جہلم سمیت ملک بھر میں والد سے محبت کے اظہار کا 123 واں عالمی دن منایا گیا

جہلم سمیت ملک بھر میں 123 واں فاردز ڈے منایا گیا۔فادرزڈے منانے کا مقصد والد کے رشتے کی اپنائیت اور انتھک محنت کوسلام پیش کرنا ہے۔اس سال فادرز ڈے گزشتہ روز 19 جون کو منایا گیا جبکہ اس دن زندگی میں والد کی قربانیوں کا اعتراف کرتے ہوئے اس کے اثرات کو سراہا جاتا ہے تاہم بچوں کیلئے والد ہماری پہلی محبت اور ہمارے آئیڈیل ہوتے ہیں۔

اس موقع پر دنیا بھر کی طرح پاکستان میں بھی بچے اپنے والد کو تحائف دے کر اپنی محبت کا اظہار کرتے ہیں۔سوشل میڈیا پر اپنے والد کی تصاویر کے ساتھ انکی ہمت حوصلے اور بے لوث محبت کو یاد کرتے ہوئے ان سے اظہار عقیدت کررہے ہیں جبکہ کچھ لوگ اپنے مرحوم والد کو شجر سایہ دار اور پدرم سلطان بود کہہ کر آنسوؤں کے ساتھ یاد کررہے ہیں۔

اسلام والد کے ساتھ حسن سلوک کا درس دیتا ہے ، اور باپ کی نافرمانی کو گناہ قرار دیا گیا ہے ، تاہم بہت سے بوڑھے باپ آج بھی سخت محنت کرکے2 وقت کی روٹی کمانے پر مجبور ہیں دوسری طرف اپنی زندگی کی خوشیاں بچوں پر قربان کر دینے والے بہت سے باپ آج بھی خیراتی اور سرکاری اداروں اور پناہ گاہوں میں اپنی زندگی کے آخری ایام گزارنے پر مجبور ہیں۔

صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے اپنا گھر کی چیئرپرسن محترمہ ڈاکٹر آسیہ ممتاز نے کہا کہ اسلام میں والدین کی اہمیت اور انکا حکم بجالانے کی بار بار تاکید کی گئی ہے ۔بچے صرف فادرز ڈے پر ہی والد کو تحائف نہ دیں بلکہ سارا سال انکی خدمت کریں انکی ضروریات کا خیال رکھیں انہیں وقت دیں اور اگر وہ انتقال کر جائیں تو انکے ایصال ثواب اور مغفرت کے لئے دعا کرتے رہیں۔

انہوں نے کہا کہ باپ کے بغیر انسان کے اندر اعتماد پیدا نہیں ہوتا۔ والد کے رشتے کا نہ توکوئی متبادل ہوسکتا ہے اورنہ کوئی اتنی سختیاں جھیل سکتا ہے۔اپنا گھرمیں موجود محمدامین جو کہ 4 بچوں کیلئے سایہ دارشجرہے جس کے چہرے سے زندگی کی طویل مسافت عیاں ہے۔عمررسیدہ باپ مشکل حالات سے لڑنے کے بعد بھی کٹھن لمحات سے ہارا نہیں ، آج بھی اپنے بچوں کی آمد کا منتظر ہے ۔ ، محمدامین کا شکوہ ہے عمررسیدہ ہونے کے باعث میرے بچے میرا سہارابننے کی بجائے مجھے بے یارو مدد گار چھوڑ دیا۔

انہوں نے کہا کہ اس طرح میں نے اپنی زندگی کی باقی سانسیں گزارنے کے لئے اپنا گھر کو ترجیح دی ہے یہاں مجھے تینوں وقت باعزت طریقے سے کھانا دیا جاتا ہے میری دعا ہے کہ اللہ تعالیٰ اپنا گھر کی چیئرپرسن محترمہ ڈاکٹر آسیہ ممتاز کی خدمات کو اپنی بارگاہ میں قبول و منظور فرمائے اورمیر ی دعا ہے کہ اللہ تعالی ڈاکٹر آسیہ ممتاز کو مزید ہمت دے کہ مجھ جیسے درجنوں بے سہارا افراد میں آسانیاں تقسیم کرتی رہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button