جہلم میں کھاد کی مہنگے داموں فروخت، ڈپٹی کمشنر کا ایکشن، ایگریکلچر فیلڈ اسسٹنٹ گرفتار

جہلم: ضلعی انتظامیہ جہلم کھاد کی مقرر کردہ نرخوں پر فروخت کو یقینی بنانے کے لیے متحرک، مہنگے داموں کھاد فروخت کیے جانے کی اطلاع پر ڈپٹی کمشنر جہلم کامران خان کا سنگھوئی میں کھاد سیل پوائنٹ کا اچانک دورہ کیا۔

مہنگے داموں کھاد فروخت کرنے پر محکمہ ریونیو کے 2 پٹواری، ایگریکلچر فیلڈ اسسٹنٹ، سیکرٹری لوکل گورنمنٹ یونین کونسل سنگھوئی اور کھاد ڈیلر کے خلاف مقدمات درج کر کے قانونی ضابطہ کارووائی شروع کر دی گئی ہے۔ ایگریکلچر فیلڈ اسسٹنٹ کو گرفتار کر لیا گیا ہے جبکہ باقی 4 افراد کی گرفتاری کے لیے ٹیم تشکیل دے دی گئی ہے اور جلد گرفتاری عمل میں لائی جائے گی۔

تفصیلات کے مطابق بسم اللہ کھاد بیج سٹور سنگھوئی میں قائم سیل پوائنٹ پر کھاد 2100 روپے میں فروخت کی جارہی تھی جبکہ کھاد کے سرکاری نرخ 1850 روپے مقرر کیے گئے ہیں، جس پر ڈپٹی کمشنر کامران خان نے کارروائی کرتے ہوئے وہاں پر تعینات عملے کو معطل کرکے مقدمات درج کر لیے گئے ہیں۔

کیش میمو کے ریکارڈ کے مطابق کچھ کسانوں سے 1850 روپے سے زائد کی رقم وصول کی گئی۔ جو کہ متعدد کسانوں کو واپس کر دی گئی ہے جبکہ باقی کسانوں سے ان کے فون نمبرز پر رابطہ کیا جارہا ہے اور کل تک باقی کسانوں کو بھی انکی رقم واپس کر دی جائے گی۔

ڈپٹی کمشنر نے ہدایت کی ہے کہ تمام کھاد سیل پوائنٹس پر پینے کے ٹھنڈے پانی کی سہولت، بیٹھنے کے انتظام مناسب انتظام اور ریٹس کے پینا فلیکس نمایاں جگہ پر آویزاں کیے جائیں۔ ڈپٹی کمشنر نے کہا ہے کہ غفلت برتنے والے اور غیر قانونی سرگرمیوں میں ملوث افسران اور اہلکاروں کے خلاف سخت قانونی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔

انہوں نےکہا کہ کھاد کی مقرر کردہ نرخوں پر فروخت کے حوالے سے حکومت پنجاب کی سخت ہدایات ہیں، ضلع جہلم میں کھاد کی فروخت کے لیے 23 سنٹرز قائم کیے گئے ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button