شخصی اور فکری آزادی

تحریر: امیر عبدالقدیر اعوان

14 اگست 1947 بمطابق 27 رمضان المبارک 1366ھ وطن عزیز پاکستان کی آزادی کا مبارک دن ہے ۔انسانی دسترس جتنی بھی ترقی کرتی جائے بہرحال محدود ہے۔اسی طرح ایام کا شمار بھی محدود ہے ۔مواقع بدل جاتے ہیں ،نسل در نسل تبدیلیاں وقوع پذیر ہو جاتی ہیں مگر تواریخ وایام پلٹتے رہتے ہیں ۔

امسال بھی 14 اگست ،یوم آزادی کی آمد ہے تقریباً 73سال گزرنے کے باوجود ہم ہیں کہ آزادی کی روح سے نا آشنا ہیں۔آزادی یعنی وہ جو اپنی مرضی سے عمل کرسکے۔آزادی کے دو پہلو ہیں، ایک شخصی آزادی اور دوسری فکری آزادی۔ شخصی آزادی کہ جس میں ایک شخص اپنے ہر عمل کے اختیار کرنے میں کسی کا پابندنہ ہو، اپنی مرضی کا مالک ہو۔ فکری آزادی کہ کسی عمل کے اختیار کرنے کے ارادے میں بھی آزاد ہو یعنی کسی عمل کے اختیار کرنے میں کسی اور کی تقلید نہ کرنے اور کسی غیر قوم یا فرد کی رَوش کو اپنی راہ نہ سمجھے۔

1857ء کی جنگ آزادی سے لے کر 14اگست1947ء تک برصغیر کے مسلمانوں نے بڑے بڑے خوبصورت اور دلیر بیٹے اپنی قوم کی بنیادیں استوار کرنے میں لگائے۔یہ بھی حقیقت ہے کہ انڈین نیشنل گانگرس جو کہ 1885ء میں معرض وجود میں آئی،کے دھوکے سے نکل کر 1906ء میں مسلم لیگ کا قیام عمل میں لایا گیا اورعلامہ اقبال کے دوقومی نظریے کو عملی جامہ پہناتے ہوئے قائداعظم محمد علی جناح نے اپنی قوم کے ہمراہ 14 اگست 1947ء کے دن کو پایا۔

ان تمام عظیم قربانیوں کے ساتھ یہ حقیقت ہے کہ انگریز کی وہ سلطنت کہ جس میں سورج غروب نہ ہونے کا دعویٰ کیا جاتا تھاجنگ عظیم اوّل اور دوم کے زخموں سے جانبر نہ ہوسکی اور مجبور ہوگئی کہ مفتوحہ علاقوں کو واپس لوٹا دیا جائے۔ 14 اگست 1947ء وطن عزیز پاکستان کی آزادی کا دن ہے اس کے پرچم کے ہوا میں لہرانے پہ لاکھوں لوگوں نے نے اپنے خون کی سلامی پیش کی۔آج اس قوم کی آزادی کی عمر73سال ہورہے مگر کیا وجہ ہے یہ آزادی لسانی تعصب کی تلخی کو دور نہ کرسکی؟ یہ آزادی فرقہ واریت کے شعلوں کو ٹھنڈا نہ کرسکی؟ یہ آزادی ایک آزاد انسان کو آزادی کے اصل مفہوم سے آشنا نہ کرسکی۔

لفظ "ملک” فقط خطہ زمین کو نہیں کہا جا سکتا ہاں مگر باسیوں کے وجود سے اپنے معنی کی تکمیل پاتا ہے اور انسانی معاشرے کی ترقی کا انحصار حقوق و فرائض کی مساوی تقسیم پر ہوتاہے اور مساوات آزادی کے بنا ممکن نہیں۔بحمدللہ بحیثیت مسلمان وجود انسانی کے تخلیقی عناصر کی جو راہنمائی نصیب ہوتی ہے اس کے تحت مٹی ،آگ، ہوا، پانی اور ان عناصر کی آمیزش سے پانچواں عنصر نفس ہے ۔نفس کا وجود غیر مرئی ہے مگر وجود ہے جیسے کان وجود رکھتے ہیں مگر شنوائی غیر مرئی ہے ،آنکھیں وجود رکھتی ہیں مگر نظر غیر مرئی ہے۔ عناصرِ وجود کا عالم خلق سے ہونا نفس کی خلق کی طرف رغبت کا سبب ہے۔ اس لیے انسانی معاشرے کی معراج کے لیے قوانین کا ہونا بے معنی ہے سوائے نفاذ کے وگرنہ صدیاں بھی گزر جائیں تو بھی آزادی کے معنی سمجھ نہیں آسکتے ۔

اقوام عالم کی محکومی و آزادی کو تاریخ کے اوراق میں دیکھنے سے بخوبی سمجھ میں آتا ہے کہ جب کوئی قوم محکوم ہو جائے تو اس کی قدریں تک محکومی کی نظر ہو جاتی ہیںاور پھر چاہے غالب قوم کسی بھی سبب سے محکوم قوم کو آزاد بھی کر دے تو بھی قدریں واپس نہیں آتیں۔زبان وانداز ہو یا لباس و معاشرت ،غیر کا ہی اعلی لگتا ہے جیسے آج ہمارے معاشرے کا حا ل ہے ہاں مگر قوت بازو آزادی کا سبب بنے تو قومیں جی اُٹھتی ہیں اور ظاہری آزادی کے ساتھ ذہنی آزادی کی حقیقت تک بھی پہنچ جاتی ہیں ۔

