پنجاب پولیس کی جانب سے جہلم میں وومن حراسمنٹ کے حوالے سے آگاہی سمینار کا انعقاد

جہلم: گورنمنٹ ایسوسی ایٹ کالج برائے خواتین جہلم میں پنجاب پولیس کی جانب سے وومن حراسمنٹ کے حوالے سے خصوسی سیمینار کا انعقاد کیا گیا جس میں پولیس کی جانب سے طالبات کو حراسمنٹ کے حوالے سے تفصیلی آگاہی فراہم کی گئی۔

اس موقع پر حراسمنٹ سیل کی انچارج پولیس انسپکٹر نازیہ کا کہنا تھا کہ ہمارا مذہب اسلام خواتین کے حقوق کے تحفظ اورحسن سلوک کا درس دیتا ہے۔ ہماری معاشرتی و خاندانی اقدار اور روایات ایک ایسے مہذب معاشرے کی تشکیل کی علمبردار ہیں کہ جہاں عورت کو مرد کے برابر مساوی حقوق،آزادی،اہمیت اور احترام حاصل ہے تاکہ وہ اپنی بہترین ذہنی و جسمانی صلاحیتیں اور استعداد کار بروئے کار لا کر تعلیم،صحت اور روزگار سمیت تمام شعبہ ہائے زندگی میں تعمیر و ترقی کے لئے دستیاب مواقعوں اور سہولیات سے بھرپور استفادہ کر سکیں۔

انہوں نے کہا کہ ہمارے مذہب نے عورت کومعاشرے میں وہ پاکیزہ مقام اور حیثیت دی ہے جس کا تصور مغرب میں قطعی ناپید ہے۔ عورت کو معاشرے میں تمام حیثیتوں میں اس کا جائز مقام دلوانا ہمارا بنیادی فریضہ ہے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کی عزت و تکریم اور عصمت و عفت کی حفاظت، معاشی خود مختاری اورجنسی استحصال سے تحفظ یقینی بنانا ہمارا فرض ہے،عورت کی تذلیل کرنے والا ہر شخص زمانہ جاہلیت کا پروردہ اور قابل گرفت و سرزنش ہے۔ آئین پاکستان میں بھی خواتین کے حقوق کے تحفظ کی مکمل ضمانت دی گئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ پاکستانی معاشرے میں خواتین سے بدسلوکی کے واقعات انتہائی قابل مذمت ہیں،ایسے واقعات کے پس پردہ بہت سے اخلاقی، سماجی و معاشی محرکات ہیں تاہم ایسے شرمناک واقعات کا سدباب اور نئی نسل کی اخلاقی پہلووں پر تعلیم و تربیت ہر باشعور شہری کا فرض ہے۔

انہوں نے کہا کہ تعزیرات پاکستان کی مختلف دفعات کے مطابق عورت جنسی ہراسگی، تشدد اور استحصال کی صورت میں مرتکب مرد کے خلاف قانونی چاری جوئی کا پورا حق رکھتی ہے جس کے تحت اس جرم کی سزا موت یا کم از کم 10 سال اور زیادہ سے زیادہ 25 سال قید اور جرمانہ ہو سکتی ہے۔ ایسے تمام قبیح افعال جن میں کسی خاتون کی عزت مجروح کرنے کی مذموم کوشش کی گئی ہو، معنی خیز فحش جملے کسنا یا آوازیں نکالنا جس سے خاتون ہراسگی یا خوف کا شکارہو، کی سزا آئین پاکستان کے مطابق 3 سال قید اور 05 لاکھ روپے تک جرمانہ مقررہے۔

انہوں نے کہا کہ خواتین کے ساتھ جنسی ہراسگی کے افسوسناک واقعات کے فوری تدارک اور سدباب کے لئے آئی جی پنجاب راؤ سردار علی خان کے ویژن کے مطابق ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کامران ممتاز کی ہدایت پرٹھوس اقدامات کئے گئے ہیں۔ اس طرح 15 والی عمارت جو کہ ریلوے روڈ پر موجود ہے نے حراسمنٹ سیل قائم کر دیا گیا ہے اگر کسی بھی خاتون کو کسی قسم کا کوئی مسئلہ ہو تو انہیں چاہیے کہ حراسمنٹ سیل یا ضلع بھر میں موجود تھانوں میں رابطہ کریں۔

ڈسٹرکٹ پولیس آفیسر کامران ممتاز کی ہدایت پر ہر تھانے میں 1 خاتون پولیس اہلکار کو تعینات کر دیا گیا ہے تاکہ تھانوں میں آنے والی متاثرہ خواتین کھل کر اپنا موقف پیش کرسکیں۔ آگاہی سیشن میں طالبات نے بھرپور انداز میں پولیس کے اس اقدام کو سراہا اور کہا کہ اس طرح کے اقدام سے خواتین کو تحفظ ملے گااور خواتین اپنی باعزت طریقے سے زندگیاں بسر کر سکیں گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button