹر نے سوال اٹھایا کہ شاہد اسلم ایف بی آر کا دورہ کیوں کر رہے تھے؟ کیونکہ انہوں نے معلومات لینی تھی، مزید کہا کہ شاہد اسلم کو جرم ثابت ہونے پر 10 سال قید ہو سکتی ہے۔

جوڈیشل مجسٹریٹ عمر شبیر نے دلائل سننے کے بعد صحافی شاہد اسلم کا 2 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرتے ہوئے ایف آئی اے کے حوالے کر دیا تھا۔

واضح رہے کہ نومبر 2022 میں فیکٹ فوکس کی جانب سے جاری رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا تھا کہ پاکستان کے اندر اور باہر سابق آرمی چیف کے معلوم اثاثوں اور کاروبار کی موجودہ مارکیٹ ویلیو 12 ارب 70 کروڑ روپے ہے، فیکٹ فوکس اپنا تعارف ’ڈیٹا پر مبنی تحقیقاتی خبروں پر کام کرنے والی پاکستانی ڈیجیٹل میڈیا نیوز آرگنائزیشن‘ کے طور پر کراتی ہے۔

وفاقی وزیر خزانہ نے جنرل (ر) باجوہ کے اہل خانہ کے ٹیکس ریکارڈ کے لیک ہونے کا نوٹس لیتے ہوئے کہا تھا کہ ٹیکس معلومات کا اس طرح سے لیک ہونا مکمل رازداری کے قانون کی واضح خلاف ورزی ہے۔

23 نومبر کو وفاقی وزیر خزانہ اسحٰق ڈار نے سابق آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ کے اہل خانہ کے کہا تھا کہ عبوری رپورٹس مل گئی اور اس معاملے کو منطقی انجام تک پہنچائیں گے۔

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.