حکومت دودھ کی بجائے سگریٹ، نسوار پر ٹیکس بڑھا کر مطلوبہ ریونیو حاصل کرے۔ سماجی حلقے

0 21

جہلم: حکومت بچوں کے دودھ کی بجائے سگریٹ، نسوار پر ٹیکس بڑھا کر مطلوبہ ریونیو حاصل کرے۔ اشیاء ضروریہ پر نافذ ٹیکسز کے خاتمے کا اعلان کیا جائے۔

ان خیالات کا اظہار شہر کی سماجی تنظیموں کے عمائدین سمیت تمام مکاتب فکر سے تعلق رکھنے والے افراد نے اخبار نویسوں سے خصوصی گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ عمائدین کا کہنا ہے کہ حکومت روز مرہ کے استعمال کی اشیاء پر ٹیکسز لاگو کرنے کی بجائے تمباکو ، سگریٹ ، نسوار سمیت مہلک نشہ آور اشیاء پر ٹیکس عائد کرے۔

انہوں نے کہا کہ تمباکو کے استعمال کے اخراجات معیشت اور صحت عامہ پر منفی اثرات کے لحاظ سے زیادہ ہیں۔ تمباکو کے استعمال سے روزانہ درجنوں افراد موت کے منہ میں چلے جاتے ہیں۔

انہوں نے مزید کہا کہ 6 سے 15 سال کی عمر کے تقریبا سینکڑوں پاکستانی بچے روزانہ سگریٹ نوشی شروع کرتے ہیں۔ پاکستان کے بچے سب سے زیادہ سگریٹ نوشی کا شکار ہیں۔ تمباکو ، سگریٹ، نسوار پر بھاری ٹیکسز عائد کرنے چاہیے، اس طرح اشیاء ضروریہ پر لگائے جانے والے ٹیکسز کے باعث عام لوگوں کے لیے یہ بوجھ برداشت کرنا مشکل ہو جائے گا۔

عمائدین کا کہنا ہے کہ معصوم بچوں کے دودھ پر ٹیکس عائد کرنے کی بجائے ایسی اشیاء پر ٹیکس نافذ کئے جائیں جو عیاشی کے زمرے میں آتیں ہیں، حکومت ٹیکس بھی حاصل کرے گی اور وہ تمام اشیاء جو عیاشی کے زمرے میں آتی ہیں ان کا خاتمہ بھی ممکن ہوجائے گا۔

اپنی رائے دیں

آپ کا ای میل ایڈریس شائع نہیں کیا جائے گا.