شدید گرمی اور بجلی کی بڑھتی قیمتوں کے باعث شہری سولر سسٹم کی تنصیب کی طرف راغب ہونے لگے

جہلم: شہر اور گردونواح میں گرمی کی شدت میں اضافے کے ساتھ ساتھ بجلی کی بڑھتی ہوئی قیمتوں کے باعث شہری سولر سسٹم، ڈی سی پنکھے، ائیر کولرز اور ڈی سی انورٹر اے سی کی تنصیب کی طرف راغب ہونے لگے، سولر سسٹم کی طلب بڑھنے کیوجہ اورمہنگائی کی آڑ میں سولر پلیٹس، واٹر کولرز، پنکھوں اور بیٹریوں کی قیمتوں میں 100 فیصد تک کا اضافہ کر دیا گیا، شہری مہنگے سولر سسٹم لگوانے پرمجبور ہیں۔

تفصیلات کے مطابق گرمی کی شدت میں اچانک اضافے اور واپڈا کی طرف سے بجلی کی قیمتوں میں اضافے کے باعث صارف بجلی کے متبادل سولر و دیگر ذرائع سے الیکٹرانکس مصنوعات کا استعمال کرنے پر مجبور ہیں۔ تاہم مقامی دکانداروں کی جانب سے ٹیکسوں میں اضافے کو بنیاد بنا کر سولر پلیٹس اور دیگر متعلقہ اشیاء کی قیمتوں میں خود ساختہ 80 سے 100 فیصد اضافہ کر دیا گیا ہے۔

مقامی مارکیٹ میں چند ماہ قبل 8000 روپے میں ملنے والی 180وولٹ کی سولر پلیٹ کے نرخ اچانک 15 ہزار سے زائدمقرر کر دیئے گئے ہیں جبکہ 5500 روپے میں فروخت ہونیوالی150 وولٹ کی سولر پلیٹ کی قیمت 13 ہزار سے بڑھا دی گئی ہے۔ بیٹریوں کے نرخوں میں بھی 50 فیصد اضافہ کر دیا گیاہے۔

مقامی سطح پر تیار کئے جانیوالے سولر ائیر کولرز اورڈی سی پنکھوں کی قیمتوں میں بھی 50 تا 90 فیصد تک کااضافہ کر دیا گیاہے،اسی طرح بیٹریوں کے نرخوں میں بھی من مانا اضافہ کرکے لوٹ سیل شروع کر رکھی ہے جس کی وجہ سے عوام سخت پریشان ہیں۔

شہریوں نے حکومت وقت سے نوٹس لینے اور چیک اینڈ بیلنس کے نظام کو فعال بنانے کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button