پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اور ڈالر کی اونچی اڑان، ملازمین کی تنخواہیں وہیں کی وہیں ہے۔ وسیم اعظم کھوکھر

جہلم: پٹرول کی قیمتوں میں اضافہ اور ڈالر کی اونچی اڑان ، ملازمین کی تنخواہیں وہیں کی وہیں ، کنوینس الاؤنس 2008 کے نرخوں پر قائم، ملازمین شدید زہنی قرب میں مبتلا ، آنیوالے دنوں میں فاقوں کی نوبت بھی آسکتی ہے۔

اس حوالے سے محمد وسیم اعظم کھوکھر کا کہنا ہے کہ پچھلے سال بجٹ کے وقت ڈالر 158 روپے کا تھا آج 200 سے تجاوز کر چکا ہے یعنی کہ سرکاری ملازمین کی تنخواہ %20 کم ہو گئی ہے جبکہ پیٹرول کی قیمت 110 روپے مقرر تھی جو کہ آج 180 روپے میں فروخت ہو رہا ہے یہ اضافہ %40 سے زائد ہے اس سے مہنگائی کا ایک طوفان اٹھ کھڑا ہوا ہے جو کہ تنخواہ دار ملازمین کے ناتواں کندھوں پر بار گراں ہو چکا ہے،آمدہ بجٹ میں اشیاء خوردونوش کی قیمتوں میں اضافہ ہو گا وہ ایٹم بم کے مترادف ہوگا۔ سرکاری ملازمین مہنگائی کی چکی میں پس کر رہ جائیں گے۔

وسیم اعظم نے کہا کہ بجٹ میں %10 اضافہ مہنگائی کے تناسب اور ڈالر کا %20 مہنگا ہونے کی وجہ سے پچھلے سال کی تنخواہوں پر ہونے والے خسارہ کے برابر بھی نہیں ہو گا اسلئے سرکاری ملازمین کے 4 ایڈہاک ریلیف الاؤنس کو ضم کر کے جاری بنیادی تنخواہ پر کم از کم %30 اضافہ کیا جائے کنوینس الاؤنس 2008 کے نرخوں پر چل رہا ہے جو کہ 62 روپے تھا آج پیٹرول %200 بڑھ کر 181 روپے پر پہنچ چکا ہے۔

انہوں نے کہا کہ میڈیکل الاؤنس 2008 کے نرخوں کے مطابق 1500 روپے مقرر کیا گیا تھا آج 1500 روپے میں ڈاکٹر صرف سلام کا جواب دیتا ہے ہاؤس رینٹ الاؤنس جو 2008 میں مقرر کئے گئے تھے چھوٹے سرکاری ملازمین کو 3000 روپے دیا جاتا ہے آج 3000 روپے میں کوئی ایک کمرہ بھی کرائے پر نہیں دیتا، حکومت بجٹ میں ان تمام الاؤنسز میں %100 اضافہ کر کے سرکاری ملازمین کی تنخواہوں میں اضافہ کرکے تاکہ سرکاری اداروں میں مالی اور انتظامی بدعنوانی کا خاتمہ ممکن ہو سکے ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button