صحت انصاف کارڈ

تحریر: سیدضیغم عباس

انسانی جان کو جو رفعت و بلندی اسلام نے عطاء کی ہے اس کا اندازہ یہاں سے لگائیے کہ ایک انسان کے قتل کو تمام انسانیت کے قتل کے مترادف قرار دیا ہے اور جس نے ایک جان کو جِلا بخشی، اس نے گویا پوری انسانیت کو جِلا بخشی۔

بدقسمتی سے پاکستان میں بہت سی اموات اس وجہ سے ہو جاتی ہیں کہ متاثرہ خاندانوں کے پاس علاج معالجے کے لیے مطلوبہ رقم موجود نہیں ہوتی لیکن موجودہ حکومت نے اسلام کے اس سنہری اصول کو مدنظر رکھتے ہوئے صحت انصاف کارڈ کا اجراء کیا۔

اس انقلابی پروگرام کے تحت صوبہ پنجاب کی مکمل آبادی کو فی گھرانہ 10 لاکھ روپے سالانہ تک علاج معالجے اور صحت کی معیاری سہولتیں بہم پہنچائیں جائیں گی۔صحت کارڈ کے حامل خاندان 10 لاکھ روپے تک کا سرکاری و نجی ہسپتالوں سے مفت علاج کروا سکیں گے۔

دلچسپ امر تو یہ ہے کہ 8500 پر ایک میسج کرنے سے آپ کا شناختی کارڈہی آپ کا صحت کارڈ بن جائے گا اور آپ اس سہولت سے مستفید ہو سکیں گے۔ کارڈ کے ذریعے مہلک بیماریوں کا علاج مفت کرایا جا سکے گا اور یہ کارڈ 2025 تک مؤثر ہو گا۔

نیا پاکستان صحت کارڈ کے ذریعے کینسر، گائنی، ڈائیلسز، ہر قسم کی سرجری، امراض دل اور جگر ٹرانسپلانٹ بھی کرایا جا سکے گا۔ صحت کارڈ ایک طرح کی ہیلتھ انشورنس ہو گی جس سے پنجاب بھر میں بیمار افراد کو باعزت علاج فراہم کیا جائے گا۔ صحت کارڈ سے امیر اور غریب کو بلا امتیاز علاج کی سہولت فراہم کی جائے گی۔

صحت کارڈ کے حصول سے نجی ہسپتالوں میں بھی مفت علاج کی سہولت ملنے سے سرکاری ہسپتالوں پر مریضوں کا رش بھی کم ہو جائے گا۔صحت کارڈ کا منصوبہ پرائیوٹ پبلک کے اشتراک سے تیار کیا گیا ہے۔ اس سے نجی ہسپتالوں کی استعداد میں اضافہ ہو گا اور جدید طبی آلات کی دستیابی بھی ممکن ہو جائے گی۔

صحت انصاف کارڈ ہر خاندان کے سربراہ کو ملے گا ۔ کارڈ بنوانے کے لیے صرف شناختی کارڈ لازمی ہو گا۔ صحت کارڈ کے ذریعے بچوں اور نوجوانوں کا علاج بھی کرایا جا سکے گا اس لیے کارڈ کے حامل شخص کا نام اور شناختی کارڈ نمبر کارڈ پر پرنٹ کیا جائے گا تاکہ خاندان کے کسی بھی مریض کا ڈیٹا کارڈ ہولڈر کے ریکارڈ سے تصدیق ہو سکے۔

ڈاکٹر یاسمین راشد کے مطابق پاکستان کی تاریخ میں پہلی بار محکمہ صحت پنجاب نے 46 ہزار سے زائد ڈاکٹرز، نرسز، پیرا میڈیکل سٹاف، میل نرسز و دیگر عملہ بھرتی کیا ہے۔صحت سہولت کارڈ کی سہولت پنجاب کے 314 نجی و سرکاری ہسپتالوں میں میسر ہو گی۔

اگر ضلع جہلم کے ہسپتالوں کی بات کریں تو یہاں کی عوام سرکاری ہسپتالوں میں ڈی ایچ کیو جہلم، ٹی ایچ کیو سوہاوہ، ٹی ایچ کیو پنڈدادنخان اور نجی ہسپتالوںمیںافضل ہسپتال، کیپٹن معظم علی شہید ہسپتال، سرمد ہسپتال اور جہلم کارڈیک سینٹر جا کر اس سہولت سے مستفید ہوسکتی ہے۔

مبصرین کے مطابق صحت کارڈ پی ٹی آئی حکومت کے لیے طرہ امتیاز کی حیثیت رکھتا ہے اور اسی طرح کے مزید پراجیکٹس کا آغاز کر کے پی ٹی آئی حکومت نے انتخابات سے قبل عوام پر خرچ کرنے کا جو وعدہ کیا تھا اسکی تکمیل جاری رکھے گی۔انسانی جان کے تحفظ کے اس بہترین، مؤثر اور روشن قدم کو سپورٹ کیجیے۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button