حالیہ پٹرولیم مصنوعات میں اضافے کے بعد سیاحت بھی متاثر، ضلع جہلم میں سیاحوں کی آمد میں کمی

جہلم: حالیہ پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کی قیمتوں میں ہوشربا اضافے کے بعد جہاں غریب، کم آمدن والے افراد اور سفید پوش طبقہ سمیت ہر شعبہ ہائے زندگی بری طرح متاثر ہوئی ہے وہاں سیاحت کے شعبہ کو بھی شدید دھچکا پہنچا ہے۔

قلعہ روہتاس، کھیوڑہ سالٹ مائن، قلعہ نندنہ، مقبرہ شہاب الدین غوری سمیت دیگر سیاحتی مقامات جن میں ٹلہ جوگیاں بھی شامل ہے میں سیاحوں کی آمد پر بھی انتہائی منفی اثرات مرتب ہو رہے ہیں، مہنگائی آسمان سے باتیں کر رہی ہے، روزانہ کی بنیاد پر اشیاء ضروریہ کی قیمتوں میں اضافے نے عوام کی زندگیاں اجیرن کر دی ہیں۔

بجلی کی بندش کیوجہ سے پا نی کا شدید بحران پیدا ہونے سے مساجد اور گھروں میں پانی کی شدید قلت نے مکینوں کی پریشانیوں کو مزید بڑھا دیا ہے جبکہ بجلی کی اعلانیہ و غیر اعلانیہ لوڈشیڈنگ سے بھی صارفین بہت تنگ ہو چکے ہیں۔

شہریوں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ پرانے پاکستان میں مسائل کے انبار نے ہمیں آئندہ آنے والے انتخابات میں اپنے ووٹ کے استعمال میں درست فیصلے کرنے کی ضرورت ہے۔

ضلع جہلم کے شہریوں کا کہنا ہے کہ حکمرانوں نے ضلع جہلم کے عوام سے دشمنی کرتے ہوئے جہلم تا لِلہ 2 رویہ سڑک کے فنڈز کا اجراء نہیں کیا اور نہ ہی 2022-23 کے بجٹ میں تہہ شدہ شیڈول کے مطابق 5 ارب روپے مختص کئے ہیں جبکہ جلالپور شریف کندوال نہر کا کام بھی سست روی کا شکار ہو گیاہے، ضلع جہلم کے شہریوں کا اس حوالے سے کہنا ہے کہ آمدہ انتخابات میں عوام دشمن نمائندوں کو اس ظلم و ذیاتی کا حساب دینا ہوگا۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ تحصیل دینہ، تحصیل سوہاوہ اور تحصیل پنڈدادنخان میں آنے والے سیاحوں کی عدم دلچسپی کیوجہ سے کارروباری افراد کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑ رہا ہے جس کی بنیادی وجہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ ہے جس کی وجہ سے اشیاء خوردونوش سمیت تمام اشیاء کی قیمتوں میں غیر معمولی اضافہ ہونا ہے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button