تحصیل پنڈدادنخان میں غیر رجسٹرڈ سکولوں کی بھرمار، متعدد پرائیویٹ سکول بچوں کی زندگیوں کیلئے خطرہ

پنڈدادنخان: تحصیل پنڈدادنخان میں غیر رجسٹرڈ سکولوں کی بھرمار، خستہ حال بلڈنگز سہولیات کی عدم دستیابی، ایکسپری رجسٹریشن متعدد پرائیویٹ سکول بچوں کی زندگیوں کے لیے خطرہ، بھاری فیسیں وصول کرنے والے سکولوں میں سہولیات تشہیر تک محدود، پابندی کے باوجود سکولوں میںکتابوں اور یونیفارم کی فروخت چھٹی کے نام پر پانچ سو روپے یومیہ جرمانے کے نام پر غریب عوام کو لوٹنے کا سلسلہ سکول فیکٹریوں میں تبدیل، انسپکشن ٹیموں کی پراسرار خاموشی سوالیہ نشان بن گئی۔

تفصیلات کے مطابق محکمہ تعلیم کی عدم توجہی کے باعث تحصیل پنڈدادنخان میں پرائیویٹ سکولوں کی بھرمار درجنوں غیر رجسٹرڈ سکول قائم تحصیل بھر میں دو دو کمروں کی خستہ حال بلڈنگز میں بنائے گئے سکولوں میں سہولیات کی عدم دستیابی ہے جبکہ بڑے سکولوں میں تعلیم کے نام پر کاروبار کیا جارہا ہے جہاں پر کتابوں اور یونیفارم کے ساتھ ساتھ ٹک شاپس پر غیر معیاری اشیا کے من مانے ریٹ وصول کیے جاتے ہیں اور بچوں کی یومیہ چھٹی پر پانچ سو روپے جرمانہ وصول کیا جاتا ہے۔

سکول ٹیچرز کو بچوں کو رٹا لگوا کر پاس کرنے کا ٹارگٹ دیا جاتا ہے جبکہ والدین کو ذہنی طور پر مطمئن کرنے کے نام پر غیر نصابی سرگرمیوں کے خرچ میں الجھا دیا گیا ہے، دوسری طرف چھوٹے غیر رجسٹرڈ سکولوں میں سکول ٹیچر کی تنخواہ 3500 سے 4000 ہزار تک رکھی گئی ہے۔

ذرائع نے انکشاف کیا ہے کہ ا یسے سکول مالکان خود تعلیم یافتہ نہیں اور سکول کھولنے کے اہل بھی نہیں ہیں سکول میں بچوں کیلئے پینے کا پانی تک دستیاب نہیں ہے۔

سماجی حلقوں نے اعلی حکام سے مطالبہ کرتے ہوئے کہا کہ ہنگامی بنیادوں پر تحصیل بھر کے پرائیویٹ سکولوں کی ا نسپیکشن کا سلسلہ شروع کرکے ٹیموں کو متحرک کیا جائے تاکہ تعلیم کے نام پر چلنے والی سکول فیکٹریاں بند ہو سکیں اور بچے اچھے اور محفوظ ماحول میں تعلیم حاصل کرسکیں۔

یاد رہے کہ گزشتہ روز بھی پرائیوٹ سکول کی خستہ حال چھت گرنے سے دس بچے ملبے تلے دب کر شدید زخمی ہوگئے تھے۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button