ہمارے ساتھ ڈکیتی ہوئی اور پولیس ہمارے ہی عزیزوں کو تنگ کر رہی ہے۔ پاکستانی نژاد برطانوی خاتون

دینہ: برطانوی شہری پاکستانی نژاد نجمہ خاتون ذوجہ ذوالفقار علی سیکٹر سی3 میرپور نے پریس کانفرنس کرتے ہوئے بتایا کہ ہم لوگ سیالکوٹ ایئرپورٹ سے میر پوراپنے آبائی گھر جارہے تھے کہ جب ہم تھانہ منگلا کینٹ کے علاقہ چک دادو کھوکھراں روڈ کے قریب صبح تقریباً 4 بجکر 20 منٹ پر پہنچے تو پیچھے سے ایک کار ’’جی ایل آئی برنگ گرے آئی جنہوں نے اپنی گاڑی ہماری گاڑی کے ساتھ لگا کر شیشے سے آواز دی کہ گاڑی روک لو۔

متاثرہ خاتون نے بتایا کہ اس گاڑی میں 4 افراد موجود تھے، جن کی عمریں تقریباً 30/35 سال قد درمیانے جن میں سے 2 اشخاص نیچے اترے ان میں سے ایک سمارٹ جسم جس کی عمر تقریبا 30/32 سال اور دوسرا درمیان جسم جس کی عمر بھی تقریباً30/32 سال تھی جن کے قد درمیانے تھے گاڑی کے پیچھے بیٹھے ہوئے دونوں افراد نیچے اترے ان میں سے ایک کے پاس پسٹل تھا جس نے مجھے کہا کہ ہاتھ اوپر کرو دوسرے نے گاڑی کی تلاشی لینی شروع کر دی۔

متاثرہ خاتون نے بتایا کہ گاڑی میں موجود 2 عدد لیڈیز بیگ اٹھا لئے جن میں 8 ہزار پاؤنڈ اور لوگوں کی امانتیں تھیں جبکہ میری قریبی عزیزہ عظمیٰ کی کلائی جس میں 6 عدد سونے کی چوڑیاں ، 3 عدد زنانہ انگوٹھیاں طلائی وزنی 3 تولے اور پاکستانی 5 ہزار روپے چھین لئے جبکہ مجھ سے میرا بٹوا بھی چھین لیا گیا، اس طرح انہوں نے میرے بھائی شہاب احمد سے بٹوا جس میں اس کا شناختی کارڈ ، اصل ڈرائیونگ لائسنس، 3 عدد اے ٹی ایم کارڈ ، جبکہ میرا ،وی و ہ موبائل بھی چھین لئے۔

متاثرہ خاتون نے بتایا کہ اس سے اگلے روز پولیس نے رابطہ کرکے میرے بھائی کو معلومات حاصل کرنے کی غرض سے بلوایا اور باری باری 3 افراد کو بلوا کر حراست میں لے لیا، ہمارے عزیزوں پر پولیس نے وحشیانہ تشدد کیا گزشتہ روز سی آئی اے سٹاف کے انچارج ملک نثار نے ٹیلیفون کرکے ہمیں اپنے دفتر بلایا جہاں اس نے طلائی زیورات جن میں 2 کڑے اور ساڑھے 9 لاکھ روپے وصول کر لئے ، اب سی آئی اے سٹاف کا انچارج ملک نثار مزید 15 لاکھ روپے طلب کر رہا ہے۔

متاثرہ خاتون نے بتایا کہ سی آئی اے پولیس بے جا تشدد کرکے ہمارے عزیز رشتے داروں کو ڈاکو ظاہر کرکے ہم سے وصول کی گئی رقم برآمدگی کے طور پر دکھا کر اپنی کارکردگی ظاہرکرنا چاہتی ہے جبکہ ہمارے پاس تمام ثبوت موجود ہیں کہ ہمارے عزیز رشتے دار وقوعہ کے وقت اپنے اپنے گھروں میں موجود تھے پولیس فرضی کارروائی کے ذریعے اپنی اعلیٰ کارکردگی ظاہر کرکے ہمارا مقدمہ ضائع کرنا چاہتی ہے۔

اوورسیز پاکستانی خاتون نے وزیراعظم پاکستان میاں محمد شہباز شریف، چیف جسٹس آف پاکستان ،آئی جی پنجاب سے مطالبہ کیاہے کہ ہمارے بے گناہ عزیز رشتے داروں کو فارغ کیا جائے اور اصل ملزمان کو تلاش کرکے ہمارا نقصان پورا کروایا جائے اور جو رقم اور طلائی زیورات ملک نثار نے ہم سے وصول کئے ہیں وہ ہمیں واپس لوٹائے جائیں۔

موقف جاننے کے لئے پولیس ترجمان سب انسپکٹر احسن بٹ سے رابطہ قائم کیا گیا تو انہوںنے کہا کہ پولیس نے ملزمان گرفتارکر لئے ہیں برآمدگی ہو چکی ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button