برصغیر پہ قابض ہونے کے بعد لارڈمیکالے نے جو رپورٹ ملکہ کو لکھی اس کے مطابق ایسی قوم جس لٹریسی ریٹ چوراسی فیصد سے بھی زیادہ ہو کو زیادہ دیر تک محکوم نہیں رکھا جاسکتا۔یہ اس بات کا ثبوت ہے کہ پھر ہمارا نظام ِ تعلیم بری طرح سے تباہ کیا گیا اور ہماری ظاہر غلامی سے فکری غلامی تک جکڑ دیا گیا۔بے شک 14اگست ہماری ظاہری یا ذاتی آزای کا دن ہے مگر 73سال کے حالات اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ ہمیں تاحال من حیث القوم فکری آزادی درکا رہے۔

فطری بات ہے کہ کوئی بھی تخلیق اپنے وجود میں مقصدِ تخلیق کا عنصر رکھتی ہے۔قرآن و حدیث میں بے شمار دفعہ واضح طورپر انسان کا مقصدِ تخلیق ملتا ہے اور بحیثیت مسلمان جب آزادی کا اصل مفہوم بیان کیا جائے گاتو وہ ا س کے علاوہ کچھ اور ہو ہی نہیں سکتا کہ مسلمان اللہ تعالیٰ اور نبی کریم ﷺ کے تابع ہوکر غیر اللہ کی غلامی سے آزادی ہے۔

16رمضان المبارک 8ہجری فتح مکہ کا دن ہے۔ ورقہ بن نوفل کی پیش گوئی ،کاش میں اس دن زندہ ہوں جس دن آپ ﷺ کو شہر بدر کردے گی تو میں آپﷺ کی معاونت کروں ،کے دن سے لر کے فتح مکہ کے دن تک نبی کریمﷺ کیسے کیسے مراحل سے گزرے۔

آپ ﷺ رحمۃ اللعالمین کہ جن کے صدقے رزق نصیب ہوا،انھیں اور ان کے رفقا کو سوکھے چمڑے ابال کر کھانے پڑے۔ آپ ﷺ پر پتھر برسائے گئے لیکن آپ ﷺ نے سنگ بدستوں پر پہاڑوں کا الٹادیاجاناپسندنہیں فرمایا۔وطن چھوڑا،عزیز واقارب کے وجود کے مثلے ہوئے اورنجانے کتنی قربانیوں کے وہ دن آیا کہ بالآخر کفر کی کمر ٹوٹی اور آپ ﷺ اونٹنی پر سوار اتنا سر جھکائے کہ کوہان سے لگے،شہر مکہ میں داخل ہوئے اور یہ عظیم دن ہمیں یاد نہیں اور شکاگو کے مزدور کی موت اتنی یا د ہے کہ اس دن قومی چھٹی ہے،اپنے اجداد کی پگڑیاں یاد نہیں کہ ایوانِ سلطنت میں بغیر پگڑی کے بیرا قبول نہیں۔ہندو ماتھے پر تلک لگائے دنیا گھومے اور ہمارے سرکاری دورے ٹائی کوٹ کے بغیر ادھورے ہیں۔قوم کا لیڈر قوم سے زبانِ غیر میں مخاطب ہو۔۔۔۔۔۔۔اور فکری غلامی کیا ہوتی ہے؟۔

ہمیں ضرورت ہے کہ ہم 14اگست کو پرچم کشائی کے بعد جب قومی ترانہ پڑھیں تو پہلے کلمۂ طیبہ پڑھیں۔اپنا نظام ِ تعلیم بہتر اور یکساں بنائیں،اپنے بچوں کو اغیار کی نہیں بلکہ اپنی تاریخ پڑھائیں۔ جب قومی حمیت جاگے گی تو فکری آزادی حاصل ہوگی تب ہم کہہ سکیں گے کہ ہم آزاد ہیں۔ کسی بھی ریاست کی کامیابی کاانحصار پانچ بنیادی نظام ہوتے ہیں۔تعلیم،انصاف ،معیشت ،صحت اورسیاست ۔اے کاش یہ14 اگست ہمیں یہ باور کرانے کا سبب بن جائے کہ ہمارے یہ پانچ بنیادی نظام ہمارے ہی مرتب شدہ ہیں اور کیا یہی طرز ہم اپنی آنے والی نسلوں کے لیے چھوڑ کر جا رہے ہیں۔

تمام کمزوریوں کے باوجود ایک اصول ہمیشہ ذہن نشین رکھنا ہے کہ کبھی بھی ایک غلطی دوسری غلطی کے صحیح ہونے کا جواز نہیں ہو سکتی اس لیے ضروری ہے کہ کسی کے غلط عمل کو دیکھ کر "میں” غلط نہ کروں۔میرا ملک ہے، میری قوم ہے، میرا قانون ہے، میرے ادارے ہیں "میں” ملک وقوم کی ترقی کے لیے ہمیشہ کوشاں ہوں۔

پاکستان زندہ باد! تمام اہل وطن کو یوم ِ آزادی مبارک!

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button