ڈپٹی کمشنر کی توانائی بحران پر تاجروں سے مشاورت، تاجر رات ساڑھے 8 بجے دکانیں بند کرنے پر نالاں

جہلم: ڈپٹی کمشنر کی توانائی بحران پر تاجروں کے ساتھ مشاورت ، کارروباری اوقات سورج کی روشنی کے ساتھ منسلک کرکے مہنگی بجلی سے چھٹکارہ پاسکتے ہیں ، جہلم کے رات ساڑھے 8 بجے دکانیں بند کرنے پر نالاں۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز ڈپٹی کمشنر کامران خان کی صدارت میں انجمن تاجران کا اجلاس منعقد کیا گیا، اس موقع پر ڈپٹی کمشنر نے تاجروں کے ساتھ مشاورت کرتے ہوئے کہا کہ حکومت ِ پنجاب کی ترجیحات اس وقت اشیاء خوردونوش کی مناسب قیمتوں پر فراہمی اور وفاقی حکومت کو درپیش بجلی کے سنگین بحران پر قابو پانا ہے جس کے لئے حکومت کی جانب سے رات ساڑھے8 بجے دکانیں بند کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

انہوں نے کہا کہ ہمیں بجلی کی بچت کے لئے حکومتی پالیسی کے مطابق دکانوں کو بند کرنے کے لئے حکومت کے ساتھ تعاون کرنا ہوگا، ملک کو درپیش توانائی کے اس سنگین بحران سے نکالنے کے لئے تاجروں کو اپنا اپنا کردار ادا کرنا ہے ، جو ہر شہری کی بنیادی ذمہ داری ہے، ہمیں کارروباری اوقات کار سورج کی روشنی کے ساتھ منسلک کرکے فرنس آئل سے تیار ہونے والی مہنگی بجلی سے چھٹکارہ پانا ہے ، جس پر تاجر برادری نے ملے جلے ردِ عمل کا اظہار کیا۔

اس حوالے سے تاجروں کا کہنا ہے کہ حکومت تاجر برادری کے لیے آسانیاں پیدا کرے نہ کہ مشکلات، ہر اس سیکٹر کی بجلی بند کی جائے جو مفت میں استعمال ہورہی ہے۔انہوں نے کہا کہ حکمران اپنے ایئر کنڈیشن بند کریں گے تو غریب کا پنکھا چلے گا، تاجر شام 6بجے سے رات 10بجے تک سب سے مہنگی بجلی خریدتے ہیں، حکومت اگر تاجر برادری کو بجلی مہیا نہیں کر سکتی تو دکانیں بند کروانے کی بجائے تاجروں کو جرنیٹیر چلا کر کاروبار جاری رکھنے کی اجازت دیں تاکہ معاشی بدحالی کے دور میں تاجر کو متاثر ہونے سے بچایا جا سکے۔

انہوں نے کہا کہ شدید گرمی میں خریدار کا دن کے وقت میں گھروں سے نکلنا ممکن ہی نہیں، خریدار شام سے پہلے گھر سے خریداری کے لیے کسی صورت نہیں نکلتا اور صبح دوکانیں کھولنے کی تجویز بھی نا قابل عمل ہے۔

تاجروں کا کہنا تھا کہ اگر موجودہ حکمران کورونا وباء کے دوران حکومت میں ہوتے تو انہوں نے تاجروں کے کارروبار تباہ و برباد کر دینے تھے، حکمرانوں کو چاہیے کہ اگر ان سے معاملات نہیں چل رہے تو باعزت طریقے سے گھر چلیں جائیں تاکہ انتخابات کے بعد کامیاب ہونے والی قیادت ملک کو بہتر انداز میں چلا سکے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button