مہنگائی کے سونامی کو بریک نہ لگ سکی، اشیاء خوردونوش کے نرخوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافہ جاری

جہلم: مہنگائی کے سونامی کو بریک نہ لگ سکی اشیاء خوردونوش کے نرخوں میں روزانہ کی بنیاد پر اضافے کا سلسلہ جاری، حکومت کی جانب سے مہنگائی کو کنٹرول کرنے کے لئے پرائس کنٹرول کمیٹیوں کی تشکیل اور عملی اقدامات کے اعلانات بھی دھرے کے دھرے رہ گئے، بازاروں میں اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں خود ساختہ اضافہ کرنا معمول بن گیا۔

تفصیلات کے مطابق حکومت پنجاب نے مہنگائی کنٹرول کرنے کے لئے اقدامات کے اعلانات کے باوجود مہنگائی پر قابو نہ پایا جا سکا، شہریوں کے لئے بنیادی اشیاء ضروریہ کا حصول مشکل سے مشکل تر ہوگیا، گھی، آٹا، چاول، دالیں اور دیگر اشیاء خوردونوش کے نرخ روزانہ کی بنیاد پر بڑھ رہے ہیں جبکہ دوسری جانب گھی اور چکی کے آٹے کی قیمتیں ایک مرتبہ پھر بڑھا دی گئیں۔

درجہ اول اور درجہ دوم گھی کر نرخوں میں 20/20 روپے تک کا اضافہ کر دیا گیا ہے جس کے بعد درجہ اول گھی کی قیمت 566 روپے کلو جبکہ درجہ دوم گھی کی قیمتی 540 روپے فی کلو تک پہنچ گئی ہے، گھی و آئل کمپنیوں کی جانب سے قیمتوں کا اطلاق بھی کر دیا گیا ہے۔

ادھردیسی آٹا5 روپے فی کلو مہنگا کئے جانے سے اس کی قیمت 95 روپے فی کلو گرام مقرر کر دی گئی ہے جبکہ چکی مالکان نے قیمتیں مزید بڑھانے کا عندیہ بھی دیدیا ہے، چکی آٹا مالکان ایسوسی ایشن کی جانب سے گزشتہ دنوں چکی کا آٹا 5 روپے فی کلو مہنگا کیا گیا اور آٹے کی قیمت 95 روپے فی کلو مقرر کی گئی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button