ہم نے کیا دیکھا

تحریر: عامر کیانی

اچھے خاندانی پس منظر اور اخلاقی روایات کے حامل مخالفین اپنے مدِّ مقابل کے بُرے وقت میں وار کرنے سے گریز کرتے ہیں تو ان کی اعلیٰ ظرفی بھی ایک مثال ہوتی ہے جبکہ کچھ بہت اپنے اور بہت قریبی ساتھیوں کی اوقات کُھل کر سامنے آتی ہے تو افسوس اور شرمندگی کے سوا کچھ نہیں کیا جاسکتا۔

مخالفین سے تو پھر انسان بہت سی انہونی اور نا خوشگوار باتوں کی توقع رکھتا ہے مگر اپنوں کی زمانہ سازی اور چھپی نفرتوں کا اظہار اُس کے لئے نا قابل برداشت ہوتا ہے۔ آزمائش کے وقت چھوڑ کر جانے والا اور دُکھ درد سے بے نیاز ہو جانے والے ساٹھی عمر بھر کا پچھتاوا بن جاتے۔ بہر حال یہ فطری تضادات ہی شخصیت کا اصلی روپ ہوتے ہیں۔اور وقت وہ ترازو ہے جو اپنوں اور مخالفین کے اصل رویوں کا تعین کرتا ہے۔

اور پھر ہم نے دیکھا
جب عمران خان کی حکومت کو چند ماہ پہلے عالمی سازش کے تحت ہٹایا گیا تو اسوقت پی ڈی ایم کی جماعتوں کے علاوہ جو لوگ پی ٹی آئی کو چھوڑ کر لوٹے ہو گئے ان سمیت تمام لوگ اپنی کامیابی پر بہت خوش اور طاقت کے نشے میں جھوم رہے تھے۔ ایسے میں سابق وفاقی وزیر فواد چوہدری نے قومی سطح پر اپنے لیڈر عمران خان کا بھرپور ساتھ دیا اور مشکل ترین موقعوں پر پارٹی کے بیانیہ کو انتہائی خوبصورتی اور دلیری سے عوام تک پہنچایا اور چیئرمین عمران خان کے شانہ بشانہ رہے۔ انکے بھائی منجھے ہوئے قانون دان فیصل چوہدری نے بھی قانون کے محاظ پر پارٹی کی بہترین خدمت کی۔ لیکن سیاسی لحاظ سے اگر دیکھا جائے تو سب سی مشکل کام فراز چوہدری کے ذمہ لگا۔

اور ہم نے دیکھا کہ جیسے ہی مشکل وقت آیا جہلم میں بھی پی ٹی آئی کے بہت سے لوگ جو اپنے آپ کو نظریاتی کہتے تھکتے نہیں تھے اچانک منظر سے غائب ہونا شروع ہو گئے تھے، خصوصاً وہ لوگ جو عمران خان کو اپنا لیڈر مانتے تھکتے نہیں تھے اور اقتدار کے دنوں میں آگے آگے ہوتے تھے لیکن بحران کے دنوں میں کہیں نظر نہیں آئے۔

ہم نے یہ بھی دیکھا کہ جہلم میں پی ٹی آئی کے مشکل وقت میں اگر کوئی کھڑا رہا ہے تو وہ پی ٹی آئی کے موجودہ ضلعی صدر چوہدری غلام احمد زمرد، ڈسٹرکٹ جنرل سیکرٹری فراز چوہدری اور انکی بہترین ٹیم سمیت فوق شیر باز اور انکے ساتھی ہیں۔ فراز چوہدری اور انکی ٹیم نے چٹان کی طرح جس بہادری سے جہلم میں ن لیگ کی پولیس گردی کا مقابلہ کیا وہ قابل تحسین ہے۔ ہم نے یہ بھی دیکھا 24 مئی کو فراز چوہدری اپنی پوری ٹیم کے ہمراہ جہلم شہر میں موجود رہے اور جہلم پل پر گرفتار ڈرائیورز کے کنٹینرز چھڑوانے کیلئے انکے ہمراہ پریس کانفرنس کی۔

25 مئی کو فواد چوہدری جب فراز چوہدری اور چوہدری فوق شیر باز کے ہمراہ جادہ کیلئے روانہ ہو رہے تھے تو پی ٹی آئی میرپور کے اکابرین کی خواہش پر جس میں انھوں نے فواد چوہدری کو ریلی کو لیڈ کرنے کی درخواست کی جسے فواد چوہدری نے یہ کہتے ہوئے ہوئے قبول کیا کہ میں آپ کے پاس آجاتا ہوں مگر پھر آپکو ہمارے ساتھ جہلم آنا پڑے گا جہاں سے ہم اکھٹے اسلام آباد کیلئے روانہ ہوں گے۔

فواد چوہدری جب میرپور پہنچ گئے تو منگلا پل پر پنجاب پولیس نے اس وقت کے ڈی پی او کامران ممتاز کی سربراہی میں تقریباً 500 سے زائد اہلکاروں کیساتھ مل کر پل کو کینٹینروں کیساتھ بلاک کر دیا اور آنسو گیس کی بدترین شیلنگ شروع کر دی۔ پولیس نے غلام احمد زمرد کو تقریباً صبح دس بجے منارہ چوک سے گرفتار کر لیا۔ فراز چوہدری اور فوق شیر باز اپنے قافلے کے ہمراہ بیلے کے راستے منگلا کی طرف بڑھے اور فواد چوہدری کے ہمراہ پولیس گردی کا ڈٹ کر مقابلہ کیا۔

ہم نے یہ بھی دیکھا کہ انھیں اور انکے ساتھیوں پر ایکسپائرآنسو گیس شیل پولیس کی طرف سے مارے گئے، ان کے زیر استعمال گاڑیوں کو بھی شدید نقصان پہنچا۔ فواد چوہدری اپنے قافلے کے ہمراہ مختلف راستوں سے اسلام آباد پہنچے میں کامیاب ہوگئے۔

ہم نے تین مہینے فراز چوہدری اور انکی ٹیم کو ن لیگ کی طرف سے بدترین مخالفت کا ڈٹ کر سامنا کرتے دیکھا ہے اور انکو عمران خان کی ہر کال پر حاضری دیتے اور اپنے ساتھیوں کو متحرک کر کے اور انھیں اتحاد اور اتفاق سے اکٹھا رکھ کر ریلیاں، احتجاج اور تاریخی جلسہ میں دن رات ڈور ٹو ڈور محنت کرتے بھی دیکھا ہے، چیف الیکشن کمشنر کے خلاف احتجاج ہو یا تاریخی مہنگائی لوڈشیڈنگ کے خلاف مظاہرے ہوں یا 17 جولائی کے ضمنی الیکشن ہوں، پی ٹی آئی جہلم کی ٹیم سیاسی میدان میں موجود رہی۔

ہم نے دیکھا کہ حلقہ پی پی 83 خوشاب میں جنرل سیکرٹری فراز چوہدری،فوق شیر باز، غلام زمرد، راجہ شاہ نواز اوف احمدآباد، شفقت بلال گوندل، کندوال یونین کونسل کے اکابرین حاجی امان، حق نواز، ملک زبیر اور ملک عبید انوار سمیت سمیت تحصیل جہلم، دینہ اور پنڈدادنخان سے بہت بڑے قافلے کے ساتھ پورا دن ووٹروں کو متحرک کرنے میں صرف کیا۔

میں یہ بات دعوی سے کہہ سکتا ہوں کہ جہلم میں اگر فراز چوہدری کی جگہ کوئی اور ہوتا تو وہ ہمت ہار کر میدان چھوڑ چکا ہوتا لیکن انہوں نے جس بہترین حکمت عملی اور بلند حوصلے سے بدترین حالات میں بھی اپنے لوگوں کے عزم اور ہمت کو مضبوط بنائے رکھا اس پر ان کی جتنی بھی تعریف کی جائے وہ کم ہوگی۔ یہاں پر میں تحصیل جہلم کی ٹیم کا خاص طور پر ذکر کرنا چاہوں گا جنہوں نے کبھی بھی موسم کی شدت یا کسی اور انسانی کمزوری کو اپنے آگے حائل نہیں ہونے دیا اور ہمیشہ عمران خان کی ہر کال پر بھرپور شرکت کی۔

تحریک انصاف وومن ونگ، مہر سعید گروپ، راجہ طارق گروپ، آی ایس ایف ملک سعد گروپ، آء ایل ایف ونگ، رضوان منور، ملک نسیم خالد، چوہدری فضل اوف ڈھوک منور، جمشید خان اوف مونن، راجہ فرحان، راجہ محسن، محمد وقار، راجہ عرفان الیاس، ملک یاسین، ملک مشتاق، چوہدری اعجاز، چوہدری تنویر اوف طور، محمد شہزاد اوف بجوالہ، علی احدی، چوہدری اعجاز کونسلر، چوہدری تنویر، ملک شوکت، مرزا عازم، حاجی شریف، اخلاق شاہ، چوہدری شوکت اوف چک عیسی گروپ، محمد اویس، حمزہ ڈار، سابق ناظم چوہدری تصور اوف چتن، چوہدری قیصر، ملک عادل، ملک عباس، ڈاکٹر راشد، عفان بٹ، ملک نغمان، ملک عدنان، قیصر شجاع، مرزا فراز، راجہ شہباز، خادم بٹ، کریسچن کمیونیٹی کے ظفر گل، مائیکل جیمز، نیامت شاکر، سلیم مسیح، ایرک ویکٹر اور دیگر بہت سے لوگ تحریک انصاف کے ہر بڑے شو پر ضلعی تنظیم کے شانہ بشانہ رہے۔

ہم نے دیکھا ہے پل بھر میں بدلے ہوئے رویوں کو
یہ نہ پوچھ ہم نے آپنوں میں کیا کیا نہیں دیکھا

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button