تعلیمی اداروں کے مالکان پڑھے لکھے نوجوانوں کا استحصال کرنے میں مصروف

0 182

جہلم: محکمہ لیبر کے ذمہ داران کی ملی بھگت تعلیمی اداروں کے مالکان پڑھے لکھے نوجوانوں کا استحصال کرنے میں مصروف، محکمہ لیبر کے ذمہ داران لمبی دیہاڑیاں لگانے میں مصروف، لیبر انسپکٹرز کی کارکردگی سوالیہ نشان بن گئی، شہر سمیت ضلع بھرمیں قائم پرائیویٹ تعلیمی اداروں سمیت دیگر نجی اداروں کے مالکان کی لوٹ مار کا بازار گرم، اعلیٰ تعلیم یافتہ بے روزگار نوجوان انتہائی کم اجرت پر 14/16 گھنٹے نو کریاں کرنے پر مجبور ہیں۔

تفصیلات کے مطابق غریب سفید پوش طبقہ سے تعلق رکھنے والے پڑھے لکھے نوجوان سرکاری اداروں میں ملازمتیں نہ ملنے کی وجہ سے پرائیویٹ اداروں میں انتہائی کم اجرت پر خدمات سرانجام دینے پرمجبور ہیں جہاں نوجوانوں سے ہر قسم کی خدمات لی جاتی ہیں۔

حکومت پنجاب نے محنت کشوں کے لئے باقاعدہ مرعات کے لئے نوٹیفکیشن جاری کر رکھا ہے جس کے مطابق محنت کشوں سے 8 گھنٹے ڈیوٹی لینے اور کم از کم 25 ہزار روپے تنخواہ مقرر کر رکھی ہے۔ محکمہ لیبر کے متعلقہ ذمہ داران کی مالکان کے ساتھ ملی بھگت کیوجہ سے محنت کشوں کو 14 سے 16 گھنٹے ڈیوٹیاں کرنی پڑتی ہیں اور تنخواہ بھی نصف ادا کی جاتی ہے۔

انتہائی باوثوق ذرائع سے معلوم ہوا ہے کہ بیشتر مالکان ملازمین کو سرے سے تنخواہ ادا ہی نہیں کرتے جبکہ محکمہ لیبر نے چند سال قبل تک اپنی عدالت مقرر کررکھی تھی جہاں محنت کشوں کے مسائل حل کئے جاتے تھے جو کہ نامعلوم وجوہات کی بناء پر غیر فعال ہو چکی ہے، محکمہ لیبر کے انسپکٹرز دکانداروں، نجی اداروں کے مالکان کے پاس ہر ماہ کے شروع میں جاتے ہیں اور وہاں سے مقررہ پیسے وصول کرکے سب اچھا ہے کا راگ الاپتے دکھائی دیتے ہیں۔

پڑھے لکھے نوجوانوں نے چیف جسٹس آف پاکستان سے مطالبہ کیاہے کہ محکمہ لیبر کو فعال بنایا جائے اور حکومت کی طرف سے مقرر ہ کئے جانے والے اوقات کار اور تنخواہیں ادا کرنے کا پابند بنایا جائے تاکہ غریب سفید پوش طبقہ سے تعلق رکھنے والے نوجوانوں کے مسائل کا خاتمہ ممکن ہو سکے۔

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.