بندگی نتائج دیکھ کر نہیں کی جاتی بلکہ بندگی تعمیل حکم کا نام ہے۔ امیر عبدالقدیر اعوان

دینہ: بحیثیت مسلمان ہم اللہ کریم کے تمام احکامات کو مانتے ہیں اسی طرح جو ارشادات آپ ﷺ نے فرمائے اُن کو بھی مانتے ہیں لیکن ہمارے اعمال کیسے ہیں کیا ہماری عملی زندگی اس بات کی شہاد ت دیتی ہے کہ واقعی اُن احکاما ت پر ہم اپنی پوری کوشش اور دل کی اتھا گہرائیوں سے عمل پیرا ہیں،یاد رکھیں جب تک ہمارا باطن اُس درجے کی پاکیزگی حاصل نہ کرے گا کہ ہمارا ظاہر اس کی گواہی دے اس وقت تک ایمان کامل نہیں ہو سکتا۔

ان خیالات کا اظہار امیر عبدالقدیر اعوان شیخ سلسلہ نقشبندیہ اویسیہ و سربراہ تنظیم الاخوا ن پاکستان نے خطاب کرتے ہو ئے کیا۔ انہوں نے کہا کہ جب باطن میں تبدیلی آتی ہے تو اس کا اثر دیر پا ہوتا ہے اور جب صرف ظاہر تبدیل ہو تو وہ وقتی اور لمحاتی ہوتی ہے، جذبات ہوتے ہیں جب ان کا اثر ختم ہوتا ہے تو تبدیلی بھی ختم ہو جاتی ہے لیکن جب نہاں خانہ دل میں نور ایمان راسخ ہو جائے پھر جو باطن میں تبدیلی آتی ہے وہ ظاہر پر بھی اثر انداز ہوتی ہے اور دیرتک رہتی ہے ،اسی لیے اللہ کی یاد کو دل میں بسانے کے لیے محنت کرائی جاتی ہے تا کہ اگر کہیں کمی بیشی بھی ہوجائے تو اللہ کی یاد پھر اُس کے حضور معافی کا سبب بنتی ہے بندے کو اس کمی بیشی سے بھی نجات مل جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ حضرت ابراہیم ؑ کو اللہ کریم نے ایسی عزت عطا فرمائی کہ رہتی دنیا تک آپ ؑ کا نام عزت و احترام سے رہے گا،اللہ کریم نے اپنے دوست خلیل اللہ کو بے شمار امتحانات سے گزارا ،اور آپ ؑ تمام امتحانات میں تعمیل حکم بجا لائے ،انبیاء معصو م عن الخطا ہوتے ہیں ان کا مجاہدہ اضطراری ہوتا ہے جس سے ترقی درجات نصیب ہوتی ہے اللہ کریم کی رضا نصیب ہوتی ہے ،اللہ کریم نے پھر آپ کو ایسی شان عطا فرمائی کہ آپ ؑ کی ادائیں رہتی دنیا تک قائم فرما دیں جیسے قربانی جو ہم کرتے ہیں اس کو رہتی دنیا تک لوگ کرتے رہیں گے یہ حضرت ابراہیم ؑ کی وہ سنت جسے نبی کریم ﷺ کو بھی اپنانے کا ارشاد فرمایا گیا۔

انہوں نے کہا کہ مائی صاحبہ کی وہ تڑپ آپ کے قدم اُٹھانا اللہ کے حضور اتنے مقبول ہوئے کہ اللہ کریم نے آپ کی ادا کو حج کا رکن بنا دیا ،یہ وہ معاملے ہیں جو اللہ اور اس کے رسول ﷺ کے مابین ہیں،بندگی نتائج دیکھ کر نہیں کی جاتی بلکہ بندگی تعمیل حکم کا نام ہے ،بندگی ہر حصے کی استعداد کو بروئے کار لانے کا نام ہے ،نیک اولاد بہترین صدقہ جاریہ ہے ،حضرت ابراہیم ؑ کو اللہ کریم نے امامت عطا فرمائی اور امامت سے مراد بندگی ہے ،ہر پہلو سے نہاں خانہ دل سے ظاہر تک ہمہ تن پوری توجہ سے تعمیل میں لگ جانا کیونکہ کوئی بھی ذمہ دار عام لوگوں سے زیادہ ذمہ داری ادا کررہا ہوتا ہے،اللہ کریم صحیح شعور عطا فرمائے۔

آخر میں انہوں نے ملکی سلامتی اور بقا کی اجتماعی دعا فرمائی ۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button