عید الاضحیٰ؛ حالیہ ہوشربا مہنگائی کے پیش نظر مویشی منڈی میں خریدار نہ ہونے کے برابر

جہلم: حالیہ ہوشربا مہنگائی کے پیش نظر اس بکرا عید کی آمد کے موقع پر بکرے، چھترے ، دنبے اور بچھڑے مہنگے ہونے کی وجہ سے مویشی منڈی میں خریدار نہ ہونے کے برابر نظرآتے ہیں، یوں اس عید پر بکرے چھترے اور دنبے کم قربان اور قربانی میں حصہ ڈالنے والوں کی تعداد بھی انتہائی کمی دیکھنے میں نظر آ رہی ہے۔

واضع ہو کہ ہمارے معاشرے میں سفید پوش مڈل کلاس طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد کی تعداد بہت زیادہ ہے اور حالیہ مہنگائی کے طوفان نے سب سے زیادہ اسی طبقے کو شدید متاثر کیا ہے کیونکہ تنخواہ دار اور دیہاڑی دار بڑی مشکل سے اپنے گھر کے لئے اشیائے خوردونوش، بجلی گیس کے ماہانہ بل، بچوں کے تعلیمی اخراجات برداشت کرنے کے بعد گھر کا بجٹ زیرو ہوجانے کے بعد قربانی کا جانور خریدنے کی تو دور کی بات یہ تو اپنے بچوں کو عید پہ کپڑے بھی دلوانے سے محروم ہو چکے ہیں اور یہی مڈل کلاس کے افراد مہنگائی سے براہِ راست شدید متاثر ہو کر اس بکرا عید پر قربانی دینے اور بچوں کو عید اور نئے کپڑے خرید کر دینے کی پوزیشن میں نہیں۔

اس وقت مویشی منڈی میں بھی بیوپاری حضرات خریدار نہ ہونے کی وجہ سے انتہائی مایوس ہیں اور اس بار صحت مند بکرے اور چھتروں کی قیمتیں آسمان سے باتیں کر رہی ہیں، کم سے کم قیمت والا بکرا 35 سے 40 ہزار روپے اور زیادہ سے زیادہ قیمت میں اچھی صحت والا بکرا 60 سے 70 ہزار میں فروخت ہو رہے ہیں جبکہ بچھڑے اور بیل1 لاکھ 20 ہزارسے 2 اڑھائی لاکھ روپے میں فروخت ہو رہے ہیں، جن کی قیمتیں سن کر خریدار مویشی منڈی سے فوراً نو دو گیارہ ہو جاتے ہیں ، قربانی کے جانوروں کے نرخ پوچھ کر استغفراللہ کہتے ہوئے شہری گھروں کو دوڑتے دکھائی دیتے ہیں۔

شہریوں کی ایک بڑی تعداد نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ اس مہنگائی کے طوفان میں گھر کے اخراجات اور بچوں کی پرورش کرنا بھی بہت بڑی قربانی ہے مگر پھر بھی متوسط طبقے سے تعلق رکھنے والے افراد مہنگائی کے طوفان کے باوجودبڑی عید پہ اللہ کے فضل و کرم سے قربانیاں دینے کے لئے پرعزم اور سرگرم عمل ہیں،ان حالات میں ہمیں اللہ کی راہ میں ایک دوسرے سے بڑھ کر قربانیاں دینے کیلئے آگے آنا ہوگا اور قربانی کا گوشت ہرغریب آدمی کے پاس ہر صورت پہنچانا ہوگاتاکہ وہ بھی عید کی خوشیوں میں شامل ہو سکیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button