بڑھاپا الاؤنس کم از کم 20 ہزار مقرر کیا جائے۔ معمر پنشنرز

جہلم: بڑھاپا الاؤنس کم از کم 20 ہزار مقرر کیا جائے، اس کمر توڑمہنگائی میں موجودہ الاؤنس اونٹ کے منہ میں زیرہ کے برابر ہے ہر سال ملازمین سے ای او بی آئی کے نام پر اربوں روپے کی کٹوتی کی جاتی ہے۔

پوری دنیاء میں بوڑھے بزرگ شہریوں کو بڑھاپے میں پوری مراعات دی جاتی ہیں مگر پاکستان میں ان کو عمر کے آخری حصے میں ذلیل و خوار کیا جاتا ہے۔مہنگائی اپنے عروج پر ہے ہر پاکستانی پریشان ہے اور سب سے زیادہ بزرگ اور بوڑھے شہری پریشان ہیں جنکا کوئی پرسان حال نہیں۔

آخری عمر میں بیماریاں انسان کو گھیر لیتی ہیں اس عمر میں انسان کو رقم کی اشد ضرورت ہوتی ہے مگر ہمارے ہاں اکثر بزرگوں کو 8500 روپے پنشن دیکر احسان جتلایا جاتا ہے ۔ اس کمر توڑ مہنگائی میں کتنی مشکل سے گزارا ہوتا ہے اور پھر اگر بندہ بال بچے دار ہو تو اور بھی مشکل ہو جاتا ہے ، محکمہ اولڈ بینیفٹ کو ہر سال اربوں روپے یہ مزدور ادا کرتے ہیں مگر انکی بہتری کیلئے کوئی سوچتانہیں موجودہ دور میں اس 8500 سو روپے میں گزارا مشکل ہی نہیں بلکہ ناممکن ہو چکا ہے۔

چیف جسٹس آف پاکستان وفاقی محتسب اور وزیراعظم پاکستان سے معمر پنشنرز نے مطالبہ کیا ہے کہ بوڑھے پنشنرزکی پنشن کم از کم 20 ہزار مقرر کی جائے تاکہ بزرگ شہری معاشرے میں اپنی سفید پوشی کا بھرم قائم رکھ سکیں ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button