پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، شہریوں کا سیاسی اور سرکاری افسران کا بوجھ برداشت کرنے سے انکار

جہلم: پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ایک ہفتے میں دوسری مرتبہ 30 روپے کا اضافہ، پٹرول کی قیمت 210 روپے 38 پیسے فی لیٹر کے حساب سے فروخت شروع، سوشل میڈیا پر شہریوں کی طرف سے سیاسی، سرکاری اور ریٹائرڈ افسران کی مراعات ختم اور امیروں پر ٹیکس لگانے کا مطالبہ زور پکڑنے لگا، شہریوں نے سیاسی، سرکاری اور ریٹائرڈ افسران کا بوجھ برداشت کرنے سے صاف انکار کر دیا، شہریوں نے اس مذاق کو ختم کرنے کا مطالبہ کر دیا۔

تفصیلات کے مطابق ایک ہفتے میں حکومت نے دوسری مرتبہ 30 روپے فی لیٹر پٹرولیم مصنوعات میں اضافے کا اعلان کر دیا جس پر گزشتہ رات 12 بجے سے عملدرآمد شروع ہو چکا ہے۔ اس حوالے سے شہریوں نے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ سرکاری افسران اور ان کے ڈرائیورز سرکاری گاڑیاں اپنے گھروں میں لے جاتے ہیں جبکہ حکومت نے سیاست دانوںکو سیاسی رشوت کے طور پر پٹرول مفت دینے کی سہولت مہیا کر رکھی ہے، اسی طرح سرکاری ریٹائرڈ افسران کو بھی پٹرول کی مفت سہولت دی جارہی ہے، جس کا بوجھ پاکستان کی غریب عوام کے کندھوں پر ہے۔

شہریوں نے وزیراعظم پاکستان، چیف جسٹس آف پاکستان، چیف آف آرمی سٹاف سے مطالبہ کیا ہے کہ سرکاری اداروں کے افسران کے زیر استعمال گاڑیاں دفتری اوقات کے بعد گھروں میں لیجانے کی بجائے دفتروں میں کھڑی کرنے کا پابند بنایا جائے اسی طرح سیاست دانوں اور ریٹائرڈ افسران کو مفت پٹرول کی سہولت ختم کی جائے تاکہ پٹرول کے استعمال میں کمی واقع ہو اور پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں کمی واقع ہو سکے۔

شہریوں نے وزیراعظم پاکستان سے مطالبہ کیاہے کہ چیک اینڈ بیلنس کے نظام کو فعال بنایا جائے تاکہ سرکاری اداروں میں پٹرولیم مصنوعات کے نام پر مالی بدعنوانی کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button