قیام ِصلوۃ بندہ مومن کو برائی اور بے حیائی سے روکتی ہے۔ امیر عبدالقدیر اعوان

دینہ: قیام ِصلوۃ جہاںبندہ مومن کو برائی اور بے حیائی سے روکتی ہے وہاں حفاظت الہیہ کا بھی ایک درجہ نصیب ہوتا ہے،اگر اس فرض کو پورا کیا جائے تو بندہ مومن خود بخودبرائی سے دور ہو جاتا ہے اسی طرح نظام زکوۃ اسلامی معاشرے میں معاشی نظام کی وہ بنیاد ہے جو کہ دولت کی تقسیم کو معاشرے میں برابری پر لے آتا ہے۔

ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوان پاکستان نے خطاب کرتے ہو ئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ نماز وہ تحفہ ہے جو نبی کریم ﷺ کو معراج شریف کے موقع پر اللہ کریم کی طرف سے عطا ہوا اورپھر اُمت کو بھی نصیب ہوا ، اگر نماز کو شرفِ قبولیت نصیب ہو تو بندہ برائی او ر بے حیائی سے رُک جاتاہے۔

انہوں نے کہا کہ اگر نماز کی ادائیگی بھی ہو رہی ہے اور ساتھ کردار میں برائی اور بے حیائی بھی ہے تو ادائیگی میں کہیں کمزوری رہ گئی ہے ،وضو سے لے کر نیت اور پھر ادائیگی تک جس میں قیام ،رکوع اور سجود شامل ہیں دیکھنے کی ضرورت ہے کہ کہاں مجھ سے کمی رہ گئی اسے دور کریں تا کہ ہم بھی وہ نتیجہ حاصل کریں جو قرآن کریم میں ارشاد فرمایا گیا کہ نماز برائی اور بے حیائی سے روک دیتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نماز بندہ مومن کی معراج ہے لیکن اس کے لیے نماز میںخشوع و خضوع کا ہونا پھر نماز میں خو دکو اللہ کے روبرو محسوس کرنا قرب الہی کی وہ کیفیت عطا فرماتا ہے کہ جس کے اثرات بندہ کو برائی اور بے حیائی سے روک دیتے ہیں نماز معاشرے میں رہنا سکھاتی ہے باجماعت نماز کی فضیلت بھی زیادہ ہے اور باہم رنجشیں بھی ختم ہوتی ہیں ایک دوسرے کے حالات سے آگاہی ملتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ نماز کی ادائیگی ہر پہلو سے انسان کی ضرورت ہے جسے اللہ کریم نے اپنی رضا کا بھی سبب بنا دیا ،بندگی ہماری ضرورت ہے اللہ کریم اس پر اجر بھی عطا فرماتے ہیں کیا عطا ہے ،اللہ کریم توفیق عطا فرمائیں اور اللہ کے حکم کو پہلی ترجیح پر لے آئیں اور باقی تمام معاملات ثانوی درجہ پر چلے جائیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button