عیدالفطر میں ایک دن باقی، جہلم سے پردیسیوں کی آبائی علاقوں کو واپسی کا سلسلہ زور و شور سے جاری

جہلم: عیدالفطر میں ایک دن باقی رہ گیا، جہلم سے پردیسیوں کی آبائی علاقوں کو واپسی کا سلسلہ زور و شور سے جاری، گرمی اور حبس میں جلد سے جلد اپنے گھروں تک پہنچنے کے لئے بے قرار پردیسی بس اڈوں پر خوار ہونے لگے۔ عید سے ایک دن پہلے بھی بس اڈوں پر مسافروں کی پریشانیاں ختم نہ ہوسکیں۔

پردیسی اپنے آبائی علاقوں کو روانہ ہونے کے لئے بے تاب، کہیں کرائے دگنے تو کہیں گاڑیاں ہی نایاب ہوگئیں ، لیکن فریاد کریں تو کس سے کریں، شہر کے باسی دلوں میں مچلتی اپنوں سے ملنے کی خواہش لئے خوشی خوشی بس اڈوں ، ریلوے اسٹیشنوں اور ویگن اسٹینڈ پر پہنچے جہاں پہلے گرمی اور حبس زدہ موسم میں ٹکٹوں کے لئے خواری اور پھر بسوں کا انتظار۔

دوسری جانب تماشہ یہ کہ کرائے بھی زیادہ، مسافر اپنے پیاروں سے ملنے کے لئے جلد از جلد بس اڈوں پر پہنچے لیکن بس اڈوں سے گاڑیاں غائب جبکہ بس اڈوں پر کافی رش دیکھنے میں آیا، بس اڈوں پر ٹرانسپورٹرز نے نہ صرف من مانے کرائے وصول کرنے شروع کررکھے ہیں بلکہ زائد کرائے کا سوال کرنے پر مسافروں سے بدتمیزی، گالی گلوچ بھی کی جاتی ہے، بسیں، ویگنیں اورہائی ایسسز مسافروں سے کھچا کھچ بھری نظرآئیں، بے پناہ رش کیوجہ سے پردیسیوں کو ٹرینوں اور بسوں کے ٹکٹس کے حصول میں دشواری کا سامنا کرنا پڑرہاہے۔

شہریوں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ عید الفطر کے موقع پر ٹرانسپورٹرز من مانے کرائے وصول کر رہے ہیں، اس کی روک تھام کے لئے ضلعی ہیڈکوارٹر پر تعینات سیکرٹری ڈسٹرکٹ روڈ ٹرانسپورٹ اتھارٹی کا کوئی ذمہ دار موجود نہیں ، جبکہ موجودہ حکومتی ارکان یا محکمہ ٹرانسپورٹ بھی اس حوالے سے خاموشی اختیار کئے ہوئے ہے۔

مسافروں نے نو منتخب وزیراعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب سے مطالبہ کیاہے کہ ضلع جہلم میں نافذ جنگل کے قانون کے خاتمے کے لئے ایماندار فرض شناس افسران کو تعینات کیاجائے تاکہ حکومت کی بدنامی کا باعث بننے والے متعلقہ ذمہ داران کو ضلع بدر کیاجائے تاکہ مسافروں کو سہولت میسرآسکے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button