سیاسی قیادت ہوش کے ناخن لے

تحریر: عمیر احمد راجہ

ہمارا ملک بلاشبہ اس وقت نازک صورتحال سے گزر رہا ہے ہر آنے والا دن گزرے دن سے بدتر ہوتا جا رہا ہے، پٹرول کی قیمت میں حالیہ اضافے کے بعد متوقع مہنگائی کے طوفان سے معیشت دان آشنا تو ہیں لیکن عام آدمی پر جو گزرے گی اس کا مداوا نظر نہیں آرہا، المیہ یہ ہے کہ مہنگائی اور معاشی بد حالی کو ختم کرنے کے لئے اقتدار میں آنے والی 13 جماعتوں کا اتحاد اس وقت اس معاشی بحران کا ملبہ گزشتہ حکومت پر ڈال کر خود بری الزمہ ہو رہا ہے۔

دوسری جانب گزشتہ دنوں پاکستان تحریک انصاف کے لانگ مارچ کو روکنے کے لئے جس طرح ریاستی مشینری کو استعمال کیا گیا،اور چادر اور چار دیواری کو پامال کیا گیا اس کی مثال ماضی میں نہیں ملتی،تاہم موجودہ حکومت کے لئے یہ کوئی نئی بات نہیں کیونکہ قبل ازیں ماڈل ٹاون لاہور میں منہاج القرآن کی نہتی خواتین پر بھی اس طرح کا بہیمانہ تشدد کیا جا چکا ہے، لوگوں کو گولیاں مارنا، آنسو گیس کی شیلنگ، ڈنڈے برسانہ اور گلوبٹ جیسے لوگ استعمال کرنا ان کی روایت رہی ہے۔

دریں اثناء جہلم میں پی ٹی آئی کے لانگ مارچ کے حوالے سے صورتحال کافی دلچسپ رہی، عمران کان کی بے پناہ مقبولیت کے باوجود جہلم شہر سے پی ٹی آئی خاطر خواہ لوگ نہیں نکال سکی،اس کی وجوہات کچھ بھی ہو سکتی ہیں بہرحال یہ حقیقت ہے کہ جہلم سے عوام زیادہ تعداد میں نہیں نکل سکی،حالانکہ پولیس نے کافی بندوبست کر رکھا تھا،چنانچہ جادہ کے مقام پر چند درجن سے زائد افراد ہی نظر آئے،جہاں چوہدری تنویر آف ممیان کو پولیس نے گرفتار کر لیا،باقی ورکر صورتحال کو دیکھ کر منتشر ہو گئے جبکہ پی ٹی آئی کے ضلعی عہدیداران اور منتخب عوامی نمائندے سوشل میڈیا پر زیادہ متحرک دکھائی دیئے۔

اس منظر نامے سے محسوس ہوتا ہے کہ عوام اس وقت معاشی بدحالی کی وجہ سے سیاسی ایڈونچر سے دور کھڑی ہے،اس لئے وقت کی ضرورت ہے کہ ملک کی جملہ سیاسی قیادت پوائنٹ سکورنگ کی بجائے پاکستانی کی معاشی صورتحال کو بہتر بنانے کے لئے اکٹھی ہو،اور کوئی مشترکہ لائحہ عمل اختیار کرے،کیونکہ یہ وقت کی اہم ضرورت ہے۔

اللہ پاکستان کی حفاظت فرمائے، آمین

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button