منگلا ہائیڈل پاور سٹیشن کی اپ گریڈیشن کا منصوبہ، یونٹ نمبر 5 اور 6 کی اپ گریڈیشن کا عمل مکمل

یو ایس ایڈکی گرانٹ سے منگلا ہائیڈل پاور سٹیشن کی اپ گریڈ یشن پر اجیکٹ کے تحت یونٹ نمبر5 اور 6 کی اپ گریڈیشن کا عمل مکمل کر لیا گیا ہے اور ان دویونٹوں سے بجلی کی پیداوار شروع ہو چکی ہے۔ اپ گریڈیشن سے پہلے اِن میں سے ہر یونٹ کی پیداواری صلاحیت 100 میگاواٹ تھی، جوبڑھ کر اب 135 میگاواٹ فی یونٹ ہو گئی ہے یعنی دونوں یونٹس سے بجلی پیدا کرنے کی مجموعی صلاحیت 200 سے بڑھ کر 270 میگاواٹ ہوگئی ہے۔

اِس موقع پر یو ایس ایڈ کی مشن ڈائریکٹرجولی کونین (Julie Koenen) نے وفد کے ہمراہ منگلا ہائیڈرو پاور سٹیشن کا دورہ کیا اور اپ گریڈکئے گئے یونٹوں سے بجلی کے پیداواری عمل کا مشاہدہ کیا۔ دونوں یونٹوں سے بجلی کی پیداوار شروع ہونے کے حوالے سے اُنہوں نے ایک یاد گار ی تختی کی نقاب کشائی بھی کی۔ ممبر(پاور) واپڈا جمیل اختر، منگلا ڈیم کے جنرل منیجر، منگلا ریفربشمنٹ پراجیکٹ ڈائریکٹر اور دیگر بھی اِس موقع پر موجود تھے۔

یو ایس ایڈ کی مشن ڈائریکٹر نے کہا کہ یہ بحالی منصوبہ منگلا ڈیم کی تعمیر میں ہماری طویل شراکت داری پر استوار ہے۔ اُنہوں نے کہا کہ ہمارے لئے یہ با ت فخر کا باعث ہے کہ ہم منگلا ڈیم سے سستی بجلی اور زراعت کے لئے پانی سمیت دیگر فوائد حاصل کرنے کیلئے واپڈا کے اقدامات میں اِن کے شراکت دار ہیں۔

اُنہوں نے کہا کہ جس دور میں منگلا ڈیم تعمیر کیا گیا تھا اُس زمانے میں یہ اپنی نوعیت کا یعنی مٹی کی بھرائی سے بنایا گیا دُنیا میں سب سے بڑا ڈیم تھا۔ یہ نہ صرف انجینئرنگ کے شعبہ میں متاثر کن کامیابی ہے بلکہ پاکستان۔ امریکہ کی دیرینہ دوستی اور اقتصادی تعاون کی بھی مثال ہے۔

قبل ازیں ممبر(پاور) واپڈا نے اپنے خیر مقدمی کلمات میں یوایس ایڈ کی جانب سے پاکستان کے پاور سیکٹر خصوصاً منگلا اپ گریڈیشن پراجیکٹ میں بھر پور تعاون پر اِن کا شکریہ ادا کیا۔

اُنہوں نے پن بجلی کے ذرائع سے بھر پور استفادہ کیلئے واپڈا کی دوجہتی حکمت ِ عملی کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ واپڈا نہ صرف نئے پن بجلی منصوبے تعمیر کر رہا ہے بلکہ منگلا ہائیڈل پاور سٹیشن سمیت پرانے پن بجلی گھروں کی مرمت اور اپ گریڈیشن پر بھی کام کر رہا ہے تاکہ نیشنل گرڈ میں سستی اور ماحول دوست پن بجلی کا تناسب بڑھایا جاسکے۔

یہ بات قابلِ ذکر ہے کہ منگلا ڈیم ریزنگ پراجیکٹ کی تکمیل کے بعد پانی کی اضافی مقدار میسر آنے اور منگلا ہائیڈل پاور سٹیشن میں بجلی پیدا کرنے کی مشینری اور آلات پرانے ہونے کی وجہ سے منگلا ہائیڈل پاور سٹیشن کی اپ گریڈیشن کے منصوبے پر کام کیاجا رہا ہے۔ منصوبے کا منظور شدہ پی سی۔ون 52 ارب 22 کروڑ 40 لاکھ روپے پر مشتمل ہے۔ یو ایس ایڈ منگلا اپ گریڈیشن پراجیکٹ کیلئے 150 ملین ڈالر بطور گرانٹ دے رہا ہے، جبکہ بقیہ رقم کا انتظام واپڈا اپنے وسائل اور قرض کے ذریعے کر رہا ہے۔

منگلا اپ گریڈیشن منصوبے کی تکمیل پر منگلا ہائیڈل پاور سٹیشن کی موجودہ پیداواری صلاحیت ایک ہزار میگاواٹ سے بڑھ کر ایک ہزار 310 میگاواٹ ہو جائے گی۔ منگلا اپ گریڈیشن پراجیکٹ کو 11 مختلف پیکیجز میں تقسیم کیا گیا ہے، جس کو مختلف مراحل میں مکمل کیا جائے گا۔ پراجیکٹ کے تحت ایک وقت میں صرف ایک سرنگ یعنی دو پیداواری یونٹوں کو بند کرکے اِن کی اپ گریڈیشن کی جائے گی۔

واضح رہے کہ منگلا ہائیڈل پاور سٹیشن کے پہلے چار یونٹ 1967ء میں نصب کئے گئے تھے،یونٹ نمبرپانچ اور چھ1974ء میں، یونٹ نمبرسات اورآٹھ1981ء میں جبکہ آخری دو یونٹ یعنی یونٹ نمبرنو اوردس 1994ء میں نصب ہوئے اور یوں منگلا ہائیڈل پاور سٹیشن کی مجموعی پیداواری صلاحیت ایک ہزار میگاواٹ تک پہنچ گئی۔

متعلقہ مضامین

جواب دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا۔

Back to top button