للِہ پولیس کی نئے ڈی پی او جہلم کو سلامی، پہلی کھلی کچہری میں سائلین کو اغوا کر کے شکایات سے روک دیا

پنڈدادنخان: تھانہ للِہ پولیس کی نئے ڈی پی او کو سلامی، پہلی کھلی کچہری میں سائلین کو اغوا کر کے شکایات سے روک دیا، فرضی سائلین پیش کرکے ڈی پی او کامران ممتاز کو ماموں بنا دیا۔

تفصیلات کے مطابق جہلم پولیس نے اپنی روایتی پھرتیاں دکھاتے ہوئے نئے ڈی پی او کامران ممتاز کو پہلی کھلی کچہری میں ہی ماموں بنا دیا، تھانہ للِہ پولیس نے اپنی ناقص کارکردگی کو چھپانے کیلئے کھلی کچہری سے قبل متعدد سائلین کو ڈرا دھمکا کر شکایات کرنے سے روک دیا۔

ایک سائل حافظ شریف جس نے پولیس کی جانب سے روکنے کے باوجود کھلی کچہری میں شکایت کرنے کی تیار ی کررکھی تھی کو تھانہ للہ پولیس نے حفظ ماتقدم کے طور پر ڈی پی او کی کھلی کچہری سے ایک گھنٹہ قبل ہی گھر سے اٹھا کر غائب کر دیا اور ڈی پی او جہلم کی پہلی کھلی کچہری میں فرضی سائلین کو پیش کرکے خانہ پوری کر دی۔

کھلی کچہری کے خاتمے کے تقریبا ڈیڑھ گھنٹہ بعد اغواء کئے گئے حافظ شریف کو پولیس نے گھر چھوڑ دیا۔ اس طرح جہلم پولیس نے نئے ڈی پی او کامران ممتاز کو ماموں بنا کر اپنی ناقص کارکردگی سامنے نہ آنے دی۔

اس حوالے سے ڈی پی او کامران ممتاز کی تعارفی میٹنگ میں صحافیوں کی جانب سے سوال اٹھانے پر ڈی پی او نے کہا کہ مجھے آپ کے ذریعے یہ بات معلوم ہوئی ہے، واقعہ کی مکمل انکوائری کی جائے گی اور ذمہ داروں کے خلاف کاروائی عمل میں لائی جائے گی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button