دریائے جہلم میں شامل ہونے والے زہریلے پانی سے انسانوں سمیت آبی حیات کی زندگیوں کو خطرات لاحق

جہلم: دریائے جہلم میں شامل ہونے والے سیوریج کے گندے زہریلے پانی سے انسانوں سمیت آبی حیات کی زندگیوں کو خطرات لاحق، متعلقہ ادارے ،شہری حقوق اور ماحول کے تحفظ کیلئے بنائی گئی تنظیمیں خاموش تماشائی کا کردار ادا کرنے لگیں۔

دریائے جہلم کا میٹھا پانی آلودہ ہونے سے سعیلہ ، بگا، سنگھوئی،چوٹالہ،داراپور،جلال پورشریف، پنڈی سید پور، پننوال، ہرن پور سمیت دریائے جہلم کے کنارے آباد سینکڑوں دیہات و قصبات روزانہ لاکھوں گیلن کے حساب سے سیوریج ملا زہریلا گندہ پانی استعمال کر نے پر مجبور ہیں۔

محکمہ تحفظ ماحولیات کی اہم رپورٹس پر بھی متعلقہ محکمہ جات اور حکومت ٹس سے مس نہیں ہو رہی۔ اوپن سیوریج لائنوں کے ذریعے پانی کوآلودہ کرنے کے معاملے کو انسانی زندگیوں کیلئے انتہائی خطر ناک قرار دینے کے باوجود ضلعی انتظامیہ و متعلقہ ادارے روک تھام کیلئے اقدامات نہیں کر رہے۔

قابل ذکر بات یہ ہے کہ جب سیوریج سسٹم کا پلان سابق ضلعی ناظم چوہدری فرخ الطاف کے دور میں مرتب کیاگیا توسیوریج کے پانی کو فلٹر کرکے دوبارہ قابل استعمال بنانے کیلئے لاکھوں روپے مالیت کے پلانٹ کے فنڈز بھی مختص کئے گئے جو کہ متعلقہ اداروں کی عدم دلچسپی کے باعث تاحال پلانٹس فعال نہیں ہو سکے جس کی وجہ سے لاکھوں افراد اور آبی حیات زہریلا پانی پینے پر مجبور ہیں جس کیوجہ سے شہری مختلف موذی امراض کا شکار ہو رہے ہیں۔

شہریوںنے وزیر اعلیٰ پنجاب، چیف سیکرٹری پنجاب سے مطالبہ کیا ہے کہ سیوریج کے پانی کو فلٹر کرنے کے لئے پلانٹ کو فعال بنایا جائے تا کہ شہریوں کو موذی امراض اور دریا کو گندگی سے پاک رکھا جائے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button