’’فخری خط‘‘ بنام فرخ الطاف

از طرف محبان لدھڑ
پیارے فرخ الطاف جی!
اسلام علیکم کے بعد امید ہے مزاج گرامی بخیریت ہوں گے ۔ہونے بھی چاہیئے کیونکہ آپ کا مزاج ہی تو ہمارے لیے بہت کجھ تھا اور اسی مزاج کو مدنظر رکھتے ہوئے نظریں ملا کر بات کرنے کی بجائے خط کا سہارا لے رہے ہیں کہ کہیں مزاج یار ۔۔ ۔اچھا سننے میں آیا ہے کہ آپ نے کوئی نئی پالٹی بنا لی ہے جس کو سنکر دل ٹوٹے ٹوٹے ہو گیا ہوتا بھی کیوں نہ اس دل کے کچھ ٹکڑے تب ہوئے جب آپ پی پی پی کی ’’تیر اندازی ‘‘ترک کرکے گجراتیوں کے سائیکل پر سوار ہو گئے مگر ہم نے دل کو یہ کہہ کر تسلی دے لی کہ چلو خیر ہے۔

چوہدری بھی تو اپنے بندے اور قبیلے کے سرخیل ہیں انہوں نے پھر وہ موجیں کروائیں کہ بس پچھو کجھ نہ ہم تو آپ کے اس جاہ و جلال کو دیکھتے اور محسوس کرتے ہی رہے کہ آخر ہمارے چوہدری صاحب ہو ۔ پھر کچھ دن بعد دل کو تھوڑا سکون ملنے ہی لگا تھا کہ آپ نے دل مر جانے پر کرکٹ کے ـ’’بلے‘‘ کا اتنا بڑا وار کیا کہ جو ٹوٹے جڑ نے کے قریب تھے وہ پھر اپنی جگہ سے پھسل گئے ۔ اس عرصے کے دوران وہ چوہدریوں کے عطا کردہ ٹھاٹھ باٹھ آپ کے حصے میں آنے کی بجائے اپنے بھائی فواد کے حصے میں آگئے ۔

ویسے آپ کو سچ بتائیں تو ہم دل ہی دل میں کہڑتے بہوں تھے مگر کیا کرتے مجبور تھے اف اللہ کچھ کہہ بھی نہیں سکتے تھے فواد کے بھی تو وارے نیارے ہی ہیں جی۔ آپ کو وہ شاہانہ پروٹوکول نہ ملنے پر ہم نے بھی آپ کے ساتھ نئے پاکستان میں محنت مزدوری شروع کر دی مگر ہمیں نیا پاکستان ملنا تو دور کی بات پرانا بھی آنکھوں سے اوجھل ہو گیا ۔

شاید ہمارے بوجھل دل کی آہ و بد دعا جو ہم ادھی راتیں لوگوں سے لُک لُک کر کرتے تھے کا اثر کسی اور پر ہوا یا نہیں مگر آپ پر ضرور ہو گیا اور شاید آپ بھی ہماری طرح ہی دعائیں مانگتے تھے کہ کوئی ویلا ہتھ آئے اور آپ اپناہتھ دکھائیں ۔پھر وہ ویلا آ گیا کہ آپ ہم کو سُتا چھوڑ کر خود پرانے پاکستان میں واپس آ گئے اور مجال ہے کہ آپ نے کسی کو کانوں کان خبر بھی ہونے دی ہو شاید اسی بے خبری کا شکار آپ کا خبری بھی ہماری طرح مایوس نظر آیا اور خدا حافظ سیاست کا ورد کرنے لگا۔

پھر کسی باخبر نے خبر دی کہ خبردار چوہدری فرخ تو اپنا خاص بندہ ہے، بس ہمیں تو یہ تھا کہ آپ صرف ہمارے ہی خاص ہیں مگر آپ تو خاص الخاص ہیں جی ۔ مگر اک گل ہمیں اندرو اندر کھائے جا رہی ہے کہ لوکی پیہڑے کیوں شک کرتے کہ آپ پیسے لیکر پرانے پاکستان واپس آئے نہ نہ ہم کھبی نہ مانیں کہ ایسا ہو۔مگر یہ خبر تو آپ کے خبری پھیلا رہے تھے جس کی وجہ سے ہمیں بھی تھوڑا شک ہوا چلیں جو بھی ہوا، اس پر مٹی تو پائی جاسکتی نہیں کیونکہ اب آپ نے ایک بار پھر ہمیں بتلائے بغیر پینترا جو بدلا۔

اس بات کا بہت رنج ہے ۔اب تو آپ کے اور ہمارے جو مشترکہ ہوا کرتے تھے وہ بھی یک طرفہ نظر آتے ہیں بلکہ لدھڑ جنکا کبھی مرکزو محور ہوا کرتا تھا وہ بھی بدلے بدلے سے نظر آرہے ہیں چھوڑو جی پچھلی باتوں کو ہم نے دل کو تسلی دے دی ہے کہ اب ہم شیر ہیں اور شیر شیر ہی ہوتا ہے ۔بس کیا ہے کہ کجھ دن تو اگلے پچھلوں کی باتیں سننا پڑتی ہیں مگر کوئی گل نہیں اب ہم شیر بن جائیں گے۔

چوہدری جی پکی گل دسیوہم شیر بنیں گے ناں ؟ کیونکہ شیر والے تو ہمیں گھُور گھُور کر ایسے دیکھ رہے ہیں جیسے ہم نے انکی ’’ مجھ ‘‘ کھول لی ہو ۔چوہدری جی بس اس بات کا خیال ضرور رکھنا کہ اب ہمیں شیر ہی بنے رہنے دینا ورنہ تو ہم لدھڑ والوں کو بھی منہ دکھانے کے قابل نہیں رہیں گے ۔آپ کے گلے میں ہار دیکھ کر بہت خوشی ہوئی کہ ابھی بھی آپ کو ہار پہنتا دیکھنے والے موجود ہیں اور شاید ہارتا ہوا دیکھنے والوں کی تعداد زیادہ ہو۔ مگر آپ فکر نہ کریں آپ شیر بنیں شیر ہم جو باقی ماندہ آپ کے ساتھ ہیں ساتھ ہی رہیں گے ۔

یہ اجتماعی خط اپنی برادری کے ان جانثاروں کی طرف سے لکھا جا رہا ہے جن کی وفاؤں کا ہر بار قتل ہوتا ہے مگر اسکے باوجود وہ آپ کو ہارتا ہوا نہیں دیکھنا چاہتے اور اگر آپ کا سفر اسی طرح انکی امنگوں کا قتل کرتے جاری رہا تو بعید نہیں کہ ’’ نہ رہے گا بانس نہ بجے گی بانسری ــ‘‘
بس! تھوڑے لکھے کو زیادہ سمجھنا دیر تو ویسے بھی بہت ہو گئی ہے اس لئے اجازت چایتے ہیں۔
والسلام
فقط
آپ کے مگر آپ ہمارے نہیں

نوٹ: چوہدری جی اس پریم پتر کو سازشی خط نہ بنا لینا نہ یہ مداخلت ہے اور نہ یہ سازش

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button