مہنگائی مارچ

تحریر: عامر کیانی

پی ٹی آئی کی حکومت کو پی ڈی ایم نے جیسے تیسے کر کے حکومت سے تو علیحدہ کر دیا مگر اب دو ماہ گزرنے کے بعد لگتا ہے کہ شہباز حکومت سے معاملات سنبھل نہیں رہے خاص طور پر معاشی معاملات جو کہ آزاد معاشی تجزیہ کاروں کے مطابق سیاسی بحران کی وجہ سے شروع ہوا اور ہر گزرتے دن کیساتھ ملک میں ہیجانی کیفیت کو مزید تقویت دے رہا ہے۔

ڈالر آئے روز بڑھنے کے نئے ریکارڈ بنا رہا ہے جس سے آئندہ دو ماہ مہنگائی کی بہت بڑی لہر آئے گی۔ عمران خان اور انکی حکومت نے جس طرح صدی کی سب سے بڑی وبا کرونا اور عالمی معاشی مسائل کے باوجود ملک میں بے شمار کامیاب سوشل سپورٹ پروگرام جیسے ہیلتھ کارڈ، احساس پروگرام، کامیاب نوجوان پروگرام، کسان کارڈ، آر ڈی اے اور دیگر اہم پروگرام شروع کیے اور جی ڈی پی گروتھ 6 فیصد تک کے کر گئیے اسکی تعریف دنیا کے معاشی ماہرین کر رہے ہیں۔

عمران حکومت نے پاکستان ایف بی آر میں ایماندار اور اہل آفیسر لگا کر ریکارڈ ٹیکس جمع کیے جس کی بدولت پیڑول پر 10 روپے اور بجلی پانچ روپے سستی فراہم کرنے کا بندوبست کیا گیا اور روس کیساتھ سستا تیل لینے کا معاہدہ بھی شروع ہونے کو تھا جو رجیم چینج آپریشن کی بدولت مکمل نہ ہو سکا۔ بقول حماد اظہر اگر ہم روس کیساتھ معاہدے میں کامیاب ہو جاتے تو ملک میں پیٹرول 110 روپے فی لیٹر دستیاب ہو جاتا۔

موجودہ حکومت نے آتے ہی تمام سبسڈیاں واپس لے لیں جس کی بدولت مہنگائی کے تمام ریکارڈ ٹوٹ گئے۔ شہباز حکومت کے وزرا کبھی عوام کو چائے کم پینے کے مشورے دیتے ہیں کبھی چینی کم استمعال کرنے کا تو کبھی مارکیٹوں میں بجلی رات 9 بجے تک، وزرا کے غیر سنجیدہ رویے سے عوام میں غم و غصہ میں مزید اضافہ ہوا ہے۔

19 جون کو عمران خان نے مہنگائی کے خلاف پورے پاکستان میں احتجاج کی کال دی، اسلام آباد پشاور۔لاہور کراچی کوئٹہ سمیت چھوٹے بڑے شہروں میں بھرپور مظاہرے ہوئے پورے ملک کی طرح جہلم میں بھی بھرپور احتجاج ہوا۔ ضلعی صدر غلام احمد زمرد، ضلعی جنرل سیکرٹری فراز چوہدری، ایم پی اے ظفر اقبال اور فوق شیر باز کی قیادت میں مرکزی آفس سے شاندار چوک تک بہت بڑی ریلی نکالی گئی۔

شہر کے مختلف مقامات سے ریلیاں مرکزی آفس میں جمع ہوکر ایک جلوس کی شکل میں شاندار چوک میں پہنچی جہاں پر مہنگائی کے خلاف احتجاج کیا گیا۔ تحریک انصاف کے کارکنوں نے پلے کارڈ اٹھا کر حکومت کے خلاف خوب نعرے بازی کی۔

شاندار چوک میں فراز چوہدری نے خطاب کے دوران کہا کہ ہم حق پر کھڑے ہیں اور ظلم کے خلاف جدوجہد کرتے ہوئے ڈٹ جانا ہمارے بہتر مستقبل اور آنے والی نسلوں کے بہتر مستقبل کی نوید لے کر آئے گا، یہ ملک ہمارا ہے، ہمارا جینا مرنا یہاں ہے، ہمارا سب کچھ یہاں ہے۔ ہم سب پر یہ فرض ہے کہ یہاں سے ڈاکوؤں کو بھگائیں اور عمران خان کو دوبارہ دو تہاء اکثریت سے ملک کا وزیراعظم بنائیں۔

پی ٹی آئی جہلم کی طرف سے لگائی گئی بڑی آسکرین پر عمران خان کا خطاب دکھایا گیا جس کو تیز بارش کے باوجود مقامی رہنماؤں کے ساتھ لوگوں کی کثیر تعداد نے بڑی دلچسپی کے ساتھ آخر تک سنا۔ کافی فیملز نے بھی گاڑیوں کے اندر بیٹھ کر اپنے کپتان کی تقریر کو سنا۔ اگر ہم پنڈدادنخان کی بات کریں تو تحریک انصاف کے متحرک کارکن ملک عبید نے مہنگائی کے خلاف ریلی نکال کر بڑوں کی نیندیں اڑا دیں، بہترین حکمت عملی سے پنڈدادنخان میں بھرپور ریلی نکالی گئی اور احتجاج ریکارڈ کروایا گیا۔ اسی طرح پی پی 25 کی بات کریں تو وہاں پر مقامی قیادت کی جانب سے غیر سنجیدگی دیکھنے کو ملی پی پی 25 سے لوگ گھروں سے باہر نہیں نکلے۔

ایم پی اے راجہ یاور کمال اور سابق ضلعی صدر چوہدری زاہد لوگوں کو گھروں سے نکالنے میں بری طرح ناکام رہے، راجہ یاور کمال اور سابق ضلعی صدر راہد اختر نے دینہ میں داتا دربار میں احتجاجی ریلی کی کال دے رکھی تھی جس کو بارش کے باعث ملتوی کر دیا گیا اور بعد میں مقامی ہوٹل میں احتجاجی میٹنگ کی صورت میں منعقد کر کے فوٹوسیشن کروایا گیا جو کہ دینہ کی قیادت کے لیے لمحہ فکریہ ہے۔

 

 

 

 

 

 

(ادارے کا لکھاری کی رائے سے متفق ہونا ضروری نہیں۔)

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button