جہلم شہر اور مضافاتی علاقوں میں گداگروں کی یلغار، شہری پریشان ہو کر رہ گئے

0 10

جہلم: شہر اور مضافاتی علاقوں میں گداگروں کی یلغار، شہری پریشان ہو کر رہ گئے۔ گداگروں میں زیادہ تعداد خوبصورت بھکارنوں کی ہے جو حلیہ سے دوسرے اضلاع بالخصوص ملتان، ڈیرہ غازی خان کے علاقوں کی معلوم ہوتی ہیں۔

بھکارنیں جگہ جگہ شہریوں کا پیچھا کر کے زبردستی بھیک مانگنے کا مطالبہ کرتی ہیں جبکہ کم سن بچوں کو جعلی معذور بنا کر یا زخمی ظاہر کر کے اہم مقامات پر بٹھا دیتی ہیں۔ ان دنوں بھکاریوں کی بڑی تعداد نے ضلع جہلم کے مختلف مقامات جن میں لاری اڈا، ریلوے روڈ، ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال، ضلع کچہری، سبزی منڈی، بازاروں اور گلی محلوں کا رخ کر رکھا ہے جس کی وجہ سے شہریوں کے لئے گھروں میں آرام کرنا، عبادت کرنا، مسجدوں سے نکلنا، خریداری کرنا اور پیدل چلنا عذاب بن کر رہ گیا ہے۔

شہر بھر کی چھوٹی بڑی گلیوں، سڑکوں، چوراہوں، مسجدوں، ہسپتالوں، مارکیٹوں، بس اسٹینڈز پر بھکارنوں کے گھیراؤ کی وجہ سے شہری اور راہگیر شدید ذہنی اذیت کا شکار نظر آتے ہیں، ٹریفک پولیس سمیت قانون نافذ کرنے والے ادارے بھکارنوں/ بھکاریوں کے سدباب کے لئے اقدامات کرنے کی بجائے خاموش تماشائی بنے ہوئے ہیں۔

دوسری جانب گداگری ایکٹ موجود ہونے کے باوجود اس پر بھی کہیں عملدارآمد ہوتا نظر نہیں آتا، مختلف واقعات میں سامنے آیا ہے کہ یہ بھکارنیں اغواء، چوری، ڈکیتی، و دیگر وارداتوں میں بھی ملوث ہوتی ہیں اور شاپنگ کے لئے مارکیٹوں کا رخ کرنے یا پبلک ٹرانسپورٹ، چنگ چی رکشوں پر سفر کرنے والی خواتین کے موبائل فونز، طلائی زیورات اور پرس وغیرہ اڑا کر رفو چکر ہو جاتی ہیں۔

شہر پر دھاوا بولنے والی گدا گر خواتین میں کمسن بچیوں اور نوعمر لڑکیوں سمیت نوجوان خوبروہ لڑکیاں اور عمر رسیدہ خواتین بھی شامل ہیں۔ انہوں نے بھیک مانگنے کے نت نئے طریقے ایجاد کر رکھے ہیں خواتین کی اکثریت شیر خوار بچوں کو گود میں اٹھا کر بچوں کی کئی روز کی بھوک یا مہلک مرض میں مبتلا ہونے کا حوالہ دے کر اور دیگر مختلف حربے استعمال کرتی اور بھیک وصول کئے بغیر پیچھا نہیں چھوڑتیں۔

شہریوں نے ڈی پی او سے صورتحال کا نوٹس لینے کا مطالبہ کیا ہے۔

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.