واٹر سپلائی یوزر کمیٹی جلالپور شریف کی انتظامیہ نے عوام کو گندا، بدبو دار اور گٹروں کا پانی پینے پر مجبورکر دیا

پنڈدادنخان: واٹر سپلائی یوزر کمیٹی جلالپور شریف کی کرپٹ اور اقرباء پرور انتظامیہ نے عوام کو گندا، بدبو دار اور گٹروں کا پانی پینے پر مجبورکر دیا، 3 کروڑ سے زائد کی گرانٹ اقرباء پروری کی نظر ہو گئی اور عوام شدید گرمی میں پانی کی بوند بوند کو ترس کر رہ گئی۔

تفصیلات کے مطابق واٹر سپلائی یوزر کمیٹی جلالپور شریف کی کرپٹ اور اقرباء پرور انتظامیہ نے عوام کو گندا، بدبو دار اور گٹروں کا پانی پینے پر مجبورکر دیا ہے جس سے ہر دوسرا شخص ہیپاٹائٹس کا مریضہ ہونے کا خطرہ بڑھ گیا ہے۔حال ہی میں 3 کروڑ سے زائدرقم کی گرانٹ بھی اقرباء پروری کی نظر ہو گئی۔

1974ء میں بننے والی واٹر سپلائی سکیم پائپ ابھی تک وہی چل رہے ہیں جبکہ 90 کی دہائی میں پائپ تبدیل کرنے والے موجود جنرل سیکرٹری نے گٹروں والے پلاسٹک کے پائپ ڈال کر کرپشن کی انتہاء کی تھی اور وہ سب ختم جب کہ اس سے پہلے متعدد بار اسی یوزر کمیٹی کو لاکھوں کی گرانٹیں مل چکی ہیں لیکن یہ راشی، کرپٹ اور سفارشی واٹر سپلائی یوزر کمیٹی کام کرنے اور کروانے سے قاصر ہے اور عوام کو شدید گرمی میں پانی کی بوند بوند کو تر سا رہی ہے۔

اسی طرح پانی کے بل 300 فیصد بڑھا کر بھی صفائی کیلئے خاکروب کا بندوبست نہ ہے اورجگہ جگہ گندگی کے ڈھیر، گلیاں جوہڑوں اور تالابوں میں تبدیل ہو چکی ہیں جس سے تعفن پھیلنے کا خدشہ ہے، مہینے بھر میں صرف 9 دن پانی دینا وہ بھی 25 منٹ صفائی کا بل لیناجبکہ پہلے دو خاکروب تھے اور بل صرف 70روپے تھا لیکن اب بل 400 سے زائد ہے اور کوئی خاکروب نہ ہے اور اسی طرح یوزر کمیٹی کا آڈٹ نہ ہونا بھی ایک سوالیہ نشان ہے اورساتھ ہی ساتھ من پسنداور ڈیفالٹر لوگوں کوغیر قانونی پانی کے کنکشن دینانااہل یوزر کمیٹی کا شیوہ ہے۔

یہ کہاں کا انصاف ہے مہینے میں جان بوجھ کر وال مین کرپشن کی غرض سے موٹر خراب کا بہانا بناتے ہیں اور کبھی پائپ لائن توڑ دی جاتی ہے اور کبھی بجلی نہ ہونے کا بہانہ بنا کر صرف 9 دن پورے مہینے میں پانی عوام کو دیا جاتا ہے، وہ بھی بوند بوند اس کے علاوہ محلہ قبرستان جنوب اور محلہ جنوبی کی عوام کو تو پانی کی ایک بوند تک نہیں ملتی جبکہ اْن سے واٹر سپلائی کا بل وصول کیا جاتا ہے جس کی وجہ سے شکایات کے انبار اکٹھے ہورہے ہیں جب چیک کرنے پر معلوم ہوا کہ چند ذاتی مفاد پرست لوگ جو کہ عوام کوپانی کیلئے ترسا رہے ہیں۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button