پرانے پاکستان میں بجلی صارفین کیلئے 10 سلیب متعارف، ہر سلیب کے مختلف نرخ مقرر

جہلم: پرانے پاکستان میں بجلی صارفین کیلئے 10 سلیب متعارف‘ ہر سلیب کے مختلف نرخ مقرر کردیے گئے ، فی یونٹ بجلی کی قیمت کم سے کم 24 اور زیادہ سے زیادہ 37 روپے تک ہوگئی ، ماہانہ فیول پرائس ایڈجسٹمنٹ الگ سے بجلی کے بلوں میں شامل ہو گی۔ صارفین سراپا احتجاج ہیں۔

تفصیلات کے مطابق گھریلو صارفین جو 300 یونٹ استعمال کریں گے ان کا بل 12 ہزار 359 روپے تک آئیگا۔ 400 یونٹ استعمال کرنے والے صارف کو 17 ہزار 400 روپے تک بل آنے کا امکان ہے ، 500 یونٹ استعمال کرنے والے صارفین سے 21 ہزار 745 روپے بل وصول کیا جائے گا۔

اسی طرح 600 یونٹ بجلی استعمال کرنے والے صارف کا بل 26 ہزار 779 روپے تک آنے کا امکان ہے، اسی طرح 700یونٹ استعمال کرنے پر بجلی کا بل 32 ہزار 886 روپے ہوگا،خیال رہے کہ وزیراعظم پاکستان نے بجلی کے بنیادی ٹیرف میں 7 روپے 91 پیسے فی یونٹ اضافے کی منظوری دے دی ہے ، بجلی کا بنیادی ٹیرف اس وقت 16روپے 91 پیسے فی یونٹ چارج کیا جارہا ہے جب کہ اس ٹیرف میں مزید اضافے کی منظوری دی گئی ہے۔

بجلی کی قیمت میں اس اضافے کے بعد فی یونٹ 24 روپے 82 پیسے کا ہوجائے گا ، نئی قیمتوں کا اطلاق یکم جولائی سے لاگو ہوگا ، نیپرا نے اپنا یہ فیصلہ وزارت توانائی کو بھجوا دیا ہے ، وزرات توانائی پر لازم ہوگا کہ نئی قیمتوں پر صارفین کو سبسڈی دینے سے متعلق ایک مہینے میں فیصلہ کرے ، اگر وہ فیصلہ نہیں کرتی تو نیا بنیادی ٹیرف تمام صارفین پر لاگو ہوجائے گا۔

شہریوں نے اخبار نویسوں سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ 2 ماہ قبل وزیراعظم پاکستان شہباز شریف کے صاحبزادے وزیراعلیٰ پنجاب حمزہ شہباز اور پاکستان مسلم لیگ(ن) کی نائب صدر مریم نواز نے مہنگائی مکاؤ لانگ مارچ مہم کا آغاز کیا۔

اس وقت مسلم لیگ (ن) کے قائدین کا کہنا تھا کہ پٹرولیم مصنوعات اور بجلی کے بلوں میں اضافہ غریب لوگوں کو زندہ درگور کرنے کے مترادف ہے ، برسراقتدارآتے ہیں حکمرانوں نے غریب عوام کو ریلیف دینے کی بجائے زندہ درگور کرنے کے لئے مہنگائی مہم کا آغاذ کر دیا ہے اس طرح 2 ماہ قبل 1 کلو گھی 265 روپے میں دستیاب تھاجو مسلم لیگ (ن) کی حکومت نے 600 روپے فی کلو متعارف کرواکر لوٹ مار کا نیا ریکارڈ قائم کیا ہے۔

شہریوں کا کہنا ہے کہ سابق دور ِحکومت نے موبائل کارڈ پر 25 فیصد کٹوتی کی جارہی تھی جو کہ موجودہ حکمرانوںنے 40 فیصد کر دی ہے ، اس طرح شہریوں کا ایک دوسرے کے ساتھ رابطہ رکھنا بھی محال ہو جائے گا۔

شہریوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ مہنگائی کے ریکارڈ قائم کرنے والی حکومت سے نجات دلوانے کے لئے جلداز جلد انتخابات کروائے جائیں تاکہ عوام کے ووٹوں سے منتخب کردہ حکومت شہریوں کو ریلیف فراہم کر سکے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button