موجودہ بجٹ غریب کو زندہ درگور کرنے کے مترادف ہے۔ شہری و تاجر

جہلم: شہریوں نے بجٹ پر ملے جلے ردعمل کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بجٹ سرکاری ملازمین کے لئے خوش آئند ہے، اس سے مہنگائی کے مارے سرکاری ملازمین کو کچھ نہ کچھ ریلیف حاصل ہوگا، مہنگائی سب سے زیادہ اثر انداز تنخواہ دار طبقے پر ہوتی ہے ، تنخواہ وہی دی جاتی ہے اور آئے دن اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ کیا جاتا ہے۔

موجودہ بجٹ میں تنخواہوں میں اضافہ مہنگائی میں اضافے کی شرح کے مطابق تو نہیں کیا گیا، حکومت کو گزشتہ سال سے اب تک بڑھنے والی مہنگائی کے تناسب سے تنخواہوں میں اضافے کا اعلان کرنا چاہئے تھا، چھوٹے کارروباری طبقے اور پنشنرزکی جانب سے بجٹ پر سخت ناراضگی کا اظہار کیا گیا۔

دکانداروں نے کہا کہ حکومت نے مہنگائی کا سارا بوجھ ہمارے کندھوں پر ڈال دیا ہے ، بڑے طبقے اور حاضر سروس ملازمین کو پھر بھی ریلیف دیا گیا، ہمارے اوپر ٹیکسوں کا اضافی بوجھ ڈال دیا گیا، اس سے چھوٹے کارروبار بہت زیادہ متاثر ہونگے، مہنگائی کیوجہ سے آگے کارروبار کی کوئی حالت نظر نہیں آتی اب نئے ٹیکس لگا کر ہمیں ایک نئے امتحان میں ڈال دیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہم پہلے ہی حکومت کی پالیسیوں سے نالاں ہیں، سابق دور ِ حکومت میں بھی ٹیکس کی مد میں ہمارا خون نچوڑا گیا موجودہ حکومت نے بھی چھوٹے کارروباری طبقے ریٹیلرز کو ٹارگٹ کرتے ہوئے ٹیکسوں کا بوجھ ہم پر ڈال دیا ہے۔

عام شہریوں کے مطابق بجٹ میں کسی بھی قسم کی خوشخبری کا کوئی بھی عنصر موجود نہیں، موجودہ بجٹ میں پہلے ہی حالات سے اندازہ لگایا جا رہا تھا کہ مہنگائی بیروزگاری اور غربت میں اضافہ ہوگا، تمام اشیاء مزید مہنگی ہونگی، عام آدمی کو کوئی ریلیف نہیں دیا گیا۔

ن لیگ کے حامی افراد نے کہا کہ ن لیگ نے کبھی سخت بجٹ نہیںدیا، لیکن ابھی موجودہ حالات میں جو بجٹ پیش کیا گیا اس سے ملک کا ہر طبقہ متاثرہوگا۔ مہنگائی اور بیروزگاری میں مزید اضافہ ہو گا، حالات مزید خراب ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔معیشت کی بہتری کے آثار کم سے کم تر ہوتے جا رہے ہیں۔

کچھ شہریوں نے کہا کہ ن لیگ نے لفظوں کا ہیر پھیر کیا ہے ، موجودہ بجٹ غریب کو زندہ درگور کرنے کے مترادف ہے، وزیرخزانہ مفتاح اسماعیل ہر ماہ بجٹ پیش کریں گے اور غریب سفید پوش طبقے کا کچومر نکالیں گے، جس کی مثال گزشتہ ڈیڑھ ماہ میں موجودہ حکومت نے پاکستان کی تاریخ میں پہلی مرتبہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک ہفتے کے اندر 2 مرتبہ اضافہ کیا جس کی وجہ سے مہنگائی کا طوفان برپا ہو چکا ہے ۔

انہوں نے کہا کہ موجودہ بجٹ بھی لفظوں کے گورکھ دھندے کے سواء کچھ نہیں، غریب سفید پوش طبقے کو زندہ درگور کرنے کی کوشش کی گئی ہے جس کیوجہ سے دیہاڑی دار پس کر رہ جائیں گے۔ موجودہ حکومت نے محض 2 ماہ قبل مہنگائی کے خلاف لانگ مارچ کا ڈھونگ رچایا اور اقتدار حاصل کرتے ہی وطن عزیز کے محنت کش طبقے کو مہنگائی کی چکی میں ڈال دیا۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button