سپریم کورٹ کی آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے بعد پنجاب میں سیاست گھمبیر صورت اختیار کرگئی

جہلم: سپریم کورٹ کی آئین کے آرٹیکل 63 اے کی تشریح کے بعد پنجاب میں سیاست گھمبیر صورت اختیار کرگئی لیکن نمبرگیم میں مسلم لیگ ن اور اتحادیوں کا پلڑا بھاری ہے ، تاہم اگر الیکشن کمیشن منحرفین کو ڈی سیٹ کرتا ہے تو خصوصی نشستوں پر پی ٹی آئی کے 5 اراکین اسمبلی رکن بن سکیں گے تو طرفین میں نمبر گیم کافرق ایک رہ جائیگا۔

ایسی صورتحال کا انحصار الیکشن کمیشن پر ہے ،وہ منحرفین کے معاملہ پر کیا فیصلہ دیتے ہیں، تاہم حکومتی ذرائع دعویٰ کررہے ہیں کہ صورتحال حکومت کے مکمل کنٹرول میں ہے ،پنجاب اسمبلی کا اجلاس 30 مئی کو ہونا ہے، اس وقت تک گورنر ہاؤس میں وفاق کا نمائندہ آسکتا ہے ، پھر صورتحال بدل جائیگی اور حکومت اپنی مرضی کا سپیکر لائے گی، تاہم موجودہ صورتحال میںدونوں جانب سے منحرفین کو شمار نہ کیا جائے تو حکومت کے پاس اپوزیشن کے مقابلے میں ابھی تک اعداد و شمار کے مطابق 4 ووٹ زائد ہیں۔

پنجاب کے 371 اراکان پر مشتمل ایوان میں حکومت کے پاس 172 اراکین جبکہ اپوزیشن کے ارکان 168 بنتے ہیں ، پی ٹی آئی کے منحرفین کی تعداد 25 جبکہ مسلم لیگ ن کے4 ارکان منحرف ہیں۔وزیراعلیٰ کو پنجاب میں اپنی جماعت کے165 ارکان سمیت پیپلز پارٹی کے7 اور راہ حق پارٹی کے معاویہ اعظم سمیت5 میں سے4 ارکان نے مسلم لیگ ن کی حمایت کر رکھی ہے۔

چوہدری نثار علی خان اسمبلی کی رکنیت کا حلف لینے کے بعد دوبارہ پنجاب اسمبلی نہیں آئے اپوزیشن پر اعتماد ہے کہ الیکشن کمیشن کے پاس وزیراعلیٰ پنجاب کے انتخاب میں ووٹ کاسٹ کرنے والے پی ٹی آئی کے 25 ارکان کو ڈی سیٹ کرنے کے علاوہ اور کوئی چارہ نہیں ،جس کے بعد فوری طور پر خصوصی نشستوں پر کامیاب ہونے والی منحرف 3خواتین اور 2 اقلیتی ارکان کی جگہ نئے لوگ اسمبلی کی رکنیت حاصل کر لیں گے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button