لوٹا آگیا میدان وچ، ہے جمالو

تحریر: محمد امجد بٹ

ہم کبھی کبھی سوچتے ہیں کہ آخر یا ریہ لیڈر لوگ لوٹے ہی کیوں ہوتے ہیں؟؟؟ بالٹی، تلسلا، پتیلا ، کڑاہی، چمچ ، کفگیر ، ڈوئی، توا یا چمٹہ وغیرہ کیوں نہیں ہوتے ، کچھ غور وفکر اور پوچھ پاچھ کے بعد پتہ چلا کہ دراصل یہ بیچارے لیڈر لوگ لوٹے عوام کے غم میں گھل گھل کر ہوتے ہیں۔ انہیں بے چاری عوام کی اتنی فکر ہوتی ہے کہ لوٹا گیری بھی ان کے دامن میں ڈال کر بچ بچا کر نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ایک لیڈر صاحب کا قصہ کچھ یوں ہے کہ تازے تازے لوٹے ہو کر اپنی آبائی گاوں پہنچے تو فقید المثال استقبال ہوا ڈھول کی تھاپ پر لوگ بھنگڑے ڈال رہے تھے اور کچھ اس طرح کے نعرے لگا رہے تھے۔ لوٹا ساڈا شیر اے باقی ہیر پھیر اے۔ آوے آوے لوٹا آوے۔ آیا آیا لوٹا آیا۔ لوٹے دے نعرے وجن گے۔ ہمار ی آن ہماری شان لوٹا خان لوٹا کان۔ ان کی شان میں اتنا کچھ ہونے کے باوجود مجال ہے جو لوٹا صاحب نے برا منایا ہو کیوں ؟؟؟۔

کیونکہ سیاست کے کاروبار میں سب چلتا ہے اس علاوہ انکی شان میں کچھ ایسے بینر لگائے گئے تھے جن پر لکھا تھا۔ ہم اپنے عظیم قائد کو لوٹا ہونے پر مبارکباد پیش کرتے ہیں۔ لوٹا ہونے والے تیری عظمت کو سلام۔ ایک بینر پر لکھا تھا۔ لوٹا رے لوٹا تیرا پیندا کدھر؟۔ لوٹا رے لوٹا تیری ٹونٹی کد ھر ؟۔۔۔

اتنے میں لوٹا صاحب نے اپنے خطاب میں فرمایا کہ میرے حلقے کے پیارے لوگو! جیسا کہ آپ کومعلوم ہے کہ مجھے لوٹا ہونے کا کوئی شوق نہیں ۔آپ کو معلوم ہے کہ میں نے کتنا عرصہ آپ کے ووٹوں پر اقتدار کے مزے لوٹے ، اب کیا ہے کہ سابقہ پارٹی نے مجھے مجبور کردیا ہے کہ آپ کی خدمت سے باز آجاوں دیکھیں ناں۔ کیسے ممکن ہے کہ اب میں باز آجاوں؟۔

جو اقتدار کا چسکہ آپ نے مجھے ڈال دیا ہے میں اب ا س سے محروم نہیں رہنا چاہتا۔ لہٰذا میں اپنے وسیع تر مفاد کی خاطر اپنی سابقہ ’’پالٹی‘‘ کو خیربا د کہہ رہا ہوں۔ میں لوٹا آپ کی بھلائی کیلئے ہواہوں۔ ہوتا رہا ہو ں۔ ہوتا رہوں گا اور اگر آپ کے حقوق ؟، ادا نہ کئے گئے تو آپکا یہ قول کا پکا لیڈر آپ لوگوں کیلئے سو بار لوٹا ہوتا رہے گا۔ تالیاں۔ تالیاں۔

مجھے خوشی ہے کہ آپ نے مجھے لوٹا ہونے کے باوجود سینے سے لگاکر عزت دی اسکے علاوہ وہ بھائی جو مجھے بار بار لوٹا ہونے کا طعنہ دیتے ہیں وہ سن لیں کہ میں طعنوں سے ڈرتا ورتا نہیں ہوں اگر انہوں نے اپنی گندی زبان بند نہ کی تو میں انکی وہ ۔؟ وہ والی ساری باتیں عوام کے سامنے رکھ دوں گاجو کی ہیں ۔

لیڈر صاحب دھیان دوسری طرف کرکے پھربولے۔ لوٹا ہونے کی ایک خاص وجہ میرے اپنی پالٹی سے اختلاف ہے جہاں میری سنی نہیں جاتی تھی۔ میں نے اس ’’پالٹی‘‘ کی خاطر سمندر میں غوطہ زن ہونے کی بھی کوشش کی مگر غوطہ لگانے کی جو قیمت انہوں نے میرے ساتھ طے کی تھی وہ نہ دی ۔

میں نے سوچا کہ اب میں اپنے آپ میں ’’تبدیلی ‘‘لاوں اس لئے میںنے تیسری بار لوٹا ہونے کافیصلہ کیا حالانکہ میرے صحت بالکل ٹھیک ہے بس روزانہ درجن بھر گولیاں کھاتا ہوں ۔ان تمام باتوں کی وجہ سے مجھے اپنی پالٹی چھوڑنی پڑی۔ اب اپ بتائیں کہ میں نے ٹھیک کیا کہ غلط۔ پیچھے سے ایک مری مری آواز آئی کہ ٹھیک ہے۔ ٹھیک ہے۔ آواز کم آنے پر انتظامیہ کے بندے نے آواز لگائی یار پانچ پانچ سو روپے دے کر نعرے مارنے کیلئے لایا ہوں کچھ تو آواز نکالو۔

لیڈ ر صاحب نے دو پالٹیاں بدلنے کے بعد ،، اب تیسری’’ پالٹی‘‘ کو چن لیا۔ اب ان کی دیکھا دیکھی کئی اور لیڈر بھی اپنے وسیع تر مفاد میں’’ پالٹیاں‘‘ بدلنے کیلئے پر تول رہے ہیں۔ ثابت ہوا کہ لوٹا بننے کیلئے عوامی نہیں ذاتی مفاد کو مدنظر رکھنا از حد ضروری ہے جہلم کی سیاست میں لو ٹا کریسی کا موسم شاید بہار کے موسم کے ساتھ شروع ہو جائے ،، آپ بھی بہار کے موسم کا انتظار کریں ۔پھر اونچی آواز سے نعرے لگائیں’’لوٹا آگیا میدان وچ،ہے جمالو۔۔۔۔۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button