پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پبلک ٹرانسپورٹ کے کرائے میں بے تحاشہ اضافہ

جہلم: سیکرٹری ڈسٹرکٹ روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی عملی طور پر غیر فعال، ضلع بھر میں جنگل کا قانون نافذ، مسافر سراپا احتجاج، چیئرمین ڈسٹرکٹ روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی سے نوٹس لینے کا مطالبہ۔

پٹرول ، ڈیزل کی قیمتوں میں ایک ہفتے بعد ہی ایک بار پھر اچانک 30 روپے لٹر بڑھانے پر ضلع سمیت اندرون شہر کے علاقوں میں چلنے والی پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں کے مالکان ، ڈرائیوروں کنڈیکٹروں نے از خود سٹاپ ٹو سٹاپ مقررہ کرایہ20 روپے کی بجائے 40 سے50 روپے وصول کرنے شروع کر دیئے جبکہ دوسرے شہروں کو جانیوالی پبلک ٹرانسپورٹ گاڑیوں کے عملے نے بھی من مانے کرائے وصول کرنے شروع کر دیئے۔

سروے کے مطابق پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافے کے بعد پبلک ٹرانسپورٹروں نے کرائے بڑھا کر مسافروں سے وصولی شروع کر دی ہے ، حکومت پنجاب نے 2 سال قبل 2020 ء میں پبلک ٹرانسپورٹ کے کرایوں میں سٹاپ توسٹاپ 20روپے کرایہ مقرر کیا، پچھلے ماہ وفاقی وزیر خزانہ مفتاح اسماعیل نے پاکستانی تاریخ میں پہلی مرتبہ اچانک 30 روپے فی لیٹر کا اضافہ کر دیا۔

اسی طرح رواں ہفتے میں ایک بار پھر پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں 30 روپے لٹرکا مزید اضافہ کر دیا جس پر پنجاب روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے تاحال کسی قسم کے اضافی کرائے وصول کرنے بارے کوئی نوٹیفکیشن جاری نہیں کیااور نہ ہی سیکرٹری ڈسٹرکٹ روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی نے کرائے ناموں میں اضافے کا کوئی سرکلر جاری کیا ہے۔

ٹرانسپورٹرزنے سیکرٹری ڈسٹرکٹ روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کے غیر فعال ہونے کی وجہ سے از خود کرایوں میں غیر معمولی اضافہ کرکے مسافروں سے وصولی شروع کردی ہے جسے مسافروں نے مسترد کر دیاہے ، قابل ذکر بات یہ ہے کہ ایک ہفتے میں 2 مرتبہ غیر معمولی کرایوں میں اضافے کیوجہ سے ٹرانسپورٹرز اور مسافروں میں لڑائی جھگڑے گالی گلوچ ہاتھا پائی معمول بن چکا ہے۔

ٹرانسپورٹرز نے قوانین کا مذاق اڑاتے ہوئے 14 سیٹر پاس گاڑیوں میں 20 سے زائد مسافروں کو بھیڑ بکریوں کی طرح ٹھونسنا معمول بنالیا ہے، جبکہ قانون نافذ کرنے والے ادارے خاموش تماشائی کا کردار ادا کررہے ہیں۔

شہری، سماجی، فلاحی، رفاعی، تنظیموں کے عمائدین نے چیئرمین ڈسٹرکٹ روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی / ڈپٹی کمشنر سے نوٹس لینے اور سیکرٹری ڈسٹرکٹ روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کو فی مسافر فی کلو میٹر کے حساب سے کرایہ نامہ جاری کرنے کا مطالبہ کیا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button