عمران خان ۔۔۔۔ امت مسلمہ کا عظیم رہنما

تحریر: احسان شاکر

23 سال کی طویل سیاسی جدوجہد کے بعد سال 2018ء میں عمران خان نے سادہ اکثریت کے بعد چنداتحادیوں کی مدد سے ایک مخلوط حکومت بنائی توپہلے دن سے ہی ایسامحسوس ہونے لگاکہ جب بھی کبھی 15 یا سولہ بندوں نے پارٹی سے غداری کی یاکسی اتحادی نے ساتھ چھوڑا تو حکومت ختم ہوجائے گی لیکن ہم نے دیکھا کہ عمران خان کے بطور وزیراعظم حلف اٹھانے سے لے کر ’’امربالمعروف‘‘ جلسے تک انھوں نے خود کو ناصرف اسلامی جمہوریہ پاکستان کا بلکہ امت مسلمہ کاعظیم رہنما ثابت کیا ہے۔ ان کی ہر تقریر میں اسلام، قرآنی آیات، احادیث، اسلامی تاریخ، ریاست مدینہ اورعشق رسول ﷺ پر بات شامل ہوتی ہے۔

انھوں نے اپنی ہرتقریر میں نوجوانوں کو سیرت النبی ﷺ کے مطالعہ اور اس پر عمل کی ترغیب دی۔ صوبہ خیبر پختون خوا اور پنجاب میں نرسری جماعت سے ناظرہ قرآن پاک، ترجمہ اور سیرت النبیﷺ کو سلیبس کا لازمی حصہ بنا دیا گیا ہے۔ ان دونوں صوبوں کے تمام سکولوں کی مارننگ اسمبلی میں درود شریف لازمی پڑھا جارہا ہے، ترکی کی تاریخ کے اسلامی ہیرو اور سپہ سالارارتغرل غازی اور عثمان کے ڈرامے اردو زبان میں ٹی وی پر دکھائے جارہے ہیں۔

ناموس رسالت ﷺ کے لیے اقوام متحدہ اور دیگر بین الاقوامی فورمز پر ان کی بھرپور آواز اٹھانے کے باعث اقوام متحدہ نے 15 مارچ کو ہر سال اسلامو فوبیا کے خلاف عالمی دن منانے کی قرارداد منظور کرلی گئی۔ حال ہی میں OIC کی وزرائے خارجہ کی کانفرنس پاکستان میں منعقد ہوئی اور اس میں چین نے بھی شرکت کی۔

ایک لمحے کواگرہم تمام سیاسی وابستگیوں کوایک طرف رکھ کراوربغض کودوررکھتے ہوئے سوچیں کی چند الیکٹیبلز اورکچھ اتحادیوں کے سہارے کمزور سی مخلوط حکومت اور کورونا وبا کے شدید عالمی اثرات کے باوجود وزیراعظم اسلامی جمہوریہ پاکستان نے ڈیمز کی تعمیر، احساس پروگرام، صحت کارڈ اور اس جیسے دیگرکئی پراجیکٹ شروع کیے۔

سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں ٹوٹل 65 فی صد اضافہ کیا، بے شمار سرکاری وغیر سرکاری نوکریاں دیں (اگست 2018 سے مارچ 2022 تک کے اخبارات میں چھپنے والے اشتہارات ان کے گواہ ہیں)، کاروبار اور اپنے گھروں کے لیے آسان شرائط پرقرضے دیے، فیصل آباد اور دیگرصنعتی شہروں میں بند صنعتوں کو دوبارہ سے متحرک کیا، ماضی کی حکومتوں کے لیے ہوئے قرضے سود کے ساتھ واپس کیے، سابقہ حکومتوں کے دورمیں پاکستان کوہونے والے کئی جرمانے معاف کرائے، بجلی کی لوڈشیڈنگ کاخاتمہ کیا۔

ملک بھرمیں بڑی تعداد میں درخت لگائے، سیاحت کے فروغ میں اہم کردار ادا کیا وغیرہ وغیرہ۔ اس مختصر سے عرصے میں پہلے دورحکومت کے باوجود مندرجہ بالا سارے کام بھی کیے لیکن ہمیں جس بات پرفخرہے وہ یہ کہ انھوں نے ناموس رسالت کے لیے عملی اقدامات کیے جس کے نتیجے میں 15 مارچ کو اسلاموفوبیاکے خلاف عالمی دن قراردینے کی قرارداد منظور ہوئی اور دوسری جانب انھوں نے امریکا کا Absolutely Not کہہ کر ہمارا سرفخر سے بلند کر دیا۔

پیارے پاکستانیو! اگرعمران خان چند الیکٹیبلز اور کچھ اتحادیوں سے بنی کمزورسی مخلوط حکومت کے باوجود یہ سب کچھ کر سکتے ہیں توسوچواگروہ دو تہائی اکثریت کے ساتھ وزیر اعظم بن گئے تووہ ہمارے لیے کیاکچھ کریں گے ۔انھوں نے ساڑھے تین سال کے اس مختصر عرصہ میں خود کو غیرت کے ساتھ جینے والا امت مسلمہ کا ایک عظیم رہنما ثابت کیا ہے۔ اس لیے ان کو کچھ مزید وقت دینا ہی عقل مندی ہوگی تاکہ ان کے حامی اور مخالفین پر ان کی پالیسی واضح ہوسکے۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